” میدان صاف ہے “
17 اگست 2018 2018-08-17

میں اِس بات پر اپنی رائے نہیں دینا چاہتا کہ بلاول بھٹو، یعنی پیپلز پارٹی میاں شہباز شریف کو وزیر اعظم منتخب کرانے کیلئے ووٹ دے گی یا نہیں اور متحدہ ووٹ دینے کے لیے کیا قیمت وصول کرے گی، اس سے پہلے بھی متحدہ کی ” مچھلی“ جو اقتدار کی گنگا میں نہائے بغیر نہیں رہ سکتی ، مگر وہ اِسے پاک اور ” پوتر “ ہونیکا نام دے کر بابر غوری صاحب کو ، گنگا کی بجائے مخالفین کا دنگا فساد روکنے کیلئے ” سمندر“ SHI کی وزارت کی افادیت جانتے ہوئے عرصے سے مستفید ہو رہی ہے ۔ اور باقی ” بکی ہوئی “ جماعتوں کا رویہ کیا ہوگا، اس سے کیا غرض میدان صاف ہے ، بلکہ ” رولر “ بھی پھر دیا گیا ہے ۔ اب کھل کے کھیلیں، اب بھی چوکے اور چھکے نہ لگے تو ہماری قسمت۔ تاہم اس حوالے سے جناب ایاز صادق سابق سپیکر قومی اسمبلی نے نہایت عقلمندانہ بات کی ہے ، کہ انسان کو کبھی ایسی بات نہیں کہنی چاہئے کہ اُسے بعد میں پچھتاوا ہو۔ کیونکہ ایاز صادق صاحب کی باتوں کا اطلاق ، تمام جماعتوں کے سربراہوں پر ہوتا نظر آتا ہے ، مگر بطور خاص کسی شخصیت کی ” خفت “ اور احساس شرمندگی دیدنی تھی ایاز صادق نے ایک پیشن گوئی بھی کی کہ شیریں مزاری ، وہ غوری میزائیل ہیں، کہ وہ حکومت میں بھی نہیں رہ سکتی، اب ایاز صادق صاحب نے یہ گہری اور قیمتی بات کر کے اپنے خلیق ہونے کا با احسن طریق اور برملا اظہار شاید اپنے سابقہ تجربے کی بنیاد پر تو کر دیا، مگر یہ سمندروں سے گہری بات ، کم فہموں کے لیے راز، مگر فہم و متین لوگوں کے لئے واشگاف، بلکہ بے باک الفاظ میں تنبہہہ بھی ہے ۔ اور سلجھنے اور سمجھنے کا سبق بھی۔ لٰہذا الجھنے سے گریز کرنا چاہئے ، جذبات بھڑکانے سے شاید ووٹ تو مل جاتے ہیں، مگر بعد میں آنکھیں چار کرنے کی بجائے خلاﺅں اور فضاﺅں میں تکنا پڑتا ہے ، تا کہ مصافحے و معانقے کی ضرورت پیش نہ آئے، پیپلز پارٹی کی ایک شخصیت نے تمام تر علم و آگہی کے باوجود دوسرے حکمران کو کہا تھا کہ میں اِس کی مونچھوں سے اپنی جوتی کے تسمے بناﺅں گا اور پھر یہی بازگشت ، ماضی قریب میں بھی سُنی گئی۔
اختلاف و اعتراض اپنی جگہ ، مگر اخلاقیات کا دامن ، کبھی بھی ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہئے، دشمن کو کمزور سمجھنا بھی در اصل نادانی اور کم عقلی ہی کی ایک قسم ہے میرا خدا گواہ ہے کہ میری کوشش ہوتی ہے کہ لکھتے وقت میں غیر جانبدار ہو کر لکھوں۔
بقول سید مظفر علی شاہ
کوئی طلب ہے یہاں پر نہ کچھ غرض مُجھ کو
میں تیرے حکم سے فکر جہان کرتا ہوں!
میں غور کر رہا تھا کہ عمران خان کو اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ملتِ اسلامیہ کے ایٹمی ملک کو سربراہی کیوں سونپی ہے ؟ اس ضمن میں مجھ جیسے کاہل کو کاوش و کوشش کر کے کانٹوں پہ لوٹنے کی کیا ضرورت ہے ، خدا کی اِس دین کے پیچھے، یہ بات ہی قابل ستائش ہے کہ عمران خان نے آیات جبار، خیبر پختونخوا کے تعلیمی نصاب میں دوبارہ شامل نصاب کیں۔ جو مشرف جیسے مطلق انسان ، انسان نما حکمران نے نکلوا دی تھی۔ معاذ اللہ ، یہ حرکت تحریف قرآن ہے ، مگر جنرل ضیاءالحق نے یہ سعادت حاصل کی کہ اُس نے ہماری افواج کو اللہ کی سپاہ بنا دیا، فوج نے شراب نوشی بند کرا دی اور فوجی یونٹوں میں مساجد تعمیر کرائیں، اگر اُنہیں کچھ اور مہلت مل جاتی تو وہ حقیقی معنوں میں عالمی طاقت کو ناکوں چنے چبواتے،
ایک دفعہ جب ، جنرل اختر عبدالرحمن نے غالباً وہ اُس وقت آئی ایس آئی کے سربراہ تھے، اُن کو ایک امریکی وفد خاص طور پر ملنے آیا، اور اُنہوں نے مخبری کر کے بتایا کہ ہم آخر کار اس کوشش میں کامیاب ہو گئے ہیں کہ ہم آپ کو بتا سکیں کہ افغان جنگ میں ملوث ، روسی جنرلوں کے نام آپ کو بتا سکیں۔ اس پہ جنرل اختر عبدالرحمن نے کہا کہ یہ ایسی کون سی خاص خبر ہے ، ہمیں تو نہ صرف ان کے نام معلوم تھے، بلکہ ہمارے ” بندے “ اُن کے گھروں میں ملازم ہیں۔ اِس ملاقات کی رپورٹ جب جنرل عبدالرحمن نے صدر ضیاءالحق کو دی تو اُنہوں نے اپنے ماتھے پہ ہاتھ مار کر کہا کہ جنرل اختر .... تم نے بُہت بڑی غلطی کی تمہیں یہ اپنا راز فاش نہیں کرنا چاہئے تھا.... یہ تو تھی، جنرل اختر عبدالرحمن کی غلطی، ایک غلطی خود اُن سے سر زد ہوئی، جس کی بنا پر امریکہ نے یہ فیصلہ کیا کہ جنرل ضیاءالحق کو عالمی منظر سے غائب کر دیا جائے۔
انہوں نے ایک دفعہ کہا تھا کہ ہم روسی فوجوں کو شکست دینے کے بعد انشاءاللہ اپنے ان مجاہدین کو مقبوجہ کشمیر میں بھیج کر ، کشمیر کو آزاد کرالیں گے، اور اس طرح ضیاءالحق ، کشمیر پر قربان ہوگئے.... عبوری وزیر قانون کا الیکشن کمشنر پر اعتراض دِکھاوا اور مطلوبہ اہدافات کے غلط اعداد و شمار پر اظہار تاسف کے باجوود کامیابی جبکہ بلاول کی بچگار ہنسی و مسکراہٹ پر اور تحریک انصاف کی کامیابی پہ بطور خاص ، جو مودی حکومت کے تاثرات و خیالات اور اُن کے کھلاڑیوں کے پاکستان آنے ، اور تقریب حلف برداری میں شمولیت کا آج کل چرچا ہے ، یہ ایسی سازش ہے ، کہ جس کو مودی کامیاب سفارتکاری کے ذریعے ، اور ٹرمپ کو استعمال کر کے فعال کرنا چاہتا ہے ، مودی کا صرف یہ بیان ، ہماری نئی حکومت کو ذہن میں رکھنا چاہئے اور اپنی خارجہ پالیسی کا محور و مرکز انہیں خطوط پہ استوار کرنا چاہئے۔
مودی نے ایک بیان دیا ہے ، کہ میں پاکستان کی نئی حکومت سے اُمید کرتا ہوں کہ وہ اپنے ملک میں ” دہشت گردی “ کا خاتمہ کرے گی، یہ بیان اصل میں اُس نے عالمی ذرائع ابلاغ کے ذریعے ، عالمی دہشت گرد تک پہنچا دیا ہے ۔
مگر تف ہے ، اہنسا کے بچاریوں اور ظالموں کے حواریوں پہ کہ جو حقائق کو مسخ کرتے ، اور صداقت کو چھپا کر اپنے اغراض حریصانہ، اور اکھنڈ کے پاکھنڈ کی تکمیل کیلئے ، ظلم و استبداد کو بھی جواز کا نام دے دیتے ہیں۔
ہیں ہمیں ہمدردیاں مظلوم سے
اور ظالم کو سزا دیتے نہیں !
غالباً مئی یا اپریل میں ایک خبر آئی تھی، کہ خیبرپختونخوا کے سرحدی علاقے میں اقوام متحدہ کے ادارے برائے مہاجرین یو این ایچ ایس کے زیر انتظام چلنے والے افغان مہاجرین کے سکولوں میں پاکستان مخالف نصاب پڑھایا جا رہا ہے ، واضح رہے کہ ان سکولوں کی تعداد 101 ہے ، اور نصاب میں تبدیلی کی حکومت پاکستان سے کوئی منظوری بھی نہیں کی گئی اور اس میں بھارت کو افغانستان کے دوست مُلک کے طور پر شامل کیا گیا ہے ، اور اِس کے علاوہ گلگت بلتستان اور کشمیر کو بھارت کا حصہ دِکھایا گیا ہے ، گلگت کی حالیہ دہشت گردی اس کا بین ثبوت ہے ۔
محکمہ داخلہ و قبائلی اُمور نے افغان کمشنر بٹ کو شکایتی مراسلہ ارسال کیا نئے نصاب میں انگلش کی کتابوں میں ہر صفحے پہ افغانستان کا جھندا نمایاں ہے ،
قومی اسمبلی میں بھی قائمہ کمیٹی میں اِس پر بحث کی گئی تھی، حقیقت یہ بھی ہے کہ بھارت پاکستان کو نقصان پہنچانے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا، میں بات کر رہا تھا جنرل ضیاءالحق مرحوم کے بارے میں جنکی خالصتان کی آزادی اور آزادی کشمیر کی کوششوں یہ پانی پھیرا جا رہا ہے جن کے بارے میں شام سنگھ کہتے ہیں کہ ہم اُس ہمدرد و غم گُسار کو کیوں نہ یاد کریں کہ جو ہمارے دُکھ دَرد کا ساتھی ہے ، اور ہمیں ہمیشہ گلے سے لگایا ہے ، اور وہ بے پناہ خوبیوں کا مالک ہے ، اور ہمیں اِس کے علاوہ کوئی ایسا دوسرا شخص نظر نہیں آتا، کہ جو ہمیں اور کشمیری مظلوموں کو آزادی کی سحر دکھا سکے، یہ کافی بڑی بڑی نظم کا اقتباس ہے ، جو برادرم مسعود شورش کے اخبار چٹان کے دفتر میں شیام سنگھ نے جن کے ساتھ ایک تفصیلی ملاقات ہوئی تھی، بطور خاص مجھے دی تھی، اور کہا تھا ہمارے حریت پسند جوانوں کی فہرست ، بھارت کو دے کر اعتزاز احسن نے ہماری پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے ، اور جنہوں نے اپنے ملک کی بجائے بھارت کا ساتھ دیکر کس بات کا ثبوت فراہم کیا ہے ، تحریک انصاف کو اِن جیسے محبِ وطن عناصر سے بھی محتاط رہنا ہوگا، میں ایک دفعہ پھر اپنی بات دوہراتا ہوں کہ ہمیں داخلہ پالیسی سے زیادہ خارجہ پالیسی پر زیادہ زور دینا ہوگا۔


ای پیپر