تِرے اندر آب حیاتی ہو....
17 اگست 2018 2018-08-17

چند روز قبل ایک کالم میں تصوف کے حوالے سے کچھ باتیں لکھی گئیں۔ خلافِ توقع قارئین نے اسے بہت پسند کیا۔ اپنے بارے میں اپنے ہی کالم میں کچھ لکھنا پسند نہیں، نہ ہی مجھے میں ، میں کی تکرار بھلی لگتی ہے۔ یہ ضرور ہے کہ ہر بندہ بشر تعریف سن کر خوش ہوتا ہے۔ ” دل بیدار پیدا کر “ میں دل کے حوالے سے کچھ باتیں تحریر ہوئیں تو بہت سے سینئر احباب نے بھی حوصلہ افزائی کی بابا یحیٰ خان نے لندن سے پیغام ریکارڈ کر کے بھیجا اور خاکسار کی دلجوئی کی۔ کہا ” میں حیران ہوں آپ نے اتنی خوبصورت تحریر کیسے لکھی؟ بڑا لطف آیا ہے میں بار بار پڑھ رہا ہوں۔ “ بابا یحییٰ خان نے اس سے آگے بھی کچھ باتیں کیں مگر وہ کچھ زیادہ ہی تعریف پر مبنی تھیں اس لیے چھوڑ رہا ہوں۔
مجھے اپنے قائین پر رعب نہیں ڈالنا۔ بس بتانا مقصود یہ تھا کہ سیاسی بھاشنوں پر مبنی کالموں کے علاوہ بھی بعض موضوعات کو پسند کرنے والے موجود ہیں۔
نواز کھرل ہمارے دیرینہ دوستوں میں سے ایک ہیں اکثر تجویز دیتے ہیں کہ اس خاکسار کو سیاست کی بجائے صوفیانہ موضوعات پر لکھنا چاہئے ۔ عطاءالحق قاسمی نے بھی مشورہ دیا کہ میں سیاست پر نہ لکھوں اور اپنے پسندیدہ موضوعات ، تصوف، روحانیت ادب شناخت اور ان کُل وقتی موضوعات کو موضع بناﺅں جو کبھی ” پرانے “ نہیں ہوتے۔ لیکن ظاہر ہے بندہ اپنے ارد گرد سے بے نیاز بھی نہیں رہ سکتا۔ جہاں تک سیاست کا تعلق ہے ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ عمران خان ہو یا میاں صاحبان ہم نے کسی سے کیا لینا ہے۔ جنہیں اپنے کالموں (قصا ئد ) کے عوض مراعات، عہدے اور دیگر اعزازات حاصل کرنے ہیں وہ ایسی قصیدہ خوانی کو بھی بُرا نہیں سمجھتے۔ بیدل حیدری کا شعر یاد آگیا ہے۔
میرے ہم عصروں نے شاہوں کے قصیدے لکھے
میرے حصے میں بغاوت کے ترانے آئے
شعر بھی یونہی یاد آگیا، مجھے بغاوت کے ترانے لکھنے یا قلم کو چھانٹا یا کوڑا بنانے کا بھی کوئی شوق نہیں ہے۔ مجھے اپنے قارئین سے دل کی باتیں کرنا ہوتی ہیں۔ سو کچھ نہ کچھ لکھتا رہتا ہوں۔ یہ میرے اللہ کا خاص کرم ہے کہ میری تحریروں کو پسند کیا جاتا ہے۔ فون، ای میل ، وٹس آیپ اور فیس بک پر بھی قارئین کی ” فیڈ بیک “ سے اندازہ ہوتا ہے کہ خاکسار کی حوصلہ افزائی جاری ہے۔
جہاں تک تصوف یا صوفیانہ مضامین کا تعلق ہے میں تو ان ہستیوں کے پاﺅں کی خاک بھی نہیں جنہوں نے ان روشن موضوعات پر خامہ فرسائی کی۔ البتہ میں تصوف کا طالب علم جرور ہوں اور جہاں سے کوئی اچھی بات ملے باندھ لیتا ہوں۔ مجھے اپنے صوفی شعرا پسند ہیں۔ میاں محمد بخش ؒ ہوں، سلطان باہو ؒ، وارث شاہ یا بلھے شاہ ؒ بابا فرید یا شاہ حسین ؒ سبھی جان و دل سے عزیز ہیں۔
ابھی کچھ دیر قبل حضرت سلطان باہو ؒ کے شعر نے مجھے حصار میں لے رکھا تھا۔
ایہہ تن رب سچے دا حجرہ وچ پا فقیرا جھاتی ہُو
نہ کر مِنت خواجہ خضر دی تیرے اندر آب حیاتی ہو
کتنے عمدہ انداز میں خود کو پہچاننے کے عمل بارے بات کی گئی ہے گویا مَن± عَرَفَ نَف±سَہ¾، فَقَد± عَرَفَ رَبَّہ¾ کی شاندار تفسیر ہے
علامہ اقبال ؒ فرماتے ہیں۔
اپنے مَن± میں ڈوب کر یا جاسراغِ زندگی
تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن اپنا تو بن
اکیسویں صدی کا انسان عجیب بھاگ دوڑ میں ہے۔ اُسے کسی کل چین نہیں۔ شاید وہ حقیقی سکون اور سچی خوشی کی تلاش میں ہے جو بے پنا دولت ، جائیدادوں اور دنیاوی عہدوں اور اعزازوں سے بھی حاصل نہیں ہوتی۔ ابھی پنجاب اسمبلی میں ہنگامہ آرائی دیکھ کر حیرت ہو رہی تھی کہ یہ ہمارے نمائندے ہیں یہ سبھی پڑھے لکھے بھی کہلاتے ہیں کس طرح ایک دوسرے کے خلاف شور و غل میں مصروف دکھائی دیئے۔ اسمبلی تو ڈسپلن کا نمونہ ہونی چاہئے۔ لاکھوں کروڑوں خرچ کر کے ہم ” خادم “ بنتے ہیں۔ پھر کیا خدمت کرتے ہیں؟ عوام سے تو ہم منہ چھپاتے پھرتے ہیں اپنے جاہ و چشم کے لیے حکومتی کاندھے استعمال کیے جاتے ہیں۔ حالانکہ ہمارے پنجابی صوفی شعرا ہمین بتاتے رہتے ہیں۔
سدا نہ باغی بلبل بولے سدا نہ باغ بہاراں
سدا نہ ماپے حُسن جوانی سدا نہ صحبت یاراں
سدا نہ لاٹ چراغاں والی سدا نہ سوز پتنگاں
سدا اڈاراں نال قطاراں رہن کدکلنگاں
کجھ وساہ نہ ساہ آئے دا مان کیہا فیر کرنا
جس جشے نوں چھنڈ چھنڈ رکھیں خاک اندر ونج دھرنا
حقیقی راحت اور خوشی ہمیں فطرتاً پسند ہے مگر ہم اپنے باطن سے کٹ کر ” تنہا “ ہوگئے ہیں۔ فطرت سے دُوری نے ہمیں بے حِس کر دیا ہے۔ من میں جھانکنے سے ہی انسان خود تک پہنچ سکتا ہے۔ مگر ہمارے پاس تو غور و فکر کے لیے وقت نہیں۔ ہمارے پاس تو اپنی صحت کے لیے سوچنے کا وقت بھی نہیں۔ جب ہم اپنے لیے بھی وقت نہیں نکال سکتے تو سچی خوشی اور سکون کیسے حاصل کریں گے۔
میں سمجھتا ہوں سچی خوشی کسی کو خوش کر کے بھی حاصل کی جاسکتی ہے۔ مگر ہم تو اڑہائی انچ کی زبان سے دن بھر سینکڑوں لوگوں کے بخیے ادھیڑتے ہیں۔ کتنے لوگوں کی دل آزاری کرتے ہیں، اپنے قول و فعل سے خود اپنا کتنا نقصان کر لیتے ہیں۔
رب تو دلوں میں رہتا ہے۔ ہم اسے چلوں وظیفوں مسجدوں مندروں میں تلاش کرتے ہیں۔ کبھی اپنے اندر جھانک کر اور دوسروں کی دلجوئی کر کے تو دیکھیں، دل کو کتنا سکون ملتا ہے۔
سچی بات ہے اگر دنیا میں آکر انسان ” بندہ “ نہیں بنتا تو پھر فائدہ کیا۔ ہم بندہ ہی نہیں بنتے؟ بزرگوں سے سنتے تھے وہ بچوں کو کسی شرارت پر کہا کرتے تھے اوئے بندہ بن ، ہم سب دل کی بیماریوں کا شکار ہیں۔ حرص، ہوس، کینہ ، بغض ، حسد ، فریب سب دل کی بیماریاں ہیں۔ پہلے دل کی بیماریوں سے نجات حاصل کیجئے پھر آگے بھی بہت کچھ دکھائی دے گا۔ حرص و ہوس نے ہمیں جھوٹ سکھایا ہم تھوڑی سی زندگی اور آسائش کے لیے خود کو ہلاکت میں ڈال لیتے ہیں۔
میں ناں ہم نادان .... !
اک پانی دا بلبلہ اے جس دا نام حیاتی
گل سمجھ آجاوے تینوں مار اندر ول جھاتی
ایہہ حیاتی اکو واری ملنی نہیں دوبارہ
جے رانجھا نہ راضی ہویا کھوہ کھاتے کم سارا


ای پیپر