Sajid Hussain Malik, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
17 اپریل 2021 (11:55) 2021-04-17

بات مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف اور کسی حد تک ان کی صاحبزادی محترمہ مریم نواز کی عمران خان کے سلیکٹرز بالخصوص آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور آئی ایس آئی جنرل فیض حمید کے نام لے لے کر اُن کو ہدفِ تنقید بنانے والے بیانیے کی ہو رہی تھی۔ مقصد مسلم لیگ ن کے ایک بہی خواہ کے طور پر اس بات کا جائزہ لینا مقصود ہے کہ اس بیانیے کی بناء پر مسلم لیگ ن کی حیثیت، اہمیت، مقام ، مرتبے، عوام میں مقبولیت اور آئندہ انتخابات میں اس کی کارکردگی پر کیا مثبت یا منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ جان کی امان پا کر یہ عرض کیا جا سکتا ہے کہ مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف کے گزشتہ اکتوبر میں PDM کے تحت گوجرانوالہ کے جلسہ عام میں سامنے آنے والے اس بیانیے کے حوالے سے یہ کہنا شائد غلط نہ ہو کہ یہ جمہوری اقدار کی پاسداری ، آئین و قانون کی بالادستی اور ووٹ کو عزت دو جیسے ان کے اصولی مؤقف یا نعروں کو تقویت دینے کا باعث تو ہو سکتا ہے لیکن یہ سمجھنا کہ اس سے مسلم لیگ (ن) کی گراس روٹ لیول پر عوامی مقبولیت اور انتخابات میں کامیابی سمیٹنے کی پوزیشن اور گنجائش میں اضافہ ہوا ہے یا ہو رہا ہے تو شائد صحیح نہیں ہوگا۔ کسی سیاسی جماعت کو عوامی مقبولیت کے لیے جس یکسوئی ، ہم آہنگی ، ہم رنگی، عوامی سطح پر نیک نامی اور کارکردگی اور قائدین کی سطح پر ہم خیالی اور اتفاق رائے جیسے تقاضوں کو پورا کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ مسلم لیگ ن موجودہ حالات میں اس معیار پر پورا نہیں اترتی۔ اسے المیہ ہی سمجھا اور کہا جا سکتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) کے صدران کے برادر اصغر میاں محمد شہباز شریف کے باہمی ادب و احترام میں گندھے برادرانہ رشتے کے باوجود دونوں شخصیات کے نقطہ نظر اور جماعت کی رہنمائی کے لیے اختیار کردہ لائحہ عمل میں اگر بُعد الشرقین نہیں تو بڑا اختلاف ضرور پایا جاتا ہے ۔ یہی صورتحال مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر محترمہ مریم نواز کے اختیار کردہ لائحہ عمل اور پارٹی کے صدر اور اُن کے چچا میاں شہباز شریف کی سوچ اور تجویز کردہ لائحہ عمل کی ہے۔ مریم نواز اور حمزہ شہباز شریف کے باہمی تعلقات میں سرد مہری کے ساتھ نقطہ نظر اور لائحہ عمل میں اختلاف کی صورتحال بھی صورتحال اس سے ملتی جلتی ہے۔ اس کے ساتھ بعض لیگی راہنماؤں اور مسلم لیگ (ن) سے وابستگی یا تعلق رکھنے والے دانشوروں اور صحافیوں کی طرف سے شہباز شریف کو ان کے مفاہمانہ اور مصالحتی مؤقف پر ہدف تنقید بنانا بھی سامنے کی بات سے ان حالات میں یہ سمجھنا کہ مسلم لیگ (ن) انتخابات میں 2013 کی طرح کامیابی کی منزلیں سر کرلے گی تو اس کے بارے میں ہاں یا نا ں میں جواب دینا یا ہاں کہنا اتنا آسان نہیں ہوگا۔ یہاں ڈسکہ کے ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ ن کی اُمیدوار کی جیت کا حوالہ دے کر کہا جا سکتا ہے کہ مسلم لیگ ن کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے یا مسلم لیگ ن کو اس بیانیے کے ہوتے ہوئے آئندہ انتخابات میں کسی طرح کے خدشات اور خطرات لاحق نہیں ہو سکتے تو یہ درست نہیں ہو گا۔ ضمنی انتخابات میں جو جماعت حکومت میں ہو اس کے اُمیدوار کو کئی طرح کے فوائد یا Edge بھی حاصل ہوتے ہیں۔بہرکیف ڈسکہ کے ضمنی انتخابات کے نتائج مسلم لیگ ن کے لیے اطمینان کا باعث ضرور ہو سکتے ہیں لیکن ان کو نظیر یا Test Case بنا کر یہ سمجھنا کہ مسلم لیگ ن کامیابی کی راہ پر آگے بڑھی ہے درست نہیں ہوگا۔ 

مسلم لیگ ن کے لیے دیکھا جائے تو اصل مشکل یا چیلنج یہ ہے کہ وہ 2013ء کے عام انتخابات میں جن حلقوں سے کامیاب ہوئی تھی اور 2018ء میں کسی وجہ سے وہ حلقے اس کے ہاتھوں سے نکل گئے وہ دوبارہ کیسے ان حلقوں میں بلکہ ان کے علاوہ بھی اور کچھ حلقوں میں کامیابی کے جھنڈے گاڑ سکتی ہے۔ یہ کہنا کچھ غلط نہیں ہوگا کہ پنجاب میں بحیثیت مجموعی مسلم لیگ ن کو پچھلے کئی عشروں سے مقبولیت حاصل رہی ہے۔ لاہور سمیت وسطی پنجاب اس کا گڑھ رہا ہے۔ تو شمال مغربی پنجاب جس میں راولپنڈی ڈویژن کے اضلاع جہلم ، چکوال، اٹک اور راولپنڈی شامل ہیں یہ بھی تاریخی طور پر مسلم لیگ ن کے ووٹرز کے بڑے مراکز رہے ہیں۔ 2008ء کے عام انتخابات او ر اس بعد 2013ء کے عام انتخابات میں یہاں سے قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کی زیادہ تر نشستیں مسلم لیگ ن نے آسانی کے ساتھ جیت لی تھیں۔ 2008ء کے عام انتخابات میں شیخ رشید کو یہاں سے مسلم لیگی امیدواروں نے بڑے مارجن سے شکست دی تھی۔ 2013ء میں بھی مسلم لیگ ن کا پلڑہ بھاری رہا۔ 2018ء میں لیکن مسلم لیگ ن یہاں سے قومی اسمبلی کی ایک بھی نشست حاصل نہ کر سکی۔ اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں لیکن سب سے بڑی وجہ (کوئی مانے یا نہ مانے) بہرکیف یہ تھی کہ مسلم لیگ ن کے اُمیدوار اگر اوسط درجے کے تھے تو چوہدری نثار علی خان اور مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف کے درمیان اختلافات جو میاں صاحب کے ووٹ کو عزت دو والے بیانیے کی عملی تفسیر کی بنا پر اُبھرے تھے وہ ناکامی کا بڑا سبب بنے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کے بیانیے کے لیے جو انداز فکر و عمل مسلم لیگی قیادت نے اپنایا وہ پوری طرح اپنا اثر نہ دکھا سکا جس کا نقصان مسلم لیگی امیدواروں کو شکست کی صورت میں برداشت کرنا پڑا۔ اس کا مطلب یہ بھی لیا جا سکتا ہے کہ کسی لیڈر کاکا محض بیانیہ ہی انتخابات میں کامیابی کی ضمانت نہیں ہو سکتا۔

مسلم لیگ ن کے قائدین اگر سمجھتے ہیں کہ ہم نے آئندہ انتخابات میں کامیابی حاصل کرنی ہے تو انہیں بیانیے کے ساتھ ان عملی اقدامات کی طرف بھی توجہ دینی ہوگی جو انتخابات میں کامیابی کی ضمانت ہو سکتے ہیں۔ مسلم لیگ ن کو چاہیے کہ فوری طور پر وہ شمال مغربی پنجاب کے پنڈی ڈویژن کے قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کے ان حلقوں میں جو کبھی اس کا گڑھ سمجھے جاتے تھے کامیابی حاصل کرنے کے لیے ضروری اقدامات کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ مسلم لیگ ن کو جنوبی پنجاب کی طرف بھی خصوصی توجہ دینی ہوگی۔ PDMکی ٹوٹ پھوٹ اور پیپلز پارٹی کے اس کو چھوڑ دینے کے بعد مسلم لیگ ن کے لیے اور بھی ضروری ہو گیا ہے کہ وہ آئندہ کی اپنی پالیسیوں کو زیادہ حقیقت پسندانہ انداز میں تشکیل دے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ PDM میں مسلم لیگ ن نے سرگرم کردار ادا کیا ہے اور آئندہ بھی ایسا کرنا چاہتی ہے تو اسے ضرور ایسا کرنا چاہیے۔ ایک بڑی قومی جماعت کی حیثیت سے یقینا اس کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ کسی بڑے پلیٹ فارم سے قومی مسائل و معاملات کے بارے میں اپنے موقف اور نقطہ نظر کا ہی اظہار نہ کرے بلکہ عوام کی راہنمائی کا فریضہ بھی سر انجام دے۔ تاہم ایسا کرتے ہوئے یہ نہیں ہونا چاہیے کہ وہ اپنے بنیادی مقاصد ، تاسیسی نظریے اور مختلف امور اور مسائل کے بارے میں اپنے مسلمہ روایتی موقف اور اپنے وابستگان اور اپنے بہی خواہوں کی امیدوں اور تمنائوں سے انحراف کرے۔ وسعت نظری ، فراغ قلبی، دوسروں کو ساتھ لے کر چلنے، دوسروں کو احترام اور اہمیت دینے کے انداز فکرو نظر کو اپنانے میں کوئی حرج نہیں لیکن ایسا اپنے اصولوں، نظریات، مقاصد اور نقطہ نظر کی قیمت پر نہیں ہونا چاہے۔ مسلم لیگ ن ایک بڑی قومی سیاسی جماعت ہے جس کے وابستگان اور بہی خواہ یہ توقع رکھتے ہیں کہ اس نے سیاسی میدان میں اپنی پوزیشن کو مستحکم بنانا ہے کہ عام انتخابات میں وہ ملک گیر سطح پر ایسی کامیابی حاصل کر سکے کہ اگر اکیلے نہیں تو ایک دو ہم خیال جماعتوں کو ساتھ ملا کر وفاق اور کم از کم پنجاب میں حکومت تشکیل دینے کی پوزیشن حاصل کر سکے۔ اس کے لیے بلا شبہ بیانیے کی اہمیت اپنی جگہ پر ہے لیکن اس کے ساتھ دیگر اقدامات کہ جن سے پارٹی کے اندر ڈسپلن اور اتحاد و اتفاق کی فضاء پروان چڑھے اس کی بھی ازحد ضرورت ہے۔  


ای پیپر