Iftikhar Hussain Shah, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
17 اپریل 2021 (11:52) 2021-04-17

 وزیراعظم عمران خان نے 18مارچ 2021ء کو اسلام آباد میں ایک ہاوسنگ سکیم کے فلیٹس اور گھروں کی قرعہ اندازی کی تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔اس قرعہ اندازی کے ذریعے 1001  فلیٹس اور 500 گھر مختلف فیکٹریوں میں کام کرنے والے مزدوروں کو الاٹ کیے گئے ۔یہ سکیم دراصل ورکرز ویلفیئر فنڈ کی تھی۔ وزیراعظم نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ اس سکیم کے  لیے ورکرز ویلفیئر فنڈ نے پچیس سال پہلے اسلام آبا د میں زمین خریدی تھی لیکن کئی وجوہات اور مسائل کی وجہ سے یہاں کام شروع نہ ہو سکا۔ وزیراعظم نے بتایا کہ جب یہ بات موجودہ حکومت کے نوٹس میں آئی تو اس پر کام شروع کر دیا گیا اور پھر ڈھائی سال کے عرصہ میں یہ سکیم پائے تکمیل کو پہنچ گئی۔میں نے چونکہ کچھ عرصہ بطور سیکریٹری پنجاب ورکرز ویلفیئر بورڈ کام کیا ہے اس لیے مجھے ورکرز ویلفیئرفنڈکی کئی activities سے آگاہی ہے۔ ورکرز ویلفیئر فنڈ ایک وفاقی ادارہ ہے۔ اس فنڈ میں چونکہ کافی پیسے موجود ہوتے ہیں اس لیے یہ حکمرانوں اور اُن کے حواریوں کی نظروں میں رہتا ہے۔ یہ ادارہ صوبہ پنجاب کے مختلف علاقوں میں ،جہاں مختلف فیکٹریز موجود ہوں وہاں کے مزدوروں اور ان کی فیملیز کے لیے رہایشی کالونیاں بناتا ہے۔ پھر ان کے فلیٹس کی قرعہ اندازی کے ذریعے الاٹمنٹ کی جاتی ہے۔ ظاہر ہے یہ کالونیاں عموماً شہروں سے دور ہوتی ہیں۔ غیر شادی شدہ اور سنگل مزدور تو وہاں رہایش اختیار کر لیتے ہیں لیکن فیملیز وہاں نہیں رہتیں اس لیے زیادہ تر ان فلیٹس یا گھروں کو مزدور بیچ دیتے ہیں۔ ایک تو اُنہیں یکمشت کچھ رقم مل جاتی ہے اور دوسرے جو پیسے انھوں نے بطور قسط دینے تھے ان میںکچھ پیسے ملا کر وہ اپنی پسند کے علاقہ میں رہنا شروع کر دیتے ہیں۔ورکرز ویلفیئر فنڈ کی طرف سے تو پابندیاں ہوتی ہیں کہ وہ ان فلیٹس یا گھروں کو یوں نہ بیچ سکیں لیکن آپ تو جانتے ہیں یہ پاکستان ہے یہاں سب چلتا ہے ۔ یہ لوگ ایک اشٹام پیپر (Stamp paper ) پر ایک معاہدہ کے ذریعے بیچ دیتے ہیں۔عموماً کافی فلیٹس اور گھر تو ان کالونیوں میں خالی پڑے رہتے ہیں کیونکہ یہ کالونیاں شہروں سے دور ہوتی ہیں۔ مجھے تو عموماً یہ شکایات بھی موصول ہوتی رہتی تھیں 

کہ ان میں سے کافی تو جرائم پیشہ لوگوں کی آماجگاہ بن چکی ہیں۔ میرے کچھ عرصہ بعد میرے دوست رضوان شریف کی بھی وہاں تعیناتی رہی ۔ وہ کافی محنتی آفیسر ہیں۔ ان سے ملاقات ہوتی رہتی ہے ۔ وہ بتارہے تھے کہ چونکہ ایسی کالونیوں میں ایسٹیٹ مینجمنٹ (Estate management)  کا سرے سے نہ کوئی concept ہوتاہے اور نہ ہی انتظام ، اس لیے عموماً یہاں فیملیزرہنے سے اجتناب کرتی ہیں ۔ کافی فلیٹس اور گھر یا تو خالی رہتے ہیں یا جرائم پیشہ لوگوں کی آماجگاہ کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔وہ کہہ رہے تھے کہ انھوں نے تو ان کالونیوں کا ایک سروے بھی کرایا تھا جس سے معلوم ہوا تھا کہ فلیٹ یا گھر پہلے کسی کو الاٹ ہوا تھا اور پھر نہ جانے کس کس کے ہاتھوں فروخت ہوا، کوئی ریکارڈ ہی نہیں ہے۔ ورکرز ویلفیئر فنڈ کی دلچسپی صرف کالونیوں کو بنانے اور الاٹمنٹ تک ہی رہتی ہے۔ اس کے بعد یہ فلیٹس اور گھر کئی کئی ہاتھوں بکتے رہتے ہیں۔کون وہاں رہتا ہے ، کیسے رہتا ہے، کسی کو کوئی سروکار ہی نہیں۔اسی طرح 14اپریل کو وزیراعظم عمران خان نے سرگودہا کے چک نمبر 39 این پی میں پرائم منسٹر ایفورڈایبل ہاوسنگ پراجیکٹ کا افتتاح کیا۔ اس افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے عوام کو آگاہی دی کہ اسی پرائم منسٹر ایفورڈایبل ہاؤسنگ پراجیکٹ کے تحت صوبہ پنجاب کی 146 تحصیلوں میں 133 مقامات پر گھر بنائے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے مرحلہ میں مختلف شہروں کے 32مقامات پر کم آمدن والے لوگوں کے لیے دس ہزار سے زائد گھر بنائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سرگودہا میں چھ مقامات پر 3 ,3 مرلے کے 1175گھر کم آمدن والے لوگوں کے لیے بنائے جائیں گے۔ اُنھوں نے یہ بھی بتایا کہ تین مرلہ کا پلاٹ صرف تیس ہزار روپے میں دیا گیا ہے جس کی مارکیٹ ویلیو لاکھوں میں ہے۔حکومت ایسے ہر گھر کے لیے تین لاکھ سبسڈی (Subsidy ) اور کم سود پر قرضہ فراہم کرے گی۔پنجاب بنک ہر گھر کی کنسٹرکشن کے لیے تقریباً دس لاکھ روپے قرض ماہانہ قسط دس ہزار روپے کی بنیاد پر فراہم کریگا۔بنک آف پنجاب مجموعی طور پر دس ہزار گھروں کے لیے دس ارب روپے فراہم کر رہا ہے۔وزیراعلیٰ نے یہ بھی بتایا کہ صوبائی کابینہ نے اس پراجیکٹ کے 32  مقامات کے لیے، انفراسٹرکچر بنانے کے لیے تین ارب روپے کی منظوری بھی دے دی ہے۔ پرائم منسٹر ایفورڈایبل پراجیکٹس میں سڑکیں ، مساجد ، پلے گراونڈز و سیورجز وغیرہ بھی بنائے جائیں گے اور ان کی دیکھ بھال بھی کی جائیگی۔سچ پوچھیں یہ باتیں سن کر میں پریشان سا ہو جاتا ہوں ۔ ڈر لگتا ہے اس غریب قوم کے پیسے کہیں کھو ہی نہ جائیںاور جن کا کوئی اتا پتا ہی نہ چلے۔ اسی طرح وزیراعظم عمران خان اس ملک کی کچی آبادیز کا ذکر بھی کرتے ہیں اور وہاں کے رہایشیوں کے لیے کئی منزلہ عمارتیں بنانے کے عزائم بھی رکھتے ہیں۔ آپ کو بتاتا چلوں کہ آپ کا یہ خادم صوبہ پنجاب کی کچی آبادیز کے  ڈائریکٹر جنرل کے طور پر بھی خدمات سر انجام دے چکا ہے۔ عمران خان پہلے حکمران نہیں جنہیںکچی آبادیز کا خیال آتا ہے۔ میاں نواز شریف بھی لاہور شہر کے اہم علاقوں میں موجود کچی آبادیز کو کمرشل علاقوں اور مارکیٹوں میں تبدیل کرنے کا شوق رکھتے تھے ۔وہ بھی کچی آبادیز کے مکینوں کے لیے کئی منزلہ عمارتیں بنانے کا سوچتے تھے ۔ اُن کی اس خواہش کو عملی جامہ پہنانے کے لیے کوششیں بھی کی گئیں لیکن کامیابی نہ ہو سکی۔ اس سلسلے میں میاں نواز شریف نے گوجرانوالہ کے خرم دستگیر کی بھی ڈیوٹی لگائی تھی کیونکہ وہاں بھی کئی اہم تجارتی علاقوں میں کچی آبادیز موجود ہیں ۔ خرم دستگیر نے کوشش بھی کی لیکن وہاں کے مکینوں نے اُن کی ایک نہ سنی۔ کچی آبادیوں کے باسیوں کے پاس اپنے دلائل تھے ۔ وہ کہتے تھے ہم مر جائیں گے فلیٹس میں نہیں جائیں گے ۔ ہمارے یہ گھر چاہے ایک کمرہ کے ہیں لیکن ہمارے بوڑھے ماں اور باپ تو ہمارے ساتھ رہتے ہیں ۔ یہ کہاں سیڑھیاں چڑھیں گے اور اوپر فلیٹوں میں رہیں گے۔ ویسے بھی پنجاب میں عوام ابھی فلیٹس میں رہنا پسند نہیں کرتے۔ سچ پوچھیں مجھے واضح  ہے کہ ہمارے کپتان نے کہاں پچاس لاکھ گھر بنانے ہیں ۔ آدھا حصہ تو اپنی ٹرم کا گزار چکے ہیں۔ لیکن ڈر ایک ہی بات کا ہے کہ ادھورے ادھورے سارے پراجیکٹ رہ جائیں گے اور یہ غریب قوم اور غریب ہو جائیگی۔ غریبوں کے پیسے کپتان کے ارد گرد گھومنے والے فراڈئیے لے جائیں گے۔


ای پیپر