حکمران ریسٹ پر تھے!
17 اپریل 2021 2021-04-17

میں ایک بیمار دوست کی عیادت کر کے گھر واپس آ رہا تھا‘ چوبرجی کے قریب ٹریفک اس قدر جام تھی کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی یہ کب تک جام رہے گی اور اس کے جام ہونے کی وجہ کیا ہے؟ سڑک پر موجود عوام کے چہروں پر بے چینی اور بے بسی کے تاثرات بڑھتے جا رہے تھے مزید کچھ وقت گزر جانے کے بعد یہ بے چینی اور بے بسی باقاعدہ غم و غصہ میں بدل گئی وہ اپنی اپنی گاڑیوں سے باہر نکل کر اپنے اپنے طور پر یہ اندازے لگانے کی کوششیں کر رہے تھے کہ ٹریفک جام ہونے کا سبب کیا ہے؟ ایسے مواقع پر عموماً یہ تصور کیا جاتا ہے کسی بڑے حکومتی عہدیدار کو سڑک پر آسانی سے گزارنے کے لئے ٹریفک رکوائی گئی ہے وقت تیزی سے گزرتا جا رہا تھا ٹریفک ایک انچ آگے پیچھے نہیں ہو رہی تھی حتی کہ کچھ موٹرسائیکل و سائیکل سوار جو ادھر ادھر سے اپنے راستے نکالنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں وہ بھی بے بس دکھائی دے رہے تھے‘ بہت وقت گزر جانے کے بعد میں نے ٹریفک پولیس کے ایک ڈی ایس پی کو کال کر کے اس قدر ٹریفک جامع ہونے کا سبب پوھا اس نے بتایا کہ مولانا خادم حسین رضوی (مرحوم) کے صاحبزادے حافظ سعد رضوی کو گرفتار کر لیا گیا ہے کیونکہ حکومت وقت نے فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرنے کے لئے ٹی ایل پی سے جو معاہدہ کیا تھا اس کے معیاد دس اپریل کو ختم ہو گئی ہے چنانچہ حکومت کو اب خدثہ ہے یا کچھ سکیورٹی ایجنسیوں کی رپورٹ ہے ٹی ایل پی اب لمبا چوڑا فساد کرے گی‘ جس کی باقاعدہ پلاننگ شروع کر دی گئی ہے‘ اس ضمن میں حافظ سعد رضوی نے ایک ویڈیو بھی جاری کی ہے اسی صورتحال کے پیش نظر حافظ سعد رضوی کو گرفتار کیا گیا ہے جس کے فوراً بعد ان کے پیروکار سڑکوں پر نکل آئے ہیں‘ یہ ٹریفک اسی وجہ سے جام ہے‘ ڈی ایس پی ٹریفک کی باتیں سننے کے بعد ٹریفک جام ہونے کی ا ذیت کے علاوہ ایک خوف یہ بڑھ گیا اگر کسی جتھے یا لشکر نے بطور احتجاج گاڑیوں اور عوام پر حملے شروع کر دیئے اس صورتحال پر کون قابو پائے گا؟ حکومت کہیں دکھائی نہیں دیتی اور کچھ ادارے اس قدر کمزور ہو چکے ہیں ایس کسی نازک صورتحال سے نمٹنا ان کے بس کی بات ہی نہیں رہی‘ ہر طرف سے یہی آوازیں سننے کو ملتی ہیں ”جاگدے رہنا‘ ساہڈے تے نہ رہنا“.... میں نے فون پر اپنے بیٹے سے پوچھا وہ کہاں ہے؟ اس نے بتایا وہ تقریباً اتنی ہی دیر سے جوہر ٹاﺅن کی ایک روڈ پر ٹریفک میں پھنسا ہوا ہے جتنی دیر سے میں پھنسا ہوا تھا سب سے زیادہ اذیت مجھے ٹریفک میں پھنسی ہوئی بے شمار ایمبولینسز کی ”چیخ و پکار“ سے ہو رہی تھی میں سوچ رہا تھا ان میں موجود زندگی و موت کی کشمکش میں مبتلا مریضوں اور ان کے عزیزوں پر اس وقت کیا بیت رہی ہو گی؟ مجھے شدید غصہ آ رہا تھا کہ حکومت نے اگر سعد رضوی کو گرفتار ہی کرنا تھا اس کے لئے درست وقت کا انتخاب کیوں نہ کیا گیا؟ کس نے یہ حماقت کی دوپہر کو جب ویسے ہی ٹریفک کا بہاﺅ انتہائی سست ہوتا ہے عین اس وقت ایک سڑک سے گزرتے ہوئے اچانک اسے گرفتار کر کے عوام کو بے پناہ اذیت سے دوچار کر دیا گیا سڑک پر کوئی ٹریفک وارڈن کہیں نظر نہیں آ رہا تھا یوں محسوس ہو رہا تھا ٹریفک پولیس کی آج ” ریسٹ“ ہے میں نے اس روز چوبرجی سے اپنے گھر شادمان کا راستہ دوگھنٹے میں طے کیا جو زیادہ سے زیادہ سے آٹھ دس منٹ کا ہے میں سوچ رہا تھا ٹی وی سے کچھ حقائق کا پتہ چلے گا ٹی وی آن کیا وہاں راوی میں چین ہی چین لگ رہا تھا مختلف چینلز ٹٹولے ایک چینل پر ٹیکر چل رہا تھا ایک مذہبی جماعت کے رہنما حافظ سعد رضوی کو گرفتار کر لیا گیا ہے اس دوران مختلف دوستوں نے واٹس ایپ پر کچھ ویڈیو کلپ بھیجنا شروع کر دیئے پتہ چلا تقریباً پورے ملک میں ٹی ایل پی کے کارکنوں نے پہیہ جام کر دیا ہے حتی کہ ٹرینیں تک روک دی گئی ہیں‘ ہوائی جہازوں پر ان کا چونکہ بس نہیں چلتا ورنہ وہ بھی روک دیتے ایک لحاظ سے ہوائی سفر انہوں نے روک بھی دیا کہ اس روز ٹریفک جام ہونے کی وجہ سے بے شمار لوگ ایئرپورٹ پر نہیں پہنچ سکے‘ میں باربار پاگلوں طرح چینل بدلے جا رہا تھا میں سوچ رہا تھا کسی چینل پر حکومت کا کوئی ترجمان کوئی وزیر شذیر شاید دکھائی دے جو بے قرار اور بے چینی عوام کو کوئی تسلی وغیرہ دے یا حقائق سے آگاہ کرے یوں محسوس ہورہا تھا سارے ترجمان سارے وزیر شذیر و مشیر آج رخصت پر ہیں‘ میں بار بار مختلف چینلز اس لئے بدل رہا تھا میں سوچ رہا تھا نون لیگ کے دور حکومت میں ٹی ایل پی نے جو فساد برپا کیا تھا یا بوجوہ کروایا گیا تھا تب شیخ رشید احمد نے ان کے حق میں تقریر فرمائی تھی جو ہمدردی ان کے ساتھ ظاہر کی تھی وہ شاید اب بھی قائم ہو گی اور اس بنیاد پر وہ حافظ سعد رضوی کی گرفتاری پر بطور احتجاج کہیں استعفیٰ ہی نہ دے دیں؟ دوسرا خدشہ میرا یہ تھا اتنے ”قابل وزیر داخلہ“ اگر مستعفی ہو گئے ان جیسا وزیر داخلہ حکومت کہاں سے ڈھونڈ کر لائے گی؟ اور کوئی وزیر نہ ملنے کی صورت میں یہ محکمہ وزیراعظم نے اپنے پاس رکھا لیا‘ ہمارا کیا بنے گا؟ ٹی ایل پی پر اب پابندی لگا دی گئی ہے تاریخ اس واقعے کو ہمیشہ یاد رکھے گی‘ اس کا اعلان اس وزیر داخلہ نے کیا محض چند برس قبل جس کے بارے میں ہم یہ سوچ رہے تھے اس کی مخصوص ذہنیت کی بناءپر عام انتخابات میں کسی سیاسی جماعت نے اسے منہ نہ لگایا‘ یا اسے ٹکٹ نہ دیا وہ شاید ٹی ایل پی کے پلیٹ فارم یا ٹکٹ پر الیکشن لڑے گا‘ پھر اس نے اپنی جماعت بنا لی میں حیران تھا اس کے بعد مولانا خادم حسین رضوی (مرحوم) کو اپنی جماعت بنانے کی ضروت محسوس ہوئی؟؟؟ ٹی ا یل پی پر پابندی لگانے کا فیصلہ درست ہے یا غلط میں اس بحث میں نہیں پڑتا میرا دکھ یہ ہے مولانا خادم حسین رضوی کی وفات کے بعد ان کے تاریخی بڑے جنازے کی صورت میں جو عزت ”بچہ پارٹی“ کو ملی تھی عوام کو اذیت پہنچا کر کتنی جلدی اسے ضائع کر دیا گیا۔


ای پیپر