کورونا اور حکمرانوں کا طرز عمل
17 اپریل 2020 2020-04-17

ملک میں کورونا کا وائرس پھیل رہا ہے۔اس وباکو روکنے کی بجائے حکمران اور حزب اختلاف کی سیاسی جماعتیں اپنی اپنی ڈھولکی بجا رہے ہیں۔پہلے لا ک ڈائون کے معاملے پر وزیر اعظم عمران خان اور حزب اختلاف میں اختلافات تھے۔وزیر اعظم عمران خان فیصلہ نہیں کر پار ہے تھے کہ ملک میں لاک ڈائون کیا جائے کہ نہیں ؟وزیر اعظم عمران خان لاک ڈائون کے خلاف تھے۔ ان کا موقف تھا کہ لاک ڈائون سے پورا ملک بند ہوجائے گا۔کروڑوں لوگ بے روزگار ہوجائیں گے ۔لوگ کورونا وائرس کی بجائے بھوک سے مرنا شروع ہو جائیں گے۔ ابھی وہ اسی شش وپنج میں تھے کہ ملک میں لاک ڈائون کیا جائے کہ نہیں ،کہ پیپلز پارٹی نے سندھ میں لاک ڈائون کا فیصلہ کیا۔ وزیر اعلی مراد علی شاہ نے لاک ڈائون کا اعلان کیا۔لیکن وزیراعظم عمران خان اب بھی خاموش تھے۔ وہ فوری طور پر کوئی فیصلہ نہیں کر پارہے تھے۔بعد میں پنجاب، خیبر پختون خوا اور بلوچستان میں بھی لاک ڈائون کیا گیا۔وزیر اعظم عمران خان نے بھی نہ چاہتے ہوئے صوبوں کے اس فیصلے کی حمایت کی۔لیکن اس دوران سب سے اہم بات جو سامنے آئی وہ تھی اس وبا کو روکنے کی بجائے حکمرانوں کا طرز عمل اور ان کے رویے۔ سب سے پہلے حزب اختلاف نے الزام لگایا کہ ملک میں کورونا کا وائرس اس لئے پھیل گیا کہ وزیر اعظم کے مشیر زلفی بخاری نے تفتان سے شیعہ زائرین کو بغیر ٹسٹ کے وہاں سے ملک کے دیگر حصوں میں جانے دیا اس وجہ سے ملک میں یہ وائر س پھیل گیا۔کئی دنوں تک الزامات کی سیاست ہوتی رہی۔وائرس پھیلتا گیا۔حکومت نے کوئی خاص تو جہ نہ دیں۔ حزب اختلاف بھی الزامات لگانے میں مصروف تھی۔پھر تبلیغی جماعت کو نشانہ بنایا گیا۔اب الزامات کا رخ زلفی بخاری کی بجائے تبلیغی جماعت کی طرف تھا۔ سب اپنے دل کی بھڑاس نکال رہے تھے۔جب یہ الزام بھی پرانا ہوا تو پھر وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان اختلافات شروع ہو گئے۔وفاقی وزیروں نے وزیراعلیٰ سندھ کے خلاف مورچہ سنبھال لیا۔کوئی روکنے والا نہیں تھا۔ کوئی ان کو سمجھانے والے نہیں تھا کہ یہ وقت آپس میں لڑائی جھگڑوں کا نہیں بلکہ کورونا وائرس کے پھیلائو کو روکنے کے لئے اقدامات کا ہے۔وزیر اعظم عمران خان عملی اقدامات کی بجائے قوم سے خطاب کرنے میں مگن رہے۔اسی ماڈل کو اپناتے ہوئے وفاقی وزراء نے بھی روزانہ کی بنیاد پر پریس کانفرنس شروع کر دیں۔کئی وفاقی وزیر روزانہ الیکٹرانک میڈیا پر طلوع اور غروب ہوتے رہے۔ ان وزیروں کے پاس کوئی پالیسی نہیں تھی۔ یہ صرف اعداد وشمار بیان کرتے رہے کہ آج اتنے لوگوں

میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے ۔اتنے لوگوں کے ٹیسٹ کئے گئے اور مرنے والوں کی تعداد اتنی ہے۔وزیر اعظم عمران خان کے ماڈل کو وفاقی وزراء نے کاپی کیا جبکہ وفاقی وزراء کے ماڈل کو بعد میں وزرائے اعلیٰ اور صوبائی وزیروں نے اپنا یا۔روزانہ ہر صوبے کا وزیراعلیٰ پریس کانفرنس کرنے لگے۔ ان کے پاس بھی کچھ نہیں تھا ،وہ بھی صرف لوگوں کو اعداد و شمار بتاتے رہے۔ بعد میں جس طرح وزیر اعظم عمران خان کو احساس ہوا کہ یہ وقت اب صرف تقریروں کا نہیں ،اسی طرح وزرائے اعلیٰ نے بھی پریس کانفرنسوں کا دھند ا بند کر دیا۔ اب روزانہ ہر صوبے کا وزیرطلوع ہوتا ہے اور وہ کورونا وائرس کے اعداد و شمار قوم کو بتا کر غروب ہوجاتا ہے۔وفاقی اور صوبائی وزیروں کا یہ مشغلہ ابھی بھی جاری ہے۔اس دوران وفاقی اور سندھ حکومت کے درمیان اختلافات پیدا ہوئے۔ وفاقی وزیروں نے توپوں کا رخ سندھ حکومت کی طرف کر دیا ہے۔لڑائی ابھی جاری ہے۔وزیراعلیٰ سندھ اور وفاقی وزراء ایک دوسرے کے خلاف طویل پریس کانفرنسوں میں ایک دوسرے پر بازی لینے کی کوششوں میں مصروف ہے۔لیکن جوبنیادی کام ہے اس کی طرف کوئی بھی توجہ نہیں دے رہا ہے۔

لاک ڈائون میں مزید توسیع کردی گئی ہے، کئی شعبوں کو کھول دیا گیا ہے ،لیکن اس وبا نے ملک کے حکمرانوں اور سیاسی جماعتوں کے رویوں کو عوام کے سامنے کھول کر رکھ دیا ہے۔اس وقت صورت حال یہ ہے کہ ملک میں بڑے پیمانے پر ڈاکٹروں کو حفاظتی کٹس کی ضرورت ہے،لیکن اس پر کوئی توجہ نہیں دے رہا ہے ۔آسان حل سب نے یہ نکال دیا ہے کہ پورے ملک میں ہسپتالوں میں OPDکو بند کر دیا گیا ہے۔حالانکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومتیں او پی ڈی میں کام کرنے والے ڈاکٹروں کو حفاظتی کٹس فراہم کریں اور او پی ڈی کو کھول دیں۔لیکن ان کو آپس میں جھگڑوںسے فرصت ملے گی تو وہ اس طرف تو جہ دیں گے۔ او پی ڈی کی بند ش کی وجہ سے روزانہ لاکھوںلوگ متاثر ہو رہے ہیں۔اس وقت ملک کو بڑے پیمانے پر وینٹی لیٹر کی ضرورت ہے ،مگر افسوس کوئی اس طرف توجہ نہیں دے رہا ہے۔

موجودہ صورت حال میں لگ ایسے رہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان حالات قابوکرنے میں مکمل طور پر ناکام ہیں۔ ابھی لاک ڈائون میں تو سیع کا فیصلہ کیا گیا ہے ،لیکن ساتھ ہی تاجروں نے کاروبار کھولنے کا اعلان کیا ہے۔مساجد کے حوالے سے حکومت نے پالیسی جاری کی تھی لیکن اس پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔ ابھی رمضان المبارک کے دوران مساجد کے حوالے سے حکومت نے کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے کہ مسجدوں میں نماز تراویح ادا کی جائے گی کہ نہیں؟لوگوں کو اعتکاف میں بیٹھنے کی اجازت ہو گی کہ نہیں؟حکومت کو چاہئے تھا کہ اسلامی نظریاتی کونسل سے مشاورت کرکے لائحہ عمل طے کیا جاتا ،لیکن حکومتی فیصلے سے قبل نجی مفتیوں نے اعلان کر دیا ہے کہ لاک ڈائون کا اطلاق مساجد پر نہیں ہو گا۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ حکومت اگر مساجد میں نماز تراویح پر پابند ی کا فیصلہ کرتی ہے تو اس کو نہیں مانا جائے گا۔ اگر اعتکاف پر پابند ی لگائی گئی تو اس فیصلے پر بھی عمل نہیں کیا جائے گا۔آخر یہ سب کچھ کیوں ہو رہا ہے؟ اس لئے کہ وزیر اعظم عمران خان بر وقت فیصلے نہیں کر پارہے ہیں۔وہ قوم کو اعتماد دینے میں ناکام ہے۔ وزیراعظم بروقت فیصلے کیوں نہیں کر پارہے ہیں اور وہ قوم کو اعتماد دینے میں ناکام کیوں ہیں؟ اس لئے کہ ان کی ٹیم میں نااہل اورغیر منتخب لوگوں کی اکثریت ہے۔جس کی طرف سپریم کورٹ نے بھی اشارہ کیا تھا کہ غیر منتخب لوگوںکی اکثریت اس قدر زیادہ ہے کہ وہ منتخب لوگوںپر حاوی ہو گئے ہیں۔بروقت اور حالات کے مطابق فیصلے نہ کرنا کسی بڑے حادثے کا سبب بھی بن سکتا ہے۔


ای پیپر