بے مہا ر ٹیکنا لو جی اور انسان
17 اپریل 2020 2020-04-17

ففتھ جنر یشن وا ئرلیس،جسے عرفِ عا م میں 5Gوا ئر لیس کہتے ہیں، مو بائل فو نز میںتیز ترین رفتا ر کے سا تھ انتہا ئی بھا ری مقد ار میں ڈیٹا ٹر انسفر کرنے والی وہ ٹیکنا لو جی ہے، جس کے حصو ل کے لیئے سا ئنسدا ن عر صہ سے تگ و دو کر رہے تھے۔آخر کا ر پچھلے دنو ں وہ اپنے مقصد میں کا میا ب ہو گئے۔ اس ٹیکنا لو جی سے ہما ری اور آ پ کی زند گی پہ کیا اثر پڑ نے جا رہا ہے ،تو سن لیجئے کہ اس کے استعما ل سے ہماری اور آ پ کی پرائیویسی متاثر ہو گی۔ اب یہ الگ با ت ہے کہ کرو نا وائریس کے نمو دا ر ہو نے کے بعد سو شل میڈ یا پہ واشگا ف الفا ظ میں اس وبا ء کا ذ مہ دا ر5Gٹیکنا لو جی کو ٹھہر ایا جا رہا ہے۔ 5G،کر و نا وائرس کی ذمہ دا ر ہے یا نہیں، بہر حا ل ہما رے زیرِ نظر کا لم کامو ضو ع ِبحث نہیں۔ بتا نا یہ چا ہ رہا ہو ں کہ کچھ عر صہ پہلے ایک امر یکی سا ئنسدا ن ٹی وی شو میں سائنسی افق پہ ہونے والی نئی ایجادات کے بارے میں بتا رہا تھا۔ پروگرام کا بڑا حصہ روبوٹس کی بڑھتی ہوئی کارکردگی کے بارے میں تھا۔ اُس کا کہنا تھا کہ روبوٹس کا مکینکل اور الیکٹرونکس پراجیکٹس پہ کام کرنا اب ماضی کی پسماندگی کی سی بات ہوگئی ہے۔ یعنی اب تک روبوٹس صرف بلیو کالر جاب کرتے تھے۔ ہمارے ہاں کے عرف عام میں مزدوروں اور مکینکوں والے کام۔ مگر اب وہ لو لیول وائٹ کالر جاب ) Low Level ) (WHITE COLLAR JOB ) بھی کرتے نظر آئیں گے۔ مرا د ہے کلر کوں، سپروائزروں اور اس سے کچھ اوپر کے درجوں کی سیٹوں پر اب انسانوں کی جگہ روبوٹس براجمان نظر آئیں گے۔ سائنسی ترقی کی عینک سے دیکھیں تو یہ حضرت انسان کا اشرف المخلوقات ہونے کے حوالے سے کامیابی کا ایک نیا اور اہم سنگ میل ہے۔ یعنی وہ پیغام دے رہا ہے کہ وہ بس اب آرام کرے گا، جبکہ قادرِ مطلق کی ادنیٰ ترین مخلوق جمادات سے ڈھالی گئی اشیاء اُس کی خوراک ، آرام اور آسائشوں کا خیال کریں گی۔ پہلے پہل جب خود کا ر مشینوں نے کارخانوں میں مزدوروں کی جگہ سنبھالی، تو یہ توجیہہ پیش کی گئی کہ کام اگر مشینیں سرانجام دے سکتی ہیں تو اس سے انسان کا مقام یوں بلند ہوتا ہے کہ وہ اگر مشینوں پہ حکومت کر کے اُن سے کام لے سکتا ہے تو کام کرنا انسان کی توہین ہے۔ جبکہ نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ کام سے فارغ ہونے والے مزدور اور اسی درجہ کے لوگ بے کار ہوکر بے روزگار ہوگئے۔ اُن کے لئے کوئی متبادل ذریعہ آمدن میسر بھی نہ آیا۔

اب جو شنید آئی ہے کہ روبوٹس لو لیول وائٹ کالر جاب کرنا شروع کریں گے تو سمجھ لیجئے کہ یہ قریباً قریباً قطعی خود کار نظام ہوگا۔ یعنی کسی بھی بڑی فیکٹری میں کام کروانے انسان آدھی درجن سے بھی کم ہوں گے۔ جب کہ پراڈکٹس کی ڈیمانڈ اور سپلائی کا جائزہ لے کر پروڈکٹس کی مقدار کا تعین بھی روبوٹس کریں گے۔ وہ دیکھیں کے گے مارکیٹ میں کس پراڈکٹ کی کتنی ڈیمانڈ ہے۔ پھر جن پراڈکٹس کی ڈیمانڈ نہ ہونے کے برابر رہ جائے گی تو سپر روبوٹس اُن روبوٹس کو فارغ کرکے اُن پہ صرف ہونے والی تو انائی بچائیں گے، جو ان پراڈکٹس کی

تیاری پہ مامور تھے۔ علیٰ ہذا القیاس۔ اس کا حتمی نتیجہ یہ ہوگا کہ کارخانہ داروں کی شرح منافع کئی گناحد تک بڑھ جائے گی۔ دوسری طرف بے روزگاری کی شرح کئی گناہ حد تک بڑھ جائے گی۔ یہاں تک کہ بے روزگار لوگ خو د کو بھوکے کہہ کہ متعارف کروایا کریں گے۔ سچ تویہ ہے کہ انسانیت کی اس تنزلی کا سفر اُسی وقت شروع ہوگیا تھا، جب خود کا ر مشینوں نے اُس کی جگہ کارخانوں میں لینا شروع کردی تھی۔

مگر ایک بات بتادوں وہ یہ کہ بے شک بے روزگار فاقوں سے تنگ آکر ذلت بھری زندگی گزارنے پہ مجبور ہوجائیں گے، امیری اور غریبی کے درمیان اتنا فاصلہ بڑھ جائے گا کہ محنت کشوں کی اولادیں ہر طرح کی مشقت کے باوجود اُسے پاٹ نہ سکیں گی۔ سرمایہ د ا ر گوا تنی دولت حاصل کرلیں گے کہ وہ اس کا حساب نہ رکھ سکیں گے، لیکن وہ اس سے آخر زیادہ سے زیادہ کتنا زیادہ سکھ حاصل کرسکیں گے؟ کیا وہ انسان کی اوسط عمر سے بڑھ کر دوسو برس یااس سے بھی زیادہ جی سکیں گے؟ کیا وہ ایک وقت میں ایک کی بجائے درجنوں چارپائیوں پہ سوسکیں گے؟ وہ ایک وقت میں زیادہ سے زیادہ کتنا کھا سکیں گے؟ کیا وہ گارنٹی دیں گے اُنہیں کبھی کوئی بیماری نہیں لگے گی؟ کیا وہ کبھی کسی وباء کاسامنا نہ کریں گے؟ گوبے روزگاروں کو ذلت بھری زندگی گزارنے پہ مجبور کرنے کے بعد دائمی کیا عام سی خوشی اُن کا بھی مقدر نہ بن سکے گی۔تو پھر کیا اَب سائنس انسان کو ذلیل کرنے پہ اُتر نہیں آئی؟نہیں صاحبو، ایسا نہیں ہے۔ یہ سائنس نہیں ہے جو ہمیں ذلیل کرنے پہ اُتر آئی ہے، یہ تواُس کا ناجائز استعمال ہے۔ مطلب یہ کہ بے شک آپ ذہین سے ذہین روبوٹس ایجاد کرلیں، لیکن ان کے کمرشل استعمال کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ ورنہ صاف دکھائی دے رہا ہے کہ ان خود کار مشینوں کی بدولت انسانیت ایک ایسے شیطانی ماحول میں داخل ہوجائے گی جس کا پھر مداوا ممکن نہ ہو سکے گا۔ مفلسی کے ہاتھوں تباہ ہوکر اپنی اخلاقی اور ہر طرح کی قدروں کو فروخت کرنے پہ مجبور ہوجائے گا۔ بہت ممکن ہے انسان نے ہزاروں سال کی قربانی کے بعد غلامی کے جس عفریت سے آزادی حاصل کی تھی، وہ عفریت اُس پہ پھر سے حاوی ہوجائے۔ تب ہم دیکھیں گے کہ پھر سے غلاموں اور لونڈیوں کی منڈیاں سجنے لگی ہیں۔

اب ضرورت اس امرکی ہے کہ اقوام متحدہ اس طرح کی خود کار مشینوں کے استعمال پہ قدغن لگائے۔ وہ انسانوں کو سمجھائے کہ آپ نے اپنی ذہانت کے ہاتھوں کرہ ارض پہ بسنے والی دوسری مخلوقات کا بہت حق غصب کیا۔ اوزون میں سوراخ آپ نے کیا، جس سے قدرتی درجہ حرارت تہہ وبالا ہوکر رہ گیا۔ آپ کے کچھ مخلص دانشوروں نے آپ کو سمجھانے کی کوشش کی ، لیکن آپ باز آکر نہ دیئے۔ اپنی حرکتوں سے آپ نے جن مخلوقات کو تباہی وبربادی سے دوچا رکیا، وہ کوئی احتجاج تک نہ کرسکیں۔ آپ چوڑے ہوتے چلے گئے اور اب نوبت یہاں تک آن پہنچی کہ آپ نے قادر ہونے کے نشے میں آکر اپنے ہی بھائی بندوں کے گلے کاٹنے شروع کردیئے۔ اقوام متحدہ کارخانہ داروں سے کہے کہ ڈمپ کردوان خود کار مشینوں کو، واپس بلائو مزدوروں کو اور ہنر مندوں کو۔ یوں اُن کے گھروں کی چمنیوں سے دھواں اُٹھنا شروع ہو۔ سوچنا اور ادراک کرنا انسان کی جبلت ہے، یہ اُسی سوچ اور جبلت کاحاصل ہے کہ آج انسان جنگلوں کی زندگی کو ہمیشہ کیلئے خداحافظ کہہ کر سہولیات سے مزین جدید شہروں میں آباد ہے۔ اُس نے طرح طرح کے علوم دریافت کئے، اورپھر اُن پہ دسترس حاصل کی۔ اُس نے موت کے بعد بھی اسی روئے زمین پہ زندہ رہنا چاہا۔ اس کیلئے اُس نے اپنی اولاد سے ٹوٹ کر محبت کی۔ پھر اُس نے خود کو دھوکا دیا۔ اُس نے خود سے کہا کہ میں اگر ذاتی طور پر مر بھی گیا تو کیا ہوا، میں اپنی اولاد کی شکل میں تو زندہ رہ سکتا ہوں۔ یوں اُس نے دولت جمع کرنا شروع کی اگر وہ مر بھی جائے تو اپنی اولاد کی شکل میں اس دنیا میں پر تعیش زندگی گزارتا ہے۔ اُس کا یہی لالچ ہے جو اُسے مجبور کررہی ہے کہ تمام کرہ ارض دولت کا وہ بلاشرکت غیرے اکلوتا مالک ہو۔ مانا کہ اس سوچ سے انسان کو علیحدہ کرنا انتہائی مشکل ہوچکا ہے۔ کیو نکہ اس میں اُس کے اندرونی تخیل کا دخل ہے۔ تاہم بیرونی طورپر اُسے ایسے آلات کے استعمال سے تو روکا جاسکتا ہے، جواُس کی اس سوچ کو عملی جامہ پہنچانے میں ممدو معاون ثابت ہوتے ہیں۔


ای پیپر