پاکستان ایئرفورس کی امدادی سرگرمیاں
17 اپریل 2020 2020-04-17

پاکستان سمیت دنیا کے تمام ہی ممالک اس وقت کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں مصروف ہیں۔ کورونا وائرس کی وبا نے جہاں دنیا بھر میں ہزاروں زندگیوں کونگلا ہے وہیں پر معاشی سرگرمیوں کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے۔ کورونا وائرس کے خلاف لڑائی میں ہراول دستے کا کام اگرچہ ڈاکٹرز، نرسیں اور پیرامیڈیکل سٹاف کر رہا ہے۔ صحت کے شعبے سے وابستہ افراد اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر انسانی زندگیوں کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس طرح پولیس، رینجرز اور فوج کے جوان بھی لوگوں کوکورونا وائرس سے بچانے کے لئے اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہ بس ہمارے حقیقی ہیرو ہیں جو ہماری زندگیوں کو بچانے کے لئے اور کورونا وائرس کے پھیلائو کو روکنے کے لئے اپنی جانوں کو دائو پر لگائے ہوئے ہیں۔ ان سب بہادر بیٹوں اور بیٹیوں کو سلام۔

اس وقت جہاں ڈاکٹرز، نرسیں اور ہسپتالوں کا دیگر عملہ جہاں علاج معالجے کی سہولیات فراہم کر رہے ہیں وہیں پر پاکستان کا ایک اہم ادارہ جس کا پاکستان کے دفاع میں نمایاں اور کلیدی کردار ہے وہ میڈیکل آلات، ادویات اور دیگر سامان کی فراہمی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ پاکستان ایئرفورس کے بہادر پائلٹ ، آفیسرز، انجینئرز اور دیگر سٹاف چین سے میڈیکل آلات، ماسک، حفاظتی سازوسامان کی ترسیل میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

دفاعی اداروں کے حوالے سے یہ عمومی غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ یہ شاید جنگ کے دنوں یا تنائو کی کیفیت میں ملک کے دفاع میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں اور ان کا کردار صرف جنگ تک یا جنگ کی تیاری تک محدود ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ دیگر اداروں کی طرح دفاعی ادارے بھی امن کے دنوں میں ملک کی تعمیر و ترقی میں اپنا اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ملک اور قوم پر جنگ کے علاوہ بھی جب کوئی قدرتی آفت سیلاب، زلزل یا کسی وباء کی صورت میں سامنے آتی ہے تو پاکستان کے دفاعی ادارے پاک فوج، پاک فضائیہ اور نیوی مصیبت کی اس گھڑی میں عوام کی خدمت اور دلجوئی میں پیش پیش ہوتے ہیں۔

پاک فوج کے بہادر آفیسر اور سپاہی جہاں زمین پر لوگوں کی مدد کرتے ہیں اور انہیں ریلیف فراہم کرتے ہیں وہیں پر پاک فضائیہ کے شاہین اندرون اور بیرون ملک سے سامان کی ترسیل میں اہم ترین کردار ادا کرتے ہیں۔ پاک فضائیہ کا ٹرانسپورٹ ونگ اپنے ٹرانسپورٹ طیاروں اور ہیلی کاپٹرز کے ذریعے نہ صرف بیرون ملک سے سازوسامان پہنچاتے ہیں بلکہ ملک کے ان دور دراز علاقوں میں جہاں سڑکیں موجود نہیں اور دیگر ذرائع سے ادویات، خوراک اور دیگر ضروری سامان پہنچانا ممکن نہ ہو وہاں پر بھی پاک فضائیہ اپنے دستیاب وسائل کو استعمال

کرتے ہوئے لوگوں کی مدد کرتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاک فضائیہ کا شمار دنیا کی بہترین ہوائی افواج میں ہوتا ہے۔ پاکستان ایئرفورس کے شاہینوں کا شمار دنیا کے بہترین، انتہائی پروفیشنل اور ماہر پائلٹس میں ہوتا ہے۔ ان کے بلند جذبے، حوصلے اور جرأت وطن کی محبت اور اس کی مٹی کی خوشبو سے ہر وقت سرشار نظر آتے ہیں۔

1965ء کی جنگ ہو یا پھر 1971ء کا معرکہ، کارگل کی لڑائی ہو یا پھر 26 فروری 2019ء کی فضائی جھڑپ ہو۔ 2005ء کا تباہ کن زلزلہ ہو یا 2010ء کا تباہی مچاتا سیلاب پاک فضائیہ ہر موقع پر پوری مستعدی، توانائی اور صلاحیت کے ساتھ اپنا کردار ادا کرتی دکھائی دیتی ہے۔

پاک فضائیہ کا سب سے بڑا کمال یہ ہے کہ یہ سب کچھ بہت خاموشی سے کرتی ہے۔ پاک فضائیہ زیادہ تر خبروں کی زینت اس وقت بنتی ہے جب انڈیا کے ساتھ یا تو جنگ ہو یا پھر انڈیا کی طرف سے پیدا کیا گیا جنگی ماحول اور جنون ہو۔ پاک فضائیہ کے بہادر شاہین میڈیا کی زینت بنے بغیر ہی اپنے دفاعی اور امدادی سرگرمیوں کو جاری رکھتے ہیں۔

پاک فضائیہ کے شاہین صرف اپنے ہم وطنوں کی مدد کو ہی نہیں پہنچتے بلکہ اپنے برادر اور دوست ممالک میں بھی زلزلے اور سیلاب کے متاثرہ افراد کی مدد کو بھی پہنچتے ہیں۔ایران اور ترکی میں زلزلے کی تباہ کاریوں کے متاثرین کو ضروری سازوسامان کی فراہمی ہو یا کورونا کے عروج کے دنوں میں چین میں سامان کی فراہمی ہو۔ پاک فضائیہ کے بہادر سپوت اپنی جانوں کی پروا کئے بغیر انسانیت کی خدمت اور امدادی سرگرمیوں میں مصروف نظر آتے ہیں۔

پاک فضائیہ نے کئی ٹن خوراک اور دیگر سامان اس وقت چین پہنچایا جب کورونا وائرس کی وبا اپنے عروج پر تھی۔ اس طرح پاک فضائیہ نے چین کے کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ شہر ووہان میں پھنسے ہزاروں پاکستانی طلباء وطالبات کو ضروری سازوسامان پہنچایا۔ اسی طرح گلگت بلتستان کے برف پوش پہاڑوں پر رہنے والے پاکستانی ہوں یا پھر کشمیر کی دور دراز وادیوں اور پہاڑوں پر مقیم افراد۔ پاک فضائیہ کے بہادر شاہین اپنی جان جوکھوں میںڈال کر اپنے ہم وطنوں کی مدد کو پہنچتے ہیں اس وقت بھی اگر ڈاکٹرز اور دیگر طبی عملہ ہسپتالوں میں کورونا وائرس کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے تو ان کو ادویات، آلات اور حفاظتی سازوسامان پہنچانے میں پاک فضائیہ اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ پاک فضائیہ کے جہاز یہ سازوسامان چین سے لاتے ہیں اور پھر ان کو دور دراز علاقوں تک پہنچاتے ہیں۔ پاک فضائیہ کے متحرک کردار اور مدد کے بغیر اس سامان کی ترسیل ممکن نہیں۔ میڈیکل آلات یعنی وینٹی لیٹرز، حفاظتی لباس، مالک اور دیگر مشینوں کے بغیر یہ جنگ نہیں لڑی جا سکتی۔ پاک فضائیہ نہ صرف اپنی فضائی حدود کی حفاظت کے لئے پوری طرح متحرک اور چوکنا ہے بلکہ امدادی کاموں اور ریلیف آپریشن کو بھی بھرپور طریقے سے جاری رکھے ہوئے ہے۔ ہم نے 2005ء کے زلزلے اور پھر 2010-11ء کے سیلاب کے دوران بھی پاک فضائیہ کے انسانی ہمدردی اور خدمت کے جذبے کا عملی اظہار دیکھا تھا۔ جب ہزاروںٹن سامان کشمیر اور دیگر علاقوں میں پہنچایا گیا تھا۔ کورونا وائرس کی وبا کے اس بحرانی دور میں بھی پاک فضائیہ نے اپنی شاندار روایت کو برقرار رکھتے ہوئے ریلیف آپریشن جاری رکھا ہوا ہے۔ پاک فضائیہ کے بہادر بیٹوں اور بیٹیوںکے انسانی خدمت کے جذبے کو سلام۔


ای پیپر