انسانی آبادیوں پر بھارتی گولہ باری
17 اپریل 2020 2020-04-17

کرونا وائرس نے کرۂ ارض کا نظام درہم برہم کر دیا ہے، لاکھوں لوگ اس بیماری کا شکار ہیں، پوری دنیا میں ذہنی انتشار ہے۔ دنیا کی توجہ صرف ایک چیز پر مرکوز ہے کہ کس طرح اس دشمن پر قابو پایا جائے، کیسے اس سے نجات حاصل کی جائے اور کیسے اس سے جنگ جیتی جائے ایسے میں بھارت پاکستان پر جنگ مسلط کرنے کی کوشش میں ہے۔ کرونا وائرس نے ساری دنیا میں ایک ہیجان کی کیفیت پیدا کی ہوئی ہے اور امریکہ، اٹلی، فرانس، چین، سپین، برطانیہ جیسے طاقتور اور ترقی یافتہ ممالک کرونا وائرس سے نمٹنے کے لئے پریشان ہیں مگر کنٹرول لائن پر بھارت نے تسلسل سے پاکستان سے چھڑ چھاڑ کا سلسلہ روزانہ کی بنیاد پر شروع کر رکھا ہے۔ پاکستان اور خود بھارت میں بھی کرونا وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے، لاک ڈاؤن سے انسانی زندگی بری طرح متاثر ہے، تمام کاروبارِ زندگی ٹھپ ہو چکا ہے اور لوگوں کو دو وقت کی روٹی بہم پہنچانا مشکل ہوا ہے۔

آزاد کشمیر میں بھارتی فوج کی جانب سے فائرنگ کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ آئے روز کا معمول بن چکا ہے، سرحدی آبادی کے لوگ بھارت کی وحشیانہ گولہ باری کی گھن گرج کے عادی ہیں۔ مگر حالیہ گولہ باری کے واقعات ایسے وقت میں پیش آئے ہیں جب لوگ کورونا وائرس سے خود کو بچانے کی خاطر گھروں کے اندر سمٹ کر رہ گئے ہیں اور انہیں بیرونی دنیا کی کوئی خبر نہیں ہے۔ گھروں سے نکلیں تو کرونا اورا گر گھروں میں رہیں تو بھارتی افواج کی شیلنگ کا سامنا۔ وہاں کے رہنے والے شش و پنج میں ہے کہ وہ کورونا سے بھاگیں یا ان پر گرنے والے گولوں سے۔ ایک طرف ساری دنیا میں لوگوں کو کورونا وائرس سے بچاؤ کے لئے سماجی فاصلے بڑھانے کا درس دے رہی مگر کشمیری عوام کے لئے گھروں میں رہنا خطرے سے خالی نہیں ہے۔ بھارتی افواج کی فائرنگ کی وجہ سے سماجی فاصلے کا تصور بالکل فوت ہو چکا ہے کیونکہ موت کا سایہ اس قدر بھانک ہے کہ گھروں میں رہنا ممکن ہی نہیں ہے۔ بھارت پاکستان پر جنگ مسلط کرنے کی کوشش میں ہے، مگر جنگوں میں بھی انسانی آبادیوں کو کم سے کم نقصان پہنچایا جاتا ہے تا کہ نہتے معصوم لوگوں کے جان و مال کو زیادہ نقصان نہ ہو لیکن بھارت کا المیہ یہی ہے کہ اس کی گولہ باری کا زیادہ نشانہ انسانی آبادیاں ہی ہوتی ہیں۔ اسے تو صرف بے بس عام لوگوں کو ہی اپنے

قہر کا نشانہ بنانا آتا ہے جو کسی بھی بیانئے کی رو سے کبھی بھی درست نہیں ہو سکتا۔ بڑے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ سات دہائیاں گزر جانے کے باوجود بھارت امن کا خواہاں کیوں نہیں ہے، وہ اپنی ظلم و ستم کی روش کو انسانیت کے تقاضوں سے ہم آنگ کیوں نہیں کرتا ہے۔

گزشتہ برس اگست میں بھارت نے کشمیر کو وفاق میں مکمل طور پر ضم کر کے خطے کو دو حصوں کشمیر اور لداخ میں تقسیم کر دیا تھا۔ بھارت سمجھتا تھا کہ کشمیری کبھی اس قانون کو تسلیم نہیں کریں گے اس لئے گزشتہ آٹھ ماہ سے کشمیر میں کرفیو نافذ ہے اور ساتھ ہی سیاسی رہنماؤں کے علاوہ ہزاروں سماجی شخصیات اور نوجوانوں کو گرفتار کیا ہوا ہے۔ بھارت نے کشمیریوں سے راو رکھے گئے رویے سے ابھی تک کچھ نہیں سیکھا، مقبوضہ کشمیر جب آزادی کے نعروں سے گونج اٹھا تو ہندو استعمار نے مقبوضہ کشمیر کا بڑے پیمانے پر لاک ڈاؤن کر کے مقبوضہ کشمیر کو ایک بڑی جیل میں تبدیل کر دیا۔ اس غیر انسانی سلوک پر دنیا ٹس سے مس نہ ہوئی چنانچہ قدرت کو دنیا کی یہ بے حسی پسند نہ آئی۔ اس نے دنیا بھر کی سرکش قوتوں کو اپنی بالادست قوت کرونا وائرس کے ذریعے زیر کر دیا۔ آج دکھی انسانیت مددکے لئے پکار رہی ہے مگر بھارتی افواج نے مقبوضہ وادی میں مظالم کا سلسلہ دراز کر رکھا ہے۔ گزشتہ 72 سالوں سے بھارت نے مقبوضہ کشمیر پر ناجائز قبضہ کر کے وہاں ظلم و ستم کی انتہا کی ہوئی ہے۔ نہتے کشمیریوں کا قتلِ عام اور خواتین کی عصمت دری آئے روز کا معمول بن چکا ہے۔ کشمیری قوم ظلم سہتے سہتے اور لاشیں دفناتے دفناتے تھک چکی ہے۔ ان مظالم سے تنگ آئے کشمیری حریت پسند بدلے میں جب بھارتی سکیورٹی فورسز پر حملے کرتے ہیں تو بھارت اس کا سارا ملبہ پاکستان پر ڈال کر آزاد کشمیر پر شیلنگ شروع کر دیتا ہے۔ جواب میں پاکستانی افواج اگر کوئی کاروائی کرتی ہیں تو دوسری جانب بھی کشمیری عوام ہی ہیں، بھارت اس بات کا خوب فائدہ اٹھاتا ہے وہ مقبوضہ کشمیری عوام کی آڑ میں آزاد کشمیر کے عوام پر شیلنگ کرتا رہتا ہے۔

اتوار کے روز آزاد کشمیر کے علاقے وادیٔ نیلم میں ہندوستانی فوج کی فائرنگ سے ایک دو سالہ بچہ موقع پر جان بحق ہو گیا۔ سوچنے کی بات ہے کہ اس معصوم کا کیا قصور تھا جسے ان لوگوں نے ابدی نیند سلا دیا، اس کی ماں پر کیا گزر رہی ہو گی ۔ بھارت ایسا ہی کھیل ادھر مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھی کھیل رہا ہے ، ہزاروں کشمیری ماؤں نے اپنے جگر کے ٹکڑوں کو اسی صورت الوداع کیا ہے اور کئی کو تو بھارتی سیکورٹی اداروں نے گھروں سے زندہ اٹھا لیا ہے، ان کی مائیں تو اب بھی اپنے بچوں کے انتظار میں ہیں کہ شائد وہ لوٹ آئیں گے مگر ان کے انتظار کی گھڑیاں ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی ہیں۔ بھارت میں تبلیغی جماعت کی آڑ میں مسلم مخالف مہم شروع ہے، ہسپتالوں میں اور دوسرے مقامات پر امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے۔ مسلم مریضوں کو دیکھ کر ڈاکٹر اور دوسراپیرا میڈیکل سٹاف بھاگ کھڑا ہوتا ہے۔ کئی علاقوں میں مسلمانوں کا اقتصادی بائیکاٹ بھی شروع ہو گیا ہے۔ بھارتی حکومت اور عوام مسلمانوں کو ایزائیں اور تکلیفیں پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ ہندو توا کی پروردہ حکومت کے دوسری مرتبہ برسرِ اقتدار آنے کے بعد سے بی جے پی کے انتہا پسند ہندوؤں کی شر انگیزیوں سے وہاں کے مسلمانوں کو بڑی دشواری کا سامنا ہے۔ حکومت دہشت گرد تنظیم آر ایس ایس کے اشاروں پر پارلیمنٹ میں بیٹھ کر مسلمانوں کے خلاف ایسے قوانین بنا رہی ہے جس کی وجہ سے پورے بھارت کے مسلمان تذبذب اور اضطراب کا شکار ہیں۔ حکومت کی بھی مسلمانوں سے دشمنی اور دنگا فساد کی سازشیں نمایاں ہو رہی ہیں۔ حکومتی سرپرستی میں گاہے بگاہے سنگدل اور بے رحم شرپسند لوگ مسلمانوں کی املاک اور مساجد کو بھی نذرِ آتش کر رہے ہیں۔

بھارتی آرمی چیف جنرل مکند نروا نے الٹا پاکستان پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان مجاہدین کو گولہ باری کی آڑ میں بھارت کی طرف دھکیل رہا ہے اور اگر پاکستان اپنی کاروائیوں سے باز نہیں آیا تو بھارتی فوج پاکستانی حدود میں داخل ہو کر کسی بھی کاروائی سے گریز نہیں کرے گی۔ بھارتی افواج نہتے کشمیریوں کو ایذائیں پہنچانے اور مظلوم کشمیریوں پر ظلم و ستم کرنے کے لئے ایسے ہی بہانے تراشتی رہتی ہیں تا کہ ان کی آڑ میں مقبوضہ کشمیری عوام پر جبر و استبداد کے پہاڑ توڑ سکے۔ بھارتی آرمی چیف ایک بار پھر پاکستان کو سرجیکل سٹرائیک کی دھمکی دے رہے ہیں جب کہ وہ گزشتہ سال فروری میں اس طرح کی غلطی کر کے دیکھ چکے ہیں کہ انہیں اقوامِ عالم میں کتنی ذلت اور رسوائی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔


ای پیپر