شاباش اے میری قوم!!!
17 اپریل 2020 2020-04-17

میرے پاس تو الفاظ نہیں ہیں کہ کیسے تعریف کروں، اپنی قوم کے لوگوں کی اور ان کے حوصلوں اور فراخ دلی کی کہ پریشانی، کرب اور دکھ اس گھڑی میں انصار مدینہ کی یاد تازہ کر دی ۔ وہ جو بد حال، مفلوک، لٹے ہوئے اور کمزور و لاچار لوگ تھے۔ جو روزانہ دیہاڑی لگا کر بمشکل اپنے گھر والوں کا پیٹ پالتے تھے اورپھرجنہیں کورونا وائرس کے آسیب نے ہر جانب سے گھیر لیا ، بھوک، افلاس، اور فاقے ان کا مقدر بننے جارہے تھے ۔ بھلا ہو میری قوم کے درد دل رکھنے والے لوگوں کا جنہوں نے اپنے رزق میں ان لوگوں کو شامل کیا اور دل کھول کر ہر طرح سے معاونت کر نے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔ جس کی بر کت سے وہ جو لوگ جو پہلے شدید محنت اور دن بھر کی جدو جہد کے باوجود بھی فاقوں کی زندگی گذارنے پر مجبور تھے، انہیں ان دنوں میں بے تحاشہ راشن تقسیم کیا گیا اور جس کی بدولت میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ کسی کا چولہا ٹھنڈا نہیں رہا، کسی کے گھر فاقوں نے جنم نہیں لیا اور ہر شخص مطمئن اور شاد نظر آیا۔

یہ بڑی فرحت افزا بات ہے کہ نہ صرف عام لوگوں بلکہ حکومتی محکموں کے کارکنان اور افسران نے بھی اس مشکل ترین گھڑی میں اپنا بھرپور حصہ ڈالا ہے ۔ تقریباََ ہر محکمے کے لوگوں نے اپنی تنخواہوں میں سے کٹوتی کرواکر کورونا ریلیف فنڈ میں جمع کروائی جس کی وجہ سے مستحقین تک راشن اور طبی عملے تک کٹس اور دوسری لازمی چیزیں پہنچائی گئیں۔ محکمہ پولیس کہ جنہیں برا کہتے کہتے ہماری زبان نہیں تھکتی اور بطور فیشن کے اور کار ثواب سمجھتے ہوئے ان کی مخالفت کر نا فرض عین سمجھتے ہیں ، انہوں نے بھی خدمت انسانیت کے حوالے سے تاریخ رقم کر ڈالی ، اپنی تنخواہوں کا ایک حصہ دے کر ہر تھانے کی حدود میں

سیکڑوں مستحقین تک راشن پہنچانے کا بیڑہ اٹھایا ۔ اسی طرح لاہور کی ضلعی انتطامیہ اور بالخصوص ڈی۔سی۔او لاہو دانش افضال نے تو کمال کر کے رکھ دیا اور جن کی کاوشوں کو دیکھ کر ہمیں خادم اعلیٰ شہباز شریف کی یاد ستانے لگی کہ وہ بھی دیوانہ وار پنجاب کے لوگوں کی خدمت کے لئے بے چین دکھائی دیتے تھے ۔ دانش افضال نے اپنی زیر نگرانی شہر کے پانچ ہزار سے زاہد مقامات پر کلورین کا سپرے کروایا اور قرنطینہ مراکز میں اضافہ کرتے ہوئے کا لا شاہ کاکوسمیت تین مراکز صرف اڑتالیس گھنٹوں میں فعال کئے ۔ جبکہ صرف چوبیس گھنٹوں کے دوران دو سو بیڈز کا فیلڈ ہسپتال اور نو روز کی اتہائی قلیل مدت میں ایکسپو سینٹر میں ایک ہزار بیڈز کا ہسپتال قائم کر نے کا سہرا بھی ان کو جاتا ہے ۔ اس بے یقینی کی صورتحال میں سب سے بڑا مسئلہ ذخیرہ اندوزوں اور مصنوعی مہنگائی مافیاز سے تھا،اور اندیشہ یہ تھا کہ یہ لوگ اپنے پنجے نہ گاڑ لیں۔ لیکن اس محاذ پر بھی یہ اور ان کی پوری ٹیم مستعد اور متحرک دکھائی دی اور پھر سب سے بڑی بات مستحقین تک راشن کی فراہمی اور احساس پروگرام کے تحت رقم کی فراہمی کا جو مشکل ترین کام تھا ، اسے بھی بخوبی سر اانجام دیا گیا ہے اور ابھی تک اس حوالے سے ایک بھی شکایت سننے کو نہیں ملی ہے ۔ اس کے علاوہ شہر کے مختلف مقامات پر شہریوں کو صفائی کی اہمیت سے آگاہ کر نے اور کورونا وائرس سے محفوظ رہنے کے لئے جگہ جگہ سیناٹیزر اور پانی کا انتظام بھی کیا گیا ہے ۔

قارئین محترم!ویسے تو پورے ملک میں ذات پات و برادری سے بالاتر ہو کر لوگ اور محکمے راشن کی فراہمی کو یقینی بنا رہے ہیں لیکن گذشتہ دنوں ایک دوست کی جانب سے پیغام موصول ہوا کہ کسی نے خدا واسطے لاہور کے ریڈ لائٹ ایریا ٹبی گلیوں میں بھی راشن تقسیم کیا ہے ؟ یہ چونکہ بڑی اہم بات تھی کہ نا چاہتے ہوئے بھی ہم ایسے لوگوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں ۔ اس حوالے سے میں نے اپنے تئیں کو شش شروع کی اور اخوت کے بانی اور محسن پاکستان جناب ڈاکٹر امجد ثاقب سے اس بارے درخواست کی ، انہوں نے ہمیشہ کی طرح کمال شفقت اور محبت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس علاقے میں راشن تقسیم کر نے کی میری درخواست کو قبول کر لیااور انتہائی احسن انداز میں یہ مستحقین تک پہنچا گیا جس کے لئے میں بالخصوص شکر گذار ہوں لاہور پویس اورایس۔پی سٹی جناب صفدر رضا کاظمی کا جنہوں نے راشن کے تقسیم کے عمل کو آسان بنا نے میں مدد دی ۔

قارئین محترم !اخوت سمیت کئی فلاحی تنظیمیں اب تک کروڑوں لوگوں تک بغیر کسی کی عزت نفس کو مجروح کئے ، راشن پہنچا چکی ہیں اور یہ عمل پہلے سے بھی زیادہ تیز ہو ا ہے اور یقینی طور پر یہ سب اہل خیر اور مخیر حضرات کے تعاون سے ہی ممکن ہو پارہا ہے ۔ ایسے ہی وزیر اعظم جناب عمران خان اور صوبوں کے گورنرز تک روزانہ کی بنیادوں پر ملک کی تاجربرادری فنڈز پہنچا رہی ہے اور خوش آئند بات تو یہ ہے کہ لوگ ابھی تک اسی جوش اور جذبے کے ساتھ میدان عمل میں مصروف ہیں بلکہ ان لوگوں اور تمام محکموں کے ملازمین و افسران کے جذبہ ء خدمت خلق میں مزید اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ بلاشبہ یہ میری قوم کا حسن ہے کہ مشکل ترین حالات میں بھی امیداور یقین کے رستے کی مسافر بنی ہوئی ہے اور تاریخ گواہ ہے کہ ایسے لوگوں کو پھر کوئی مشکل اور کوئی سختی شکست نہیں دے سکتی ۔ تو پھر اس موقع پر میرا یہ کہنا حق بجانب ہے کہ شاباش اے میری قوم !!!


ای پیپر