کاروبار سماجی دوری سے
17 اپریل 2020 2020-04-17

دنیا میں آفات و مشکلات ختم ہوجائیں تو پھر جنت کی خواہش اور تصورکون کرے۔دوسری طرف انسان کو اشرف المخلوقات کہا ہی اس لیے گیا ہے کہ ان مشکلات اور آفات سے نکلنے کے بہترین تدبیر کی قوت سے بھی اسے ہی نوازا گیا ہے۔کہا جاتا ہے کہ غم کو طاقت میں بدلنے کا ہنر جو جان لیتا ہے پھر اسے کوئی پچھاڑ نہیں سکتا۔اس وقت دنیا کو جس آفت کا سامنا ہے شاید تاریخ میں ایک وقت میں پوری دنیا کو لپیٹ لینے والی ایسی وبا نہیں تھی۔ ہاں چند ملکوں یا دو تین براعظموں تک تو کوئی وبا پھوٹی لیکن تمام ممالک ایک ساتھ کسی خاص مشکل کا شکار کبھی نہیں ہوئے۔شاید یہی اب بنی نوع کے امتحان کا اصل وقت ہے۔ تدبیر کا وقت ایک دوسرے کا ساتھ دینے کا وقت کسی کی ماننے کا وقت، ٹھہرنے، سمجھنے اور اطاعت کا وقت کورونا وائرس کا پھیلاﺅ روکنے کے لیے حکومتیں اور عالمی تنظیمیں مشترکہ کوششوں میں مصروف ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ نجی ادارے اور مختلف لوگ بھی ذاتی حیثیت میں کچھ نہ کچھ کر رہے ہیں۔ پاکستان میں کاروباری سرگرمیاں اور علاقائی سطح پر دکانیں کھولنے یا بند رکھنے پراختلاف پایا جاتا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ عام لوگ اس صورت حال سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔خصوصا مزدور طپقہ اور کم تنخواہوں پر ملازمت کرنے والوں کی کمر ٹوٹ چکی ہے۔تاحال کورونا وائرس سے بچاﺅ کی ویکسین تیار نہیں کی جاسکی اور نہ ہی علاج کی کوئی دوا۔اس سے بچاو¿ صرف اور صرف سماجی دوری اور قرنطینہ سے ممکن ہے۔یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں عوام سے کہا گیا ہے کہ غیرضروری باہر نکلنے سے گریز کیا جائے۔کورونا کے تیزی سے پھیلاﺅ کی وجہ سماجی و مذہبی اجتماعات اور میل میلاپ کو قرار دیا جارہا ہے۔اگر شروع میں ہی سماجی دوری کی جاتی تو آج جس صورت حال کا سامنا دنیا کو کرنا پڑ رہا ہے ایسا ہرگز نہیں ہوتا۔ حالات اتنے خراب ہوئے کہ لاک ڈاو¿ن سے بڑھ کر نوبت کرفیو تک پہنچ چکی ہے۔اس کے باوجود کورونا کی وجہ سے اموات کی شرح میں کمی کے بجائے اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے۔کورونا نے دنیا کی معیشت کو بھی تباہ کردیا جس کی وجہ سے کروڑوں لوگ بیروزگار ہو چکے ہیں۔لوگ یہ بھی کہہ رہے ہیں کورونا سے وہ مرتے ہیں یا بچتے ہیں نہیں معلوم ، لیکن بھوک اور بچوں کی ضروریات پوری نہ کرنے کی شرم انہیں ضرور مار دے گی۔یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان کی معاشی صورت حال ایسی نہیں کہ حکومت کی جانب سے ہر گھر پر راشن پہنچایا جاسکے۔دستیاب معلومات کے مطابق کورونا کی وبا سے چھٹکارا جلد یا چند ماہ میں ممکن نہیں، معاملہ دور تک جائے گا۔طویل عرصے تک سماجی دوری یا سوشل ڈسٹنسنگ پر عملدرآمد کرانا بھی ناممکن دیکھائی دیتا ہے۔لیکن دنیا کے بعض ممالک نے سماجی دوری یقینی بنانے کے لیے اچھے اقدامات کیے ہیں جو قابل تقلید ہیں۔کچھ ملکوں میں لوگوں کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے سپر اسٹور اور دکانیں کھلی رکھی ہوئی ہیں۔خریداری کے موقع پر سماجی دوری یقینی بنانے کے لیے اہل خانہ کے ساتھ خریداری کرنے پر پابندی لگائی گئی ہے۔ جنوبی امریکا کے ملک پیرو میں میاں بیوی ایک ساتھ نہیں نکل سکتے ہیں۔ پیرو کی حکومت نے مردوں اور عورتوں کے لیے تین تین دن مختص کر دیے ہیں۔تین دن مرد گھروں پر رہیں گے اور اسی طرح تین روز عورتیں گھر پہ ہوں اور مرد خریداری کریں گے۔اس قانون کا بنیادی مقصد دکانوں پر رش کم کرنا اور ضروریات کی اشیا کی فراہمی بھی یقینی ہو گی۔وکی لیکس کی وجہ سے مشہور سنٹرل امریکا کے ملک پاناما میں بھی خواتین اور مردوں کے لیے خریداری کے دن مخصوص کیے گئے ہیں۔ اسی طرح برطانیہ کی مارکیٹس اور بڑے بڑے سپر اسٹورز پر بھی میاں بیوی ایک ساتھ شاپنگ نہیں کر سکتے۔دونوں میں سے ایک کو مارٹ میں جانے کی اجازت ہوتی ہے۔ اس پابندی کا مقصد سماجی دوری کو یقینی بنانا ہے فیملی اگر ایک ساتھ خریداری کرنے اسٹور میں جائے گی تو سماجی دوری ممکن نہیں ہو سکے گی۔میاں بیوی خریداری کے لیے مشاورت میں بھی وقت ضائع کرتے ہیں اس طریقے کو اپنانے سے اسٹور میں زیادہ رش بھی نہیں لگے گا۔ یہ نظریہ باہر کے ملکوں میں کامیاب ہو سکتا ہے تو پاکستان میں بھی اس کا تجربہ کرلینا چاہیے۔پاکستان کے عوام باشعور ہیں یہاں بھی اس طرح کے اقدامات کیے جاسکتے ہیں۔ سماجی دوری کے ساتھ کاروبار شروع کرنے لوگوں کا روزگار بھی لگا رہے گا اور بڑے پیمانے پر بیروزگاری کا خدشہ بھی ٹل سکے گا۔


ای پیپر