Photo Credit : Yahoo

جسٹس اعجا ز الاحسن کے گھر پر فائرنگ کروانے میں کون ملوث تھا ؟ سنسنی خیز انکشافات
17 اپریل 2018 (22:21)

اسلام آباد :معرو ف صحافی نے نجی ٹی وی چینل پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں علی الا علان کہتا ہوں کہ جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر پر فائرنگ کوئی اکلو تا اور معمولی واقعہ نہیں ہے یہ تیسری مرتبہ ہے کہ ن لیگ عدلیہ کیخلاف اپنے عزائم دکھا رہی ہے اس سے قبل انہوں نے سپریم کورٹ کی عمارت پر حملہ کیا ،پھر ججز کو دھمکیاں دی گئیں ،صحافی نے انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ جسٹس اعجاز الاحسن کو دراصل ن لیگ کے وزیر دانیال عزیز نے دھمکیاں دی تھیں ،صحافی کے مطابق 20اپریل کے فیصلے پر ایف زیڈ ای کا ذکر تھا ۔دانیا ل عزیز نے نواز شریف کی موجودگی میں کہا تھا کہ اس جج کے بارے میں ہم نے بہت کچھ اکٹھا کر لیا ہے اب ان کو جواب دینا پڑےگا ،دانیال عزیز کی اس بات کا ویڈیو کلپ بھی منظر عام پر آچکاہے ۔


دانیال عزیز کیخلاف جو توہین عدالت کیسز چل رہے ہیں ان میں دو وہی ہیں جن میں انہوں نے جسٹس اعجاز الاحسن کے خلاف بیان دیا ۔دوسری جانب سابق گورنر پنجاب اور معروف قانون دان اور پیپلزپارٹی رہنما لطیف کھوسہ نے نجی ٹی وی کے پروگرام ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایک د ن پہلے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں ن لیگ کا لوہے کا ایک چنا پیش ہوا تھا وہ جب عدالت سے با ہر نکلا تو اس قدر غصے میں تھا کہ کوئی سوچ نہیں سکتا ۔اس کے بعد جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ۔خیال رہے کہ پیپلزپارٹی رہنما لطیف کھوسہ کا اشارہ وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعدرفیق کی جانب تھا ۔ جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر پر فائرنگ کے واقعے سے ایک روز سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس کی سربراہی میں بنچ نے ریلوے میں 60ارب خسارہ کیس کی سماعت کی تھی جس میں چیف جسٹس نے خواجہ سعد رفیق کو کٹہرے میں بلاتے ہوئے کہا تھا کہ سعد رفیق صاحب آپ روسٹرم پر تشریف لائیں اور ساتھ لوہے کے چنے بھی لے آئیں ۔چیف جسٹس نے خواجہ سعد رفیق کو یہ بات ان کی ایک تقریر کے حوالے سے کی تھی جس میں انہوں نے لوہے چبوانے کا ذکر کیا تھا ۔چیف جسٹس کی اس بات پر خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ انہوں نے یہ بات اپنے سیاسی مخالفین کیلئے کی تھی ۔


ای پیپر