نواز شریف ،مریم نواز عدلیہ مخالف تقاریر کی سماعت کا فیصلہ سنا دیا گیا
17 اپریل 2018 (17:20)

اسلام آباد : نواز شریف ،مریم نواز کی عدلیہ مخالف تقاریر پابندی کی سماعت کرتے ہوئے کہا کہ ہر اخبار میں خبریں لگی ہیں کہ لاہور ہائی کورٹ نے تقریر پر پابندی لگا دی ،یہ پیمرا ہے یا یتیم خانہ ،ہائیکورٹ کے فیصلے کی جعلی خبر چلائی گئی ۔چیف جسٹس نے کہا کہ دکھائیں فیصلے میں پابندی کہاں ہے ،جسٹس عظمت سعید نے کہا یہ پیمرا ہے یا یتیم خانہ ،خبروں کو ٹوئسٹ کرکے چلایا گیا ،پیمرا نے کیا ایکشن لیا ۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے نواز شریف اور مریم نواز کی عدلیہ مخالف تقاریر پر پابندی سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے پر ازخود نوٹس نمٹا دیا ۔چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے لاہور ہائیکورٹ کے گزشتہ روز فیصلے پر لیے گئے از خود نوٹس کی سماعت کی ، اس موقع پر قائم مقام چیئرمین پیمرا اور اٹارنی جنرل عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔ عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کے آرڈر کی غلط رپورٹنگ پر شدید برہمی کا اظہار کیا اور سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس نے کہا کہ اٹارنی جنرل عدالتی آرڈر پڑھیں اور دکھائیں کہ فیصلے میں پابندی کہاں لکھا ہے۔

عدالتی حکم پر اٹارنی جنرل نے لاہور ہائیکورٹ کا آرڈر پڑھتے ہوئے کہا کہ ہائیکورٹ نے عدلیہ اور ججز کے خلاف تقاریر کا پیمرا کو روکنے کا حکم جاری کیا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ صحت مندانہ تقریر اور تنقید سے کبھی نہیں روکا، خبر کو ٹوئسٹ کر کے چلایا گیا، اس پر پیمرا نے کیا ایکشن لیا۔قائم مقام چیئرمین پیمرا کہا کہ غلط خبر پر ایکشن لیا ہے اور چینل کو فوری نوٹس جاری کریں گے۔چیف جسٹس نے کہا کہ بنیادی حقوق کو کم نہیں کریں گے جب کہ عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کے نواز شریف اور مریم نواز کی عدلیہ مخالف تقاریر سے متعلق فیصلے پر لیے گئے ازخود نوٹس کو نمٹا دیا ۔


ای پیپر