طیبہ تشدد کیس میں سابق جج اور ان کی اہلیہ کو ایک ایک سال قید کی سزا
17 اپریل 2018 (12:20) 2018-04-17


اسلام آباد:اسلام آباد ہائیکورٹ نے گھریلو ملازمہ طیبہ پر تشدد کے مقدمے کافیصلہ سنا تے ہوئے سابق ایڈیشنل سیشن جج خرم علی خان اوراہلیہ ماہین کوایک ایک سال قیدکی سزا جبکہ 50،50ہزار روپے جرمانہ عائد کر دیا،دونوں کو کمرہ عدالت سے گرفتار کر لیاگیا ۔


تفصیلات کے مطابق اسلام آبادہائیکورٹ کے جسٹس عامرفاروق نے 27مارچ 2018 کو محفوظ کیا گیا طیبہ تشدد کیس کا فیصلہ سنایا۔ عدالت نے ملزمہ ماہین ظفر اور راجہ خرم علی خان کو بھی طلب کررکھا تھا ۔اسلام آباد میں گھریلو ملازمہ طیبہ پر تشدد کا واقعہ 27 دسمبر 2016میں سامنے آیا۔پولیس نے 29 دسمبر کو سابق جج راجہ خرم علی خان کے گھر سے طیبہ کو تحویل میں لے کر کارروائی شروع کی ۔دونوں ملزمان کیخلاف تھانہ آئی نائن میں مقدمہ درج کیا گیا ۔3 جنوری 2017کو طیبہ کے والدین نے راجہ خرم اور اسکی اہلیہ کو معاف کردیا۔راضی نامے کی خبریں سامنے آنے پر چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے معاملے کا از خود نوٹس لیا ۔


سپریم کورٹ کے حکم پر پولیس نے 8جنوری 2017 کو طیبہ کو بازیاب کراکے پیش کیا۔عدالتی حکم پر 12جنوری 2017کو راجہ خرم علی خان کو کام سے روک دیا گیا۔چیف جسٹس آف پاکستان نے مقدمے کا ٹرائل اسلام آباد ہائیکورٹ کو بھجوایا۔10 فروری کو ایڈیشنل سیشن جج راجہ آصف علی نے ملزمان کی عبوری ضمانت کی توثیق کی ۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے 16مئی 2017 کو ملزمان پر فرد جرم عائد کی ۔


مقدمے میں مجموعی طور پر 19 گواہوں کے بیانات قلمبند کیے گئے ۔گواہوں میں 11 سرکاری جبکہ طیبہ کے والدین سمیت 8 غیر سرکاری افرادشامل تھے۔


ای پیپر