گالی سے گولی تک!!!
17 اپریل 2018

سپریم کورٹ آف پاکستان کے عزت مآب جج جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر پر فائرنگ کے دو افسوسناک واقعات اور وفاقی دارالحکومت میں اسلام آباد ہائیکورٹ اور ماتحت عدلیہ کے ججز سے سرکاری گھروں کی الاٹمنٹ واپس لینے کے نوٹیفکیشن سے مجھے زمانہ طالبعلمی میں دیکھی ہوئی مزاحیہ فلم ”Crazy Boys In War “ یاد آگئی ، جس میں چلتے ہوئے ٹینک کو روکنے کیلئے فروٹ کا بھرا ہو اکریٹ آگے رکھا جاتا ہے ، ظاہر ہے ایسے اقدامات سے چلتے ہوئے ٹینک کو نہیں روکا جا سکتا بلکہ دیکھنے والے کو ہنسانے کا باعث ضرور بن سکتے ہیں ۔ حکومتی اختیار، ریت کی طرح مٹھی سے نکلتا چلا جا رہا ہے اور اب نوبت یہاں تک آ گئی ہے کہ کسی وزیر ، مشیر کے پاس کوئی اختیار نہیں لگ رہا ۔ چیئرمین پیمرا کی تلاش کیلئے قائم کی گئی کمیٹی سے وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب صاحبہ کو نکال دیا گیا ہے اور ان کی جگہ وفاقی سیکرٹری اطلاعات و نشریات سردار احمد نواز سکھیرا کو شامل کیا گیا ہے ۔ لاہور ہائی کورٹ نے سابق اور نا اہل وزیراعظم میاں نوازشریف اور ان کی دختر نیک اختر مریم نواز یا مریم صفدر کی تقاریر کی نشر و اشاعت نگرانی سے مشروط کرتے ہوئے پیمرا کو 15دن میں زیر سماعت درخواستوں پر فیصلہ کرنے کا حکم جاری کیا ہے ۔ ایک ریٹائرڈ خواجہ کے گھر چائے پینے پر خواجہ سعد رفق کی کھینچائی نے سفارش کے بروئے کار آنے کے امکانات ختم کر دیے ہیں۔جمعتہ المبارک کو میاں نوازشریف کو دائمی نا اہل قرار دیتے ہوئے سپریم کورٹ نے معاملے کو ایک طرح سے حتمی طور پر طے کر دیا ہے ۔ وزارت اطلاعات و نشریات میں اشتہارات کی تقسیم کے ایک ذمہ دار کو ایک بڑے افسر کے سر سے مصیبت ٹالنے کیلئے قربانی کا بکرا بنایا گیا ہے ، یہ ٹھیک ہے کہ اس افسر کو او ایس ڈی بنانے کے بعد اس کے نت نئے سوٹ خریدنے اور سلوانے کا سلسلہ وقتی طور پر رک جائے گا مگر کنویں کا پانی پاک نہیں ہو گا ۔
انٹیلی جنس بیورو کے سربراہ آفتاب سلطان ان گنت بارتوسیع لینے کے بعد فی الحال ناگزیر نہیں لگ رہے اور اعلی ترین سویلین ادارہ اپنے نئے سربراہ سے محروم ہے ۔ گلبرگ ہاﺅسنگ سوسائٹی کے کرتا دھرتا اپنی مرضی کا ڈائریکٹر جنرل تعینات کروانے کیلئے نوٹوں کی بوریاں لیے گھوم رہے ہیں مگر حکومتی جماعت کو نئے طرح کے چیلنجز کا سامنا ہے اور آنے والے عام انتخابات کیلئے حکمت عملی ، امیدواروں کا چناﺅ سمیت دیگر معاملات کیلئے موزوں قسم کا امیدوار درکار ہے لیکن اس مشکل وقت میں کسی بھی محکمہ میں کوئی بھی کیریئر افسر یہ خاص ذمہ داری نبھانے کیلئے تیار نہیں ہے۔ ایڈیشنل سیکرٹری اور گریڈ اکیس کے سینیئر ترین لیکن ایماندار افسر چھٹی لینے پر آمادہ ہیں کچھ لے چکے ہیں اور باقی تیار بیٹھے ہیں ‘ حکومت چلانا ہر گزرتے دن کے ساتھ مشکل تر ہوتا جائیگا۔ماضی میںبے نظیر بھٹو کے ” بریف کیس“”چمک“ اور ”کینگرو کورٹس“ کے الزامات کے بعد نہال ہاشمی کی گالی سے بات اب گولی تک آ پہنچی ہے۔
جسٹس اعجاز الاحسن کے گھر پر فائرنگ کا واقعہ قابل مذمت ہے اور ناقدین اس معاملے کو نہال ہاشمی کی قابل اعتراض تقریر کے ساتھ جوڑ رہے ہیں اور وہ اس لئے جوڑ رہے ہیں کہ یہ موقع ملا ہے ‘ جسٹس اعجاز الاحسن ماڈل ٹاﺅن سانحہ‘ پانامہ کیس اور پھر پانامہ ٹرائل کے نگران جج کے طور پر کسی نہ کسی صورت ہر حکومتی معاملے پر منظر نامہ میں ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) پر ابھی سپریم کورٹ آف پاکستان پر 1997 کے حملے کا داغ مدہم نہیں ہوا تھا کہ اب اعلیٰ ترین جج پر یاا ن کے گھر پر گولیاں چلنے کا تاریخ ساز واقعہ سامنے آ گیا ہے۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ کی جانب سے ”گاڈ فادر“ اور جسٹس عظمت سعید شیخ کی جانب سے ”سسیلین مافیا“ کا تذکرہ بہت ناگوار گزرا تھا مگر اب کیا کیا جائے کہ مجھے ایک مافیا ڈان کا برسوں چلنے والا ایک کیس یاد آ رہا ہے جس میں ٹرائل کے دوران بیسیوں ججز قتل ہو گئے یا مار دیئے گئے اور بیس سال سے زائد وہ کیس چلتا رہا اور بالآخر اس کیس کا فیصلہ 2016 یا 2017 میں ہوا۔
لاہور میں فائرنگ کا واقعہ ایک زبردست موقع ہے کہ پنجاب حکومت اس چیلنج کو قبول کرتے ہوئے ذمہ داران کو پکڑ کر سب کے سامنے لائے تاکہ ان پر اٹھنے والی انگلیاں اور زہر اگلتی زبانوں کو جواب دیا جا سکے۔ اس طر سے نہ طرف ججوں پر حملے کے حوالے سے الزام دھل سکے گا بلکہ پنجاب کی امن و امان کی عمومی اور لاہور سیف سٹی پراجیکٹ کی خصوصی صورتحال کو بطور کارکردگی منوانے کا موقع مل پائے گا۔
رہا سوال اسلام آباد ججز کے حوالے سے گھروں کی الاٹمنٹ کا معاملہ تو جمعیت علمائے اسلام (ف) کی تاریخ ”درخشاں“ روایات سے بھری پڑی ہے ‘ مولانا فضل الرحمن کے وزیراعلیٰ ہوں یا وزراءان کے بارے میں کیا عرض کیا جائے کہ مولانا صاحب کو جب بھی حکومت وقت کے ساتھ پارٹنر شپ کا موقع ملتا ہے تو وہ کشمیر کمیٹی کی سربراہی کے ساتھ ساتھ ہاﺅسنگ ‘ مواصلات یا پٹرولیم جیسی منافع بخش وزارتوں کی شرط رکھتے ہیں اور پھر جب وہ وزارت مل جاتی ہے کہ تو پھروہ تباہی مچتی ہے کہ الاامان والحفیظ۔ وزیر ہاﺅسنگ اکرم درانی کی ”بادشاہی“ میں دو فائدے ہوتے ہیں ہر کرپٹ پختون افسر کو پوسٹنگ کی امید لگ جاتی ہے ، دوسرا نذرانہ دینے والا کوئی سرکاری افسر بے گھر نہیں رہتا ۔ جناب اکرم درانی نے اپنے ایک پرسنل اسسٹنٹ کو ایک فلیٹ الاٹ کرنے کے بعد اس کی تزئین و آرائش کیلئے لاکھوں روپے بھی جاری کےے ،جس میں صرف دیواریں نئی کھڑی نہیں کی گئی تھیں ،باقی سب کچھ نیا تھا ۔ اس دو کمرے کے فلیٹ کی تزئےن و آرائش پر جس ماہ بیس لاکھ سے زائد خرچہ کیا گیا اس ماہ میں پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ کے بعض ملازمین کو چار ماہ سے تنخواہ نہیں ملی تھی ۔ وزارت ہاﺅسنگ کے تمام اعلی اور پبلک ڈیلنگ والی پوسٹوں پر اکرام درانی نے ایک ایک کر کے اپنے کار خاص تعینات کےے اور بی بلاک کے دو فلور پر بندہ نہ بندے کی ذات ہے ۔۔ والا لطیفہ یاد آ جاتا ہے ۔ باقی اگر شہداءکی زمینوں پر مولانا قبضہ کر سکتے ہیں تو وہ کچھ بھی کر سکتے ہیں یہ الگ بات ہے کہ اکرم درانی کی ساری بدنا می مسلم لیگ ن کے کھاتے میں جمع ہوتی رہی ہے اور 2018ءکے اانتخابات میں سارے حساب چکتے ہو جائیں گے ۔
تازہ ترین یہ ہے کہ تحریک انصاف میں ٹکٹوں کی تقسیم پر ایڈوانس پکڑنے والے اعلی عہدیے دار فارغ ہو نے والے ہیں ۔تفصیل کل عرض کروں گا ۔


ای پیپر