سابق بادشاہ سلامت اور موجودہ عدلیہ !
17 اپریل 2018 2018-04-17

اِس کے باوجود کہ عدلیہ کو بدنام کرنے کی کوئی کسر سابقبادشاہ سلامتاور ”شہزادی شریف“ نے اُٹھا نہیں رکھی تھی وہ عدلیہ سے یہ توقع کررہے تھے اُن کی ناہلی کی مدت کم ہو جائے گی جس کے بعد اگلے الیکشن میں وہ ایک بار پھر قیمے والے نانوں اور بریانی وغیرہ کے بل بوتے پر لوگوں کے ووٹ ہتھیانے میں کامیاب ہو جائیں گے، ....افسوس سپریم کورٹ کے حالیہ ”تاحیات“ نااہلی کے فیصلے سے ان کی ساری اُمیدوں پر پانی پھر گیا۔ اُس کے بعد زیادہ امکان یہی تھا اُن کی دماغی حالت مزید بگڑ جائے گی اور عدلیہ پر پہلے وہ زبانی طورپر حملہ آور ہورہے تھے پھر عملی طورپر حملہ آور ہونے کی کوشش بھی کریں گے۔ جیسا کہ اُن کی فطرت ہے۔ منتقم مزاجی میں جتنا کمال اُنہیں حاصل ہے شاید ہی اور کسی سیاسی حکمران یا سیاستدانوں کو ہوگا۔ میں نے اُن کے بارے میں ہمیشہ یہ لکھا اُن کی کسی بات سے اختلاف کا تو خیر تصور بھی کوئی نہیں کرسکتا، اُن کی کسی بات سے ”اتفاق“ بھی کوئی ادب آداب سے، یعنی جُھک کر نہ کرے اُن کی نظر میں وہ بھی اُن کا بہترین مخالف یا دُشمن ہی ہے۔ ان کے ایک ایم پی اے نے ذرا سراُٹھا کر اِن کی کسی بات پر کہا تھا ”آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں“ تو اُس سے وہ ناراض ہوگئے تھے کہ تمہیں تمیز نہیں ہے ہم سے اتفاق کرنے کی ؟ ۔ اپنی فیکٹری کا نام اُنہوں نے ”اتفاق “ رکھا ہوا ہے مگر ہر معاملے میں جتنی ”بے اتفاقی“ یہ پسند کرتے ہیں شاید ہی اور کوئی کرتا ہوگا ۔ البتہ ایک بات پر ان کا مکمل ”اتفاق“ ہے کہ سیاست صرف لوٹ مار کا نام ہے۔ سیاست کو اس مقام پر لاکر اُنہوں نے کھڑے کردیا ہے کوئی سیاستدان لوٹ مار نہ کرے اُسے اپنے اِس عمل پر شرمندگی محسوس ہونے لگتی ہے، اُسے محسوس ہونے لگتا ہے جیسے وہ سیاست نہیں کررہا کوئی چول ماررہا ہے۔ اور بھی وجوہات ہوں گی جس کی بنیاد پر جنرل مشرف کے یہ خلاف ہیں، مگر جس وجہ سے یہ اُس کی جان کے دشمن ہیں وہ یقیناًیہی ہوگی میڈیا کو اس نے اپنے دور میں اتنا فعال کردیا جس کا خود اُسے بھی نقصان ہوا۔ مگر جتنا نقصان شریف برادران کو ہوا اس کا زندگی میں انہوں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا ہوگا۔ انہیں صرف ” پی ٹی وی“ کی عادت پڑی ہوئی تھی۔ اب بیسیوں چینلز پوری یکسوئی سے ان کی بددیانتیوں سے نقاب پرے کررہے ہیں تو اذیت اُن کے لیے ناقابل ِبرادشت ہوتی جارہی ہے۔
اقتدار سے نکالا ،دوسرے میڈیا کو اتنا فعال کردیا اب ایک چینل کو یہ قابو کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو دوسراہاتھ سے نکل جاتا ہے۔ دوسرے کو قابو کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو تیسرا نیچے سے کھسک جاتا ہے۔ ان حالات میں قدرت یا قانون اُنہیں کسی ایک شخص کو قتل کرنے کی اجازت عنایت فرمادے اِن کا پہلا نشانہ مشرف ہی ہوگا۔ دوسرا شاید عمران خان ہو جس نے اُنہیں ناکوں چنے چبوادیئے ہیں۔ عمران خان کی اپنی کیا اوقات تھی اِن فرعونوں کا وہ مقابلہ کرتا ۔ یہ وسیلہ قدرت نے اُسے بنایا۔.... جس کے بارے میں یہ کہتے تھے ”وہ سیاست میں کل کا بچہ ہے “ ۔ اب وہ واحد بچا ہے جس کا ہر لحاظ سے مقابلہ کرنے میں اُنہیں شدید دشواری کا سامنا ہے ۔ اس کا مقابلہ کرنے کے لیے اِن کی ہر تدبیر اور تجربہ ناکام ہورہا ہے۔ اب یقیناً یہ سوچتے ہوں گے کاش بے نظیر، شہید نہ ہوتی تو اُس کی آسانی سے کردار کشی کرکے سیاست میں حسب ِ سابق اپنے اُلو یہ سیدھے کرلیتے۔ عمران خان کی کتنی کردار کشی یہ کرلیں گے؟ جتنی بھی کرلیں اُس کا کردار ہر معاملے میں کم ازکم ان سے ہزار درجے بہتر ہی ثابت ہوگا۔ اِن کا ماضی گواہ ہے اپنے مخالفین خواہ وہ ان کے سیاسی مخالفین ہوں یا خاندانی ، اُنہیں زیر کرنے کے لیے جتنے گھٹیا اور غلیظ طریقے یہ اختیار کر سکتے ہیں، اور کوئی نہیں کرسکتا۔ زرداری مالی طورپر ممکن ہے اِن سے ہزار درجے کرپٹ ہو۔ مگر اخلاقی لحاظ سے اُس کا کردار ان سے ہزار درجے بہتر ہے۔ وہ اپنے سیاسی مخالفین کا مقابلہ اپنی سیاسی صلاحیتوں سے کرتا ہے اور اکثر اُس میں کامیاب بھی ہوتا ہے۔ شریف برادران کی ساری سیاست انتقام کی ہے۔ یا پھر وہ دولت کی سیاست کرتے ہیں، جس کے بل بوتے پر اب تک ہرمعاملے میں وہ کامیاب ہوتے آئے ہیں۔ جو اُن کی دولت کے آگے نہیں جھکتا اُسے یہ اپنے ظلم اور انتقام کے آگے جھکا لیا کرتے ہیں۔ پہلی بار ایسا ہورہا ہے ان کا انتقام ان کے کام آرہا ہے نہ دولت آرہی ہے۔ اپنے پورے اقتدار میں سب سے زیادہ جس ادارے کو بدنام یا کمزور کرنے کی اُنہوں نے کوشش کی وہ عدلیہ ہے ۔ ماضی میں عدلیہ نے بھی اُنہیں خود کو ہر لحاظ سے استعمال کرنے کی پوری اجازت دے رکھی تھی۔ جس کا انہوں نے بھرپور فائدہ اُٹھایا۔ اب وہی عدلیہ پوری طاقت کے ساتھ ان کے سامنے کھڑی ہے۔ ان کی کرپشن کو بے نقاب کررہی ہے۔ اور اس سے یہ ایسی اذیت میں مبتلا ہو گئے ہیں جس سے پوری کوشش کے باوجود باہر نہیں نکل پارہے۔ .... لہٰذا ان کے اس ماضی اور پس منظر کے مطابق ممکن ہے سپریم کورٹ کے ایک معزز جج کے گھر پر فائرنگ ان ہی کی آشیر باد سے کسی نے کی ہو، یا اُنہیں خوش کرنے کے لیے اپنے طورپر کسی نے کی ہو، جیسے بہت سال پہلے اِن کے بہت سے لوگوں نے سپریم کورٹ پر پتھر بھی ”اپنے طورپر “ ہی برسادیئے تھے۔ عدلیہ نے پہلی بار ایسے حالات پیداکردیئے ہیں جب ملک بھر کے بددیانت اس سوچ اور خوف میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ ”وزیراعظم لیول کے ایک شخص کو اپنی کرپشن پر عدالتوں میں رُلناپڑرہا ہے تو وہ کس کھیت کی مولی ہیں“؟ ۔ ان حالات میں ججوں کو اپنی سکیورٹی کے خصوصی انتظامات کرنے چاہئیں ۔ بہتر یہ ہے موجودہ حکمرانوں سے اس ضمن میں کوئی توقع نہ کی جائے۔ یا وہ ادارے جو موجودہ حکمرانوں کے بری طرح زیراثر ہیں صرف اُن کی فراہم کردہ سکیورٹی پر ہی اکتفا نہ کیا جائے۔ سابقہ ” بادشاہ سلامت “ مع ” خاندان شریف“ اس وقت ایک غیر جانبدار اور نسبتاً صاف شفاف عدلیہ کی پکڑ میں آئے ہوئے ہیں۔ پوری کوشش کے باوجود انہیں کوئی ملک قیوم مل رہا ہے نہ خواجہ شریف ....اصل میں تو وہ عدلیہ کی نہیں قدرت کی پکڑ میں آئے ہوئے ہیں، ورنہ ان میں سے کئی ”معزز ججز صاحبان“ کا دل تو اب بھی یہ چاہتا ہوگا اپنی زندگی اپنے ”ماضی“ کے مطابق ہی بسرکریں!


ای پیپر