جماعت الدعوۃ کی 907 املاک کو منجمد کیا گیا : علی محمد خان
16 ستمبر 2020 (14:39) 2020-09-16

اسلام آباد:وزیر مملکت علی محمد خان نے کہا ہے کہ جماعت الدعوۃ کی 907 اور جیش محمد کی 57 املاک کو منجمد کیا گیا ہے،صوبوں کے محکمہ داخلہ نے وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ اقوام متحدہ سیکیورٹی کونسل ( منجمد اور ضبطگی) حکمنامہ 2019 کے تحت کالعدم تنظیموں کی املاک کو منجمد کیا ہے،حکومت چاہتی ہے مدرسہ سٹرکچر کو مضبوط کریں،حکومت مدرسوں کی مکمل سرپرستی کرنا چاہتی ہے۔

 وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے سینٹ میں ارکان کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے واقعات میں مظلوم کی فیملی کو راضی نامے کے لیئے مجبور کر دیا جاتا ہے،وزیراعظم سزائے موت کے حق میں ہیں، حکومت اور اپوزیشن کی رائے ہے کہ سخت سے سخت سزا دی جائے، ہمیں کسی کے کلچر، زبان سے متاثر ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

صوبوں کے محکمہ داخلہ نے وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ اقوام متحدہ سیکیورٹی کونسل ( منجمد اور ضبطگی) حکمنامہ 2019 کے تحت کالعدم تنظیموں کی املاک کو منجمد کیا ہے ، یو این کی جانب سے نامزد کردہ اداروں کو منجمد کیا گیا ہے،جیش محمد کی 57 اور جماعت الدعو کی 907 املاک کو منجمد کیا گیا ، جماعت الدعو کے 76 اسکولز ، 4 کالجز ، 330 مساجد اور مدارس، 186 ڈسپنسریوں ، 15 ہسپتالوں ، 262 ایمبولینسوں ، 1میت گاڑی کو منجمد کیا گیا، جماعت الدعو کی 10 کشتیاں ، 3 ڈیزاسٹر مینجمنٹ آفس ، 17 عمارات اور اراضی ، 1 پلاٹ ، 1 زرعی زمین اور 2 موٹر سائیکل بھی منجمد کیئے گئے ،جیش محمد کے 53 مدارس اور مساجد ، 2 ڈسپنسریوں اور 2 ایمبولینسوں کو منجمد کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب میں جماعت الدعو کی 611 اور جیش محمد کی 8 املاک منجمد کی گئیں،سندھ میں جماعت الدعو کی 80 اور جیش محمد کی 3 املاک منجمد کی گئیں،خیبر پختونخوا میں جماعت الدعو کی 108 اور جیش محمد کی 29 املاک کو منجمد کیا گیا،بلوچستان میں جماعت الدعو کی 30 اور جیش محمد کی 1 املاک کو منجمد کیا گیا،اسلام آباد میں جماعت الدعو کی17 اور جیش محمد کی 4 املاک کو منجمد کیا گیا، آزاد کمشیر میں جماعت الدعو کی 61 اور جیش محمد کی 12 املاک کو منجمد کیا گیا۔

علی محمد خان نے کہا کہ حکومت چاہتی ہے مدرسہ سٹرکچر کو مضبوط کریں،بہت ساری آئی این جی اوز بندکی جاچکی ہیں،این جی آوز کو کوئی کھلی چھوٹ نہیں ہے،یہ ڈکٹیشن لینے والی حکومت نہیں ہے فریزنگ آرڈرز نواز شریف کی حکومت کے دور میں بھی آئے، ہمیں کوئی شوق نہیں ہے کسی مدرسے کو بند کرنے کا۔حکومت مدرسوں کی مکمل سرپرستی کرنا چاہتی ہے۔


ای پیپر