ریاستِ مدینہ کا دعویٰ اور نا انصافی
16 ستمبر 2020 (13:34) 2020-09-16

کُفر پر معاشرہ قائم رہ سکتا ہے ناانصافی پر نہیںمگر لگتا ہے ہمیں یقین نہیں چلیں تسلیم کر لیا سابق بدعنوان حکمران اپنے جیسے بدعنوانوں کی سرپرستی کرتے رہے اب تو خیر سے دیانتدار حکمران ہیں پھربھی کسی بدعنوان کو سزا کیوں نہیں ہو رہی اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے بڑے بڑے نام ہی نیب اور اینٹی کرپشن کے ریڈار پرکیوں ہیں؟ کیا حکومت میں شامل تمام چہرے کیا فرشتے ہیں ؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو آٹا، چینی، پیٹرول بحران کے ذمہ دارکون تھے ؟مہنگائی کیوں بڑھ رہی اور روپے کی قدر میں کمی کرکے کِس نے قرضوں میں کھربوں کا اضافہ کر دیا ہے؟اگر اِن وارداتوں میں حکمران ملوث ہیں تو نیب اور اینٹی کرپشن یا ایف آئی اے کو کیوں نظر نہیں آتے ؟تمام بحرانوں کے خالق ،مہنگائی میں اضافے اور روپے کی قدر میں کمی کرانے والے ریاستِ مدینہ کا دعویٰ کرنے والوں کے قریبی ہیں اِس لیے تما م اِدارے خاموش ہیں ریاستِ مدینہ کی بات کرنے والے یا درکھیں خاتم النبین پیارے آقاﷺ نے فریایا چوری میں اگر میری بیٹی بھی ملوث ہوتی تو ہاتھ کاٹنے کا حکم دیتا۔ہم کیا کر رہے ہیں ؟ اقتدار کے تحفظ کے سواکچھ سجھائی نہیں دیتا قصور ہے یا نہیںجسے چاہتے ہیں اُٹھا لیتے ہیں بیورکریسی کو ہراساں کرنے کے لیے عزت دار اور نیک نام آفیسرز کو عبرت کا نشان بنا یا جارہا ہے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت بدعنوان لوگوں کی سرپرستی ہورہی ہے ڈی جی اینٹی کرپشن بھی کا تعلق بھی پولیس سے ہے اِس لیے انصاف کی بجائے صرف حکومتی احکامات کی تعمیل کرتے ہیں ظلم و ناانصافی کو احتساب کا نام دیتے ہیں کورنش بجا لانے والے ماتحت آفیسروں پر اعلیٰ عہدوں پر فائز آفیسرز کو قربان کرنے کا طریقہ رائج ہے۔

پنجاب میں اتحادی جماعتوں کے درمیان گزشتہ ماہ تعلقات میں دراڑ پیدا ہوئی تواتحادیوں کو دبانے اور بدنام کرنے کے لیے داخل دفتر ہونے والے کیس نئے سرے سے نہ صرف کھولے گئے بلکہ کردار کُشی کی باقاعدہ مُہم چلائی گئی ہائیکورٹ میں نیب کی بدنیتی پر مبنی کاروائی کو چیلنج کیا گیا تو معلوم ہوا کہ اتحادیوں کے پاس آمدن سے زائد اثاثے ہیں لیکن سچ یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن کے دھرنے کے دوران گفت وشنید کے دوران عزت ملنے پر بااختیار عہدوں پر فائز لوگوں کی جبیں شکن آلود ہوئی حکومت نے اِداروں کو متحرک کیا تاکہ اتحادی اتحادکے پابندرہیں بات یہاں تک ہی محدود نہ رہی کیا ریاستِ مدینہ میں ایسی حرکتوں کا تصور کیا جا سکتا ہے؟ ۔

2018  کے عام انتخابات سے قبل ڈاکٹر رانی حفصہ کنول کو گجرات میں اے ڈی سی آر تعینات کیا گیا یہ خاتون ہو کر بھی جرات مند ہیں کوئی ایم پی اے ہے یا ایم این اے یہ کسی سیاسی  کے کہنے پر غلط 

کام کرنے کوآمادہ و تیار نہیں ہوتیں کسی قلم کار نے بلیک میل کرنے کی کوشش کی تو بھی پرواہ نہیں کرتیں یہ اتنی قابل آفیسر ہیں کہ فائل کو سرسری دیکھ کر ہی معاملے کی نوعیت سمجھ جاتی ہیں فرض شناس اِتنی کہ میونسپل کارپوریشن کی ایڈ منسٹریٹر بنتے ہی شہر کی صحت وصفائی کے لیے دیوانہ وار کام کیا آرام چھوڑ کر ماتحت عملے کی نگرانی کے لیے موقع پر موجود رہتیں یہ کسی ممبر اسمبلی کے دبائو کو خاطر میں نہیںلاتیں یہی فرض شناسی اب باعثِ آزار بن چکی ہے شنید ہے کہ تختہ مشق بنانے کے عمل کی نگرانی احتساب کے مشیر شہزاد اکبر خود کر رہے ہیں وجہ تعیناتی کے دوران خاتون آفیسر سے پی ٹی آئی کے ایک گروپ کانالاں ہونا ہے اسی پاداش میں اہلیت اور فرض شناسی کو جرم بنا یا گیا ہے یہ خاتون ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہیں یہ سی ایس ایس پی آفیسر ہیں مگر ایک جھوٹے اور من گھڑت کیس میں نہ صرف گرفتار ہوئیں بلکہ جیل میں قاتلوں اور منشیات فروشوں کے درمیان سی کلاس میں بند رہیںملاقات پر اتنی سخت پابندی کہ خاوند کو بھی نہ ملنے دیا گیا اِس خاتون آفیسر کو گرفتار کرتے ہوئے شیر خوار بچے کوجنھجوڑکربے رحمی سے الگ کیا گیا کیا میرٹ کی پاسداری پر اِتنی کڑی سزا ریاستِ مدینہ کا دعویٰ کرنے والوں کوزیباہے؟قابل ،محنتی اور فرض شناس آفیسرکا کیریئر تباہ کرنااورپھر انصاف و احتساب کا پیراہن پہنانا کسی طور مناسب نہیں۔

ڈاکٹر رانی حفصہ کنول پر ریت ٹھیکے کا مقدمہ بنایا گیا مگر چھٹی پر ہونے کی وجہ سے گرفتاری سے بچ گئیں جس پر حکمران جماعت کے ممبران اسمبلی اِتنے سیخ پا ہوئے کہ اِس خاتون کو کچھ روز ہی سہی جیل میں ڈالنے کا مطالبہ کردیا انتقامی سوچ نے ایک بلاصلاحیت خاتون جس سے جونیئر ڈی سی تعینات ہورہے ہیںناکردہ گناہوں کی پاداش میں نہ صرف کئی ہفتے جیل میں رہیںبلکہ مزید مقدمات بنائے جا رہے ہیں ایک طرف ریاستِ مدینہ کانظام بنانے کا راگ آلاپا جاتا ہے تو ایک ماں ،ایک بیٹی ،ایک بہن کو رسواکرنے کا حکمرانوں کے پاس کیا جواز ہے؟۔

زمین کا ایک کیس ڈاکٹر رانی حفصہ کنول نے بطور جج سُنا اور دستیاب شواہداور گواہوں کے بیانات کی روشی میں فیصلہ سُنایاقبل ازیں اِس خاتون کوریت کے ٹھیکے کی نگرانی کرنے کی پاداش میں گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی حالانکہ اِس میں خاتون آفیسر کا کردار ٹھیکے کی بولی کی نگرانی سے زیادہ نہ تھا جب حکومت نے سزادینے کا تہیہ کیاتو دوبرس کے لگ بھگ پُرانی درخواست کو بنیاد بنا کر محکمہ اینٹی کرپشن گرفتار کرنے پہنچ گیا جب گرفتاری کا مقصد پورا نہ ہواتو ہائیکورٹ سے ضمانت پر ہونے کے باوجود پہلے گرفتار کیا گیا بعد میں اراضی کے فیصلے کو بنیاد بنا کرمقدمہ درج کرلیاحالانکہ جج کے فیصلے کے خلاف اپیل ہوتی ہے گرفتاری نہیں مگر ریاستِ مدینہ بنانے کا دعویٰ کرنے والوں کے دور میں رائج طریقہ کارپر عمل کرنے کی بجائے شیر خوار بچے سے ماں کو چھین کر سبق سکھانازیادہ اہم ہے یہ ستم یہاں تک ہی محدود نہیں رہا خاتون آفیسر کوکبھی گوجرانوالہ پیش کیا جاتا اور کبھی گجرات کی عدالت میں لایا جاتا شدید دھوپ میںتپتی گاڑی میں بٹھاکر تفتیشی اے سی لگاکر کمروں میں بیٹھے رہتے جب ڈیوٹی مجسٹریٹ نے کیس کو اینٹی کرپشن کا مقدمہ نہ ہونے کی بنا پر خارج کرنے کی رائے دی تو محکمہ اینٹی کرپشن نے ڈیوٹی مجسٹریٹ پر ہی عدمِ اعتماد کر دیا گجرات کا کیس ہونے کے باوجود تینوں تفتیشی آفیسرز حافظ آباد سے لائے گئے جن کے حکمران جماعت کے ممبرانِ اسمبلی سے رشتہ داری یا پھر بہت قریبی رفاقت ہے یہ ظلم ونا انصافی ابھی ختم نہیں ہوئی ناراض ممبران اسمبلی کو خوش کرنے کے لیے مزید مقدمات بنانے پر کام جاری ہے ایف آئی آر کا سامان دستیاب نہ ہونے کا حل یہ تلاش کیا گیا ہے کہ کسی کے خلاف درج ایف آئی آر میں رانی حفصہ کنول کو نامزد کرلیا جائے ظلم و نا انصافی کے باوجود ریاستِ مدینہ کے نعرے کا کوئی جواز ہے؟کیا کسی کو روزِ محشر سزاوجزاکا کوئی خوف نہیں رہا؟


ای پیپر