خواتین کی معاشرتی زندگی پر سماجی ڈائیلاگ کی ضرورت
16 ستمبر 2020 (13:33) 2020-09-16

گجرپورہ موٹروے افسوس ناک واقعے پر شدید عوامی ردعمل سامنے آیا۔ یہ ردعمل دو پہلوئوں پر مرکوز تھا۔ پہلا یہ کہ مجرمان کو عبرت ناک سزا دی جائے۔ دوسرا یہ کہ انتظامی غفلت برتنے والوں کے خلاف کاروائی کی جائے۔ ردعمل کی یہ دونوں اقسام فوری اور جذباتی نوعیت کی تھیں لیکن اس قسم کا ردعمل ضروری تھا۔ اب یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا سوسائٹی میں ایسے افسوس ناک واقعات کا مستقل سدباب صرف فوری اور جذباتی ردعمل ہی ہے یا اُس کے بارے میں علمی اور تھیوریٹکل سٹڈی بھی ہونی چاہئے؟ اگر مائنڈسیٹ تبدیل کرنے کی بات کی جائے تو یہ سوالات ضروری ہیں کہ ایسے مائنڈ سیٹ کو تبدیل کرنے کے لیے کیا صرف مجرموں کو عبرت ناک سزا دینا اور سزائوں میں اضافہ کرنا کافی ہے؟ یا ایک بھرپور سماجی ڈائیلاگ کی اشد ضرورت ہے؟ موٹروے واقعے کے بعد سی سی پی او عمرشیخ نے اپنے متنازع بیان کی تشریح میں خواتین کے حوالے سے ہمارے سماجی طرز زندگی کا سہارا لیا تھا۔ سی سی پی او کی متنازع بات تو ایک علیحدہ معاملہ ہے لیکن اگر دیکھا جائے تو خواتین کی معاشرتی زندگی کے حوالے سے ہمارے سماج میں یہی معیارات اور رجحانات بہت عرصے سے رائج ہیں۔ اِن معیارات اور رجحانات کی پرورش کرنے میں ہماری دائیں بازو کی کئی سیاسی جماعتوں کا بھی اہم کردار ہے۔ خاص طور پر 1980ء کی دہائی میں اس حوالے سے پاکستانی معاشرے پر گہرے اثرات مرتب ہوئے۔ بظاہر وہ دور وجودی اعتبارسے مارشل لاء اور اسلامائزیشن کے دعوے کا دور تھا لیکن اُس وقت کی حکومت کے وجودی ایشو کو چھوڑ کر علمی اور تھیوریٹکلی دیکھا جائے تو دراصل اُس وقت پاکستان کو اسلامائزیشن کے نام پر مغربی طاقتوں کی خاص منصوبہ بندی کا آلہ کار بنایا گیا تھا جس کے ذریعے سرمایہ دارانہ نظام کے مخالف کمیونزم کے جنریٹر ملک سوویت یونین کو تباہ کرنا تھا۔ اس خاص منصوبے کے ایڈمنسٹریٹر جانتے تھے کہ ایک مسلمان خواہ ایمان کے کتنے ہی ادنیٰ درجے پر فائز کیوں نہ ہو وہ اسلام کے نام پر اپنی جان بھی قربان کرنے سے دریغ نہیں کرتا۔ سرمایہ دارانہ مغربی طاقتوں نے مسلمان کی اسلام سے اسی محبت کو 80ء کی دہائی میں خوب ایکسپلائٹ کیا۔ یہ دہائی گزرنے کے بعد سرمایہ دارانہ نظام فاتح ٹھہرا اور سوویت یونین کا نقشہ ماضی کا حصہ بن گیا۔ اس کے ساتھ ہی ہمارے ہاں تقریباً 10 برسوں سے جاری اسلامائزیشن کی گرم جوشی بھی حکومتی سطح پر ٹھنڈی پڑگئی۔ تاہم اس دوران ملک کی نفسیات پر اسلامائزیشن کے پڑنے والے دیگر اثرات کو چھوڑکر صرف خواتین کی معاشرتی طرز زندگی کی بات کریں تو وہ وہی تھیوری تھی جسے اب رد کیا جارہا ہے۔ مثلاً آج کی خواتین معاشرے میں اپنے کردار، اپنے لباس، اپنے فیصلوں اور اپنی خوداختیاری کا جو حق حاصل کرنا چاہ رہی ہیں، ان کی اپنے حق کے بارے 

میں اپنی زبان کھولنا 80ء کی دہائی میں کسی طرح بھی قابل قبول نہیں تھا کیونکہ یہ اُس وقت کی خواتین کی معاشرتی طرز زندگی کے چارٹر کے خلاف تھا۔ اس کی مثال اُس وقت کی گھریلو زندگیوں اور اقتدار میں شامل دائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کے انفرادی اور اجتماعی رویوں میں دیکھی جاسکتی تھی۔ اس فلاسفی کی تشہیر کے لیے میڈیا پر خواتین کے لیے باپردہ اور باحیا سخت ایس او پیز موجود تھے۔ خواتین کے بارے میں اس نظریئے کی حمایت اُس وقت کی تمام اسلامی جماعتیں کررہی تھیں۔ مثلاً جماعت اسلامی جو اُس وقت کے اسلامائزیشن پیریڈ کا اہم کل پرزہ تھی انہوں نے فحاشی اور عریانی کے خلاف متعدد تحریکیں چلائیں۔ یہاں تک کہ خواتین کی تصویروں والے پوسٹر اور اشتہار پھاڑ دیئے جاتے، یونیورسٹی کے کلاس فیلو طلباء اور طالبات کا ایک ساتھ بیٹھنا سنگین جرم قرار پاتا اور چادر و چار دیواری کی پابندی کروانے کے لیے مرد خم ٹھونک کر میدان میں اترتے۔ خواتین کو مکمل خالص شے رکھنے کے لیے اُس وقت یہ تحریکیں بھی شروع کی گئیں کہ خواتین کو اپنے چہروں اور جسم کے ساتھ ساتھ ہاتھ اور پائوں بھی دستانوں اور موزوں میں چھپاکر رکھنے چاہئیں۔ اِس وقت یہ نکتہ زیربحث نہیں ہے کہ خواتین کی معاشرتی طرز زندگی کے بارے میں 80ء کی دہائی کی مذکورہ فلاسفی درست تھی یا غلط۔ البتہ زیربحث نکتہ یہ ہے کہ اُس دور کی خواتین کی معاشرتی طرز زندگی کے بارے میں مندرجہ بالا فلاسفی کی حمایت کرنے والی دائیں بازو کی وہ سیاسی جماعتیں سی سی پی او عمر شیح کے متنازع بیان کی اب حمایت کیوں نہیں کرتیں؟ سی سی پی او نے اپنے متنازع بیان میں وہی تھیوری تو دہرائی تھی جو 80ء کی دہائی میں خواتین کی معاشرتی طرز زندگی کے بارے میں گولڈن تھیوری تھی۔ موٹروے واقعے پر جماعت اسلامی، مسلم لیگ ن، مسلم لیگ ق سمیت دائیں بازو کی اہم سیاسی جماعتوں نے سی سی پی او کے متنازع بیان کوتو موقع کے اعتبار سے نامناسب قرار دیا لیکن کیا انہوں نے اس متنازع بیان کی فلاسفی کی روح کو بھی غلط قرار دیا؟ یا وہ درمیانی راستہ اختیار کرکے اپنی سیاسی ساکھ کو تنقید سے بچانا چاہتی تھیں؟ اگر واقعی سیاسی ساکھ کا مسئلہ ہے تو سوچنا پڑے گا کہ دائیں بازو کی یہ سیاسی جماعتیں 80ء کی دہائی میں اُس وقت کے نظریئے کے ساتھ بھی کیا مخلص تھیں؟ 80ء کی دہائی کے ادھیڑعمر لوگ جو اَب بوڑھے ہوچکے ہیں غصے میں ہیں، اُس وقت کے جوان جو اَب بڑھاپے کی دہلیزپر ہیں اذیت میں ہیں اور آج کل کے نوجوان کنفیوژ ہیں کیونکہ اُس وقت کی ادھیڑعمر اور جوان نسلوں کو خواتین کی معاشرتی طرز زندگی کے حوالے سے جو تھیوری پڑھائی گئی تھی وہ اُسے اپنی آج کی نسل پر نافذ کرنا چاہتے ہیں مگر انہیں شدید مزاحمت کا سامنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس معاملے پر یہ تینوں نسلیں ذہنی الجھائو اور نفسیاتی خوف میں مبتلا ہیں جس کے باعث ہمارے گھروں اور اجتماعی زندگیوں میں تلخیاں اور تنائو بڑھ گیا ہے۔ کیا اب وہ وقت نہیں ہے جب ہمیں اس حساس معاشرتی ایشو پر سنجیدگی سے غوروفکر کرنا چاہئے اور خواتین کی معاشرتی طرز زندگی کے بارے میں اپنے سماجی مائنڈسیٹ کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ایک بھرپور سماجی ڈائیلاگ کا اہتمام کرنا چاہئے جس میں ہرعمر، ہرصنف اور ہرطبقے کی بڑی تعداد کو شامل کیا جائے اور ان کی رائے کو یکساں اہمیت دی جائے۔ اس سماجی ڈائیلاگ کو مینج کرنے کے لیے ایک قابل احترام سوشل ڈائیلاگ بینچ تشکیل دیا جائے جس میں معزز جج صاحبان، وفاقی محتسب، سماجی امور کے ماہر، پروفیسرز، سکالرز، ادیب، میڈیا پرسنز، وکلاء، سول سوسائٹی، سوشل ایکٹیوسٹس، سٹوڈنٹس اور آرٹسٹس وغیرہ کی نمائندگی موجود ہو۔ اس سوشل ڈائیلاگ بینچ کی سرپرستی ہماری سیاسی جماعتیں کریں کیونکہ جمہوری معاشرے میں سیاسی جماعتیں ہی رائے عامہ کی محافظ ہوتی ہیں۔ اختتام پر یہ وضاحت کرنا ضروری ہے کہ مندرجہ بالا تحریر کسی بھی عہد، تھیوری، سیاسی جماعت اور نظریئے کے خلاف یا حمایت میں نہیں ہے بلکہ خواتین کی معاشرتی طرز زندگی کے ایشو پر منافقانہ رویہ چھوڑنے اور ذہنی الجھائو سے نکلنے کے لیے خالصتاً علمی اور تھیوریٹکل سٹڈی کی تجویز ہے۔


ای پیپر