سرخیاں ان کی…؟
16 ستمبر 2020 (13:32) 2020-09-16

٭… افغان امن مذاکرات…؟

٭… ویسے تو جِسے چوٹ لگتی ہے داد کی اذیت بھی وہی محسوس کر سکتا ہے لیکن بسا اوقات یہ درد ایسی اذیت و کرب سے دوچار کر جاتا ہے کہ نسلیں اس کی کسک محسوس کرتی رہتی ہیں۔ اگرچہ یہ چوٹ تو 19 سال قبل کی ہے جب مبینہ طور پر اغوا کئے گئے دوطیارے امریکی شہر کے ورلڈ ٹریڈ سنٹر کی بلند ترین عمارتوں سے ٹکرا دیئے گئے تھے۔ دنیا ورطہ حیرت میںڈوب گئی تھی بلکہ بڑے بڑے دماغ سوچنے سمجھنے سے قاصر ہو گئے تھے کہ آن کی آن ہنگاموں، رنگینیوں اور تحیر کے اس پُررونق شہر کی سحر انگیز زندگی کو یہ کیا ہوگیا ہے؟۔ حیرت انگیز طور پر یہ بلندوبالا عمارتیں محض دیکھتے ہی دیکھتے بدترین آتشزدگی سے زمین بوس ہو گئی تھیں اورلوگ تاریخ میں ایسی آتشزدگی کی مثال ڈھونڈ رہے تھے؟۔ مگر سازشی اپنے شکار کی تاک میںتھے لہٰذا اس کے ردعمل میں فی الفور اس وقت کی امریکی حکومت نے اس کاذمہ دار القاعدہ اور کابل میں طالبان کی حکومت کو قرار دے کر اپنے تیار کردہ نیٹو اتحادیوں کے  ساتھ افغانستان پر لشکرکشی کا اعلان کردیا اورساتھ ہی ساتھ پاکستان کوبھی خبردار کردیا۔ میں وہ کالم نگار تھا جس نے اس وقت کہا تھا ’’یہ امریکہ کی ایک اورتاریخی غلطی ہے جس کے سنگین نتائج پوری دنیا بھگتے گی‘‘  کیونکہ جنگیں صرف مہلک ترین ہتھیاروں، سپرسانک میزائلوں سے ہی نہیںجیتی جاتیں بلکہ غیرمادی چیزوں یعنی نظریے اورآزادی کے شوق میں بھی جیتی جاتی ہیں۔ بہرحال پھر دنیا نے دیکھا کہ وہ کہانی جو آج پرانی لگتی ہے مگر کس قدر خاک وخون میں نہلا دینے والی تاریخی کہانی ہے۔ اگرچہ اکثر اوقات مجھے امریکی دانشوروں سے بات کرنے کا جب موقع ملتا تو وہ بھی مجھے اپنا ہم خیال متصور کرتے مگر خود کو بے بس سمجھتے تھے۔ میں مسٹر ٹرمپ کوسلام پیش کرتا ہوں کہ اس نے پینٹاگون کی مخالفت کے باوجود نہایت حکمت ودانائی اورشجاعت سے کام لیتے ہوئے 18 سال کی نہ صرف بے نتیجہ جنگ بلکہ ایسی جنگ جوامریکی عوام کے ٹریلین ڈالرکھا گئی، تاریح اُنہیں بطور صاحب عمل اور محب عوام کے سنہری حروف سے یاد رکھے گی کہ انہوں نے امریکی افواج کو لہولہان افغانستان سے واپس بلا کر جرأت مندانہ اور حقیقت پسندانہ فیصلہ کیا ہے اور اس کے لئے تمام فریقوں سے بات چیت کا راستہ اپنایا ہے۔ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے بھی دنیا سے دہشت گردی کے خاتمے اور امن عالم کے لئے بھرپور کردار ادا کیا ہے اور اب نئے سرے سے "Historic Afghan peace talks begin in Doha" جبکہ دنیا کے دانشور یہ حقیقت بھی تسلیم کرتے ہیںکہ پاکستان نے اس جنگ میں نہ صرف ان گنت جانی و مالی قربانیاں دی ہیں بلکہ پاکستان کے موجودہ وزیراعظم جناب عمران خان آغاز جنگ سے ہی یہی کہہ رہے تھے کہ افغان جنگ کا واحد حل فوجی نہیںبلکہ سیاسی مذاکرات میں ہے۔ خدا کا شکر ہے کہ اب بات امن عمل کے اس نقطے تک آن پہنچی ہے جو اس کا واحد حل ہے اور پُرامن دنیا کو بھی برسوں سے اسی نقطے اسی حساس اور کامیاب موڑ کا انتظار تھا۔ آج دنیا اس بات کا بھی اعتراف کر رہی ہے کہ پاکستان نے اپنی تمام تر ذمہ داریاں پوری 

کردی ہیں اور آج امریکہ، پاکستان کی بدولت نہ صرف افغان امریکہ امن بلکہ عالمی امن کے دروازے پر بھی آن پہنچا ہے۔ انشاء اللہ اب وہ دن دور نہیں جب نہ صرف دنیا سے دہشت گردی کاخاتمہ ہوگا بلکہ افغان عوام بھی آزادی سے پُرسکون زندگی بسر کر سکیں گے۔ خوشحالی ان کا مقدر ہو گی اورپاک افغان عوام میں نئے سرے سے کھلکھلاہٹوں کی پھلجڑیاں پھوٹیں گی۔

ہو چکے غرقاب میرے خواب جس منجدھار میں

کھل رہا ہے بادبانِ دل دوبارہ اس طرف

………………

٭… ایف اے ٹی ایف کا آئندہ اجلاس۔

٭… اگرچہ میرے ذرائع کے مطابق ایف اے ٹی ایف کا آئندہ اجلاس جو غالباً اشاعت کالم کے بعد جلد ہونے کا امکان ہے اور یہ بھی کہ اس اجلاس میں پاکستان کے ایکشن پلان کونہایت باریک عینک سے دیکھا جائے گا۔ اس اجلاس میں امریکہ، چین، جرمنی، برطانیہ، فرانس وغیرہ بھی شامل ہوں گے۔ تاہم پی ٹی آئی حکومت کیلئے بے حد ضروری ہے کہ وہ نہ صرف حکومتی امیج بلکہ پاکستانی امیج کیلئے بھی ایسے شرطیہ اور کامیاب نسخے تلاش کرے اور ایف اے ٹی ایف سے متعلق تعطل شدہ 

بلوں پر ایسا جمہوری رویہ اختیار کرے جس سے یہ اہم ترین اجلاس کسی سکائی لیب کی بجائے پاکستانی مفاد کیلئے نتیجہ خیز ثابت ہوسکے اور ان کی بے اعتمادی بھی کم ہو سکے۔ ایسے حالات میں پی پی پی اور مسلم لیگ ن کابھی قومی فرض ہے کہ وہ بھی موقع پرستی کی سیاست ترک کر کے قومی مفادات کی سیاست کو فروغ دیں تاکہ ہم پر کوئی نیا آسمان نہ گر سکے؟۔

٭… امارات، بحرین اور اسرائیل…

٭… اگرچہ بعض ذرائع یہ خبریں د ے رہے ہیں کہ امارات اور بحرین نے امن کوششوں کی ناکامی کے نتیجے میں اسرائیل سے تعلقات استوار کر لئے ہیں لیکن میرے ذرائع کے مطابق کچھ عرب ممالک نے اسرائیل کے ساتھ محض سفارتی اور معاشی تعلقات کی راہ نکالی ہے تاہم انہوں نے اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا ہے؟جبکہ یہ مسلمان ممالک بھی یہی سمجھتے ہیں کہ اسرائیل فلسطینیوں کی آزاد ریاست کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔


ای پیپر