منظر اور پس منظر
16 ستمبر 2020 (13:29) 2020-09-16

اپنے حصے کی کائنات خود تخلیق کرنی پڑتی  ہے۔ اس کائنات میں اپنے حصے کے منظر کی تزئین و آرائش خود ہی کرنا ہوتی ہے۔ اپنے فکر ونظر کے برش سے اپنے حصے کے کینوس میں خود ہی رنگ بھرنا ہو تے ہیں۔ یعنی اپنا منظر خود ہی تخلیق کرنا ہوتا ہے۔ کوئی کسی کے حصے کا پانی نہیں بھر سکتا۔ اگر کسی سے رنگ مستعار بھی لے لیے جائیں تواپنی محبت کی تپش سے ان رنگوں کو خود ہی پختہ ترکرنا ہوتا ہے۔ 

جب سے انسان نے بارِ امانت اٹھا کر اس کائنات میں قدم رکھا ہے ‘  کائنات سے معروضیت نام کی شئے ختم ہو چکی ہے۔ اب اس کائنات کی ہر تشریح بذریہ انسان ہوگی  ، ہر تذکرہ بز بانِ انسان ہوگا… حتیٰ کہ تذکرہ رحمان بھی انسان کی زبان سے سنا یا جائے گا۔ کائنات اور منشائے خالقِ کائنات بصورت ِانسان ایک یکجائی کے دھاگے میں پروئے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔اس منظر نامے سے انسان کو نکال دیا جائے تو کائنات ایک ایسا بے جان منظر ہوگا جسے دیکھنے والا کوئی نہیں، سراہنے والا ، داد دینے والا اور تشریح کرنے والا کوئی نہ ہوگا۔ جس طرح عبادت کیلئے عابد اور معبود دونوں کا ہونا ضروری ہے ، اس طرح اس کائنات کی جامع تشریح کیلئے خالق اور اس کے نائب حضرت ِ انسان کا موجود ہونا ضروری  ہے۔ انسان کے بغیر چاند… کیا چاند ہے؟  چاندنی کو دیکھنے والی آنکھ نہ ہو تو چاند کا جلوہ… جلوۂ بے نور ہے۔ یہ انسانی آنکھ کا نور ہے جو جلوے کو معنی کے حسن سے آراستہ کر تا ہے۔ لفظ اور معنی کا  رشتہ انسان کے دم سے ہے۔ لفظ الہامی ہوں تو بھی ان کے معانی کا محرم کوئی انسان ہی ہوتا ہے۔  اب محرمِ راز جسے چاہے ہم راز کرے!!

منظر اور پس منظر ہماری نظر اور پھر اندازِ نظر کے محتاج ہیں۔ اندازِ نظر بدل جائے تو اس کائنات کا  مفہوم ہی بدل جاتا ہے۔ محرم سے مجرم کا سفر ایک نقطے کی  غیر موجودگی ہے ۔حرفِ دعا کو دغا سے تعبیر کرنے والا عین کو غین میں بدل رہا ہے ۔ غیر کا نظر آنا دراصل عین کے انکار کے سبب ہے۔ یہ نقطہ درحقیقت نقطۂ نظر ہے۔ غور طلب بات ہے کہ انسان 

کا اندازِ نظر کیا ہے اور یہ کس طرح بدل جاتا ہے! کیا اس حقیقت سے انکار کیا جا سکتا ہے کہ الفاظ اور بیان ہمارے اندازِ نظر کو بدلنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں؟ الفاظ وہ منظر تخلیق کرتے ہیں جو نظر آنے والے منظر سے مختلف ہوتا ہے۔ یعنی الفاظ منظر کے اندر موجود پس منظر بیان کرتے ہیں اور عین اس بیان کے اندر ہی تخلیق کا عمل  جاری و ساری ہو جاتا ہے۔ الفاظ کی گونج  ایسی فیصلہ کن ہوتی ہے کہ حرفِ کْن کی طرح ایک موج یا لہر پیدا کرتی ہے… اور پھر یہ موج ‘ موج در موج چلتی ہوئی …اس نامکمل کائنات کے بے ترتیب ساحلوں سے ٹکراتی ہوئی… نئے مناظر اورنئے سے نئے کون و اکوان پیدا کرتی ہے۔ الفاظ کہاں سے آتے ہیں؟ اِس اَمر کا فیصلہ کرنا اِتنا ہی دشوار ہے جتنا اس امر کی کھوج لگانا کہ لہر کہاں سے ابھرتی ہے اور کہاں غائب ہو جاتی ہے۔ اس ہونے اور نہ ہونے کے درمیان سب کچھ ہو جاتا ہے۔ کیفیت کی ہویا پانی کی…پانی کی ہو ‘یا پانے کی … لہر اچھلتی ہے ، اپنا وجود دکھاتی  ہے… بظا ہر معلوم ہوتا ہے جیسے قلزم سے جدا کوئی وجود ابھر رہا ہے، لیکن ماہیت اصلی کی معرفت رکھنے والے بخوبی جانتے ہیں کہ فرع اصل سے جدا نہیں…موج کی اصل قلزم ہے… موج قلزم سے جدا نہیں۔ دکھائی دینے اور معدوم ہونے کے درمیان بہت کچھ پردہ عدم سے نکل کر وجود پذیر ہونے لگتا ہے… لہر بظاہر معدوم ہوجاتی ہے ، دوبارہ بحر ِ بے کنار میں مدغم ہو جاتی ہے لیکن اثرات کی صورت میں اثبات سے ہم کنار ہو جاتی ہے… ترابی منظر میں ٹھہر جاتی ہے ، ثبت ہوجاتی ہے۔ 

بظاہر ایک ہی منظر ، مختلف زاویوں سے دیکھا جائے تو مختلف نظرآتا ہے۔ اندازِ نظر ہمارے باطن کی داستان ہے، اور باہر نظر آنے والا منظر ظاہر کی طشت میں رکھا ہواخوانِ نعمت ہے۔ بھوک ہمارے اندر ہوتی ہے، باہر عام سی روٹی بھی من وسلویٰ  دکھائی دیتی ہے۔  اشتہا نہ رہے تو اشتہار بے معنی ہو جاتے ہیں۔بھوک نہ رہے تو رنگ رنگ کے دسترخوان بے ذایقہ ہو جاتے ہیں۔ اس میں ایک راز ہے۔ بھوک کو اندر سے ختم کرو، باہر قلت و کثرت برابر ہوجائے گی۔کھانا باہر رکھا ہے ، کھانے کا ذایقہ ہمارے اندر رکھا ہے۔ ہمارے اندر سے ہمارے ٹیسٹ بڈ جواب دے جائیں تو کھانوں میں لذت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ قوتِ شامہ متاثر ہو جائے تو خوشبوئیات کا سارا دفتر… داخل  دفتر!!

مرشدی حضرت واصف علی  واصفؒ فرمایا کرتے ’’ شبنم کے قطرے صبح کی مسکراہٹ بھی ہے اور رات کے آنسو بھی‘‘۔ اور یہ کہ ’’مورخ بدل جائے تو تاریخ بدل جاتی ہے‘‘۔ تاریخ اسلام کی ہو یا پھر پوری کائنات کی ’’ میں نہ مانوں‘‘ والی بد علمی کی نظر سے بہت سے صفحات ِ موجود معدوم ہو جاتے ہیں۔ انسانی عظمت کا انکار کرنے والوں کے لیے الگ سے دیہاڑی دارمؤرخ موجود ہیں۔ انسان کو اپنے ماضی اور حال کی اپنی  مرضی کی تشریح ہر دَور میں میسر رہی ہے۔ ان عرضی معروضات کے جھمیلوں میں معروضی  سچ کی نشاندہی کیسے ہو؟ یہ معمہ اصحابِ تشکیک  کے لیے  جتنامشکل ہے ‘ اصحابِ تسلیم کیلئے اتنا ہی آسان۔ مرشد کا ایک قول ِ فیصل ہے،جو یہ فیصلہ کیے دیتا ہے’’ سچ وہ ہے ‘ جو سچے کی زبان سے نکلے‘‘… یعنی ہمیں سچائی سے پہلے سچے انسان کی تلاش کرنی ہے۔ آدم تا ایں دم اس کائنات میں فقط ایک ہی انسان ہے جسے ’’الانسان‘‘ کہا جاتا ہے، وہی انسانِ کاملؐ صادق اور امین ہے۔ سب صداقتوں کی حتمی صداقت یہاں بصورتِ ِحقیقت نظر آتی ہے۔ جو اِنؐ کے قریب ہو گیا ‘ وہ صداقت کے قریب ہو گیا۔ یہاں قرب قربِ مکانی و ز مانی نہیں بلکہ قربِ معنوی ہے۔ ولایت عین قربِ رسالتؐ میں پاتی جاتی ہے۔  بارگہ رسالت ؐسے بامعنی تمسک بوسیلہ ولایت ممکن ہے۔  

لفظ انسان پر غور کریں‘ انسان کا مادہ ’’اِنس ‘‘ہے، اِنس آنکھ کی پتلی کو کہتے ہیں۔ ساری کائنات کے مناظر اسی ایک پتلی ایسے نقطے میں سمٹ آتے ہیں۔ اس آنکھ میں نورِ بصارت اور نورِ بصیرت دونوں کا ہونا ضروری ہے۔ ظاہر و باطن میں کامل آنکھ ہی مکمل منظر کشا ئی کر سکتی ہے۔ناظر ،نظر اور منظر میں یکجائی اسی ایک نقطے میں دکھائی دیتی ہے۔ 

جس آنکھ نے دیکھا ہے تجھے ‘ اس آنکھ کو دیکھوں

ہے اس کے سوا کیا تیرےؐ دیدار کی صورت !


ای پیپر