16 ستمبر 2020 2020-09-16

 اس میں کوئی شک نہیں کہ مجرم جیسا بھی ہو ہماری پنجاب پولیس اسے پاتال کی گہرائی میں سے بھی کھینچ لاتی ہے۔اسی ملزم شفقت کو پتہ ہو گا کہ عابد کہاں گیا اور کس نے ان کو اس خاتون کے وہاں ہونے کی اطلاع دی۔عوام کے سامنے سارے حقائق رکھو تاکہ عوام میں پولیس کے بارے میں رائے بہتر ہو۔ فی الحال تو لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ پولیس سارے حقائق نہیں بتائے گی اور سچ چھپائے گی۔ان ظالموں کے چہرے ٹی وی پر بھی دکھاو¿۔تاکہ دوسرے عبرت پکڑیں۔

انکا چہرہ مت چھپاو¿ کہ یہ لوگ اس عزت کے قابل نہیں ہیں۔اور ہاں گرفتاری کے وقت اگر عابد نے پولیس پر حملہ کیا تو جوابی فائر لازمی کرناہے ۔یہ مجرم توآلہ کار ہیںان اصل مجرموں کے جو ان سے ایسی وارداتیں کرواتے ہیں۔یہ پکڑے بھی گئے اورسزابھی ہوگئی تواصل مجرم توبچ جائیں گے اوروہ نئے آلہ کار رکھ لیں گے۔پنجاب پولیس جرائم پیشہ افراد سے تعلق فری ہو ایساممکن نہیں اور نہ ہی ممکن ہے کہ ان جرائم پیشہ افراد کے سرغنہ پولیس اور قانون سے زیادہ طاقتور ہیں‘ ہاں یہ ضرور ہے کہ پولیس کی مصلحت پسندی اور مال بناﺅ سوچ اس کی طاقت کو کمزوری میں بدل دیتی ہے۔آج پنجاب پولیس کیس کے ملزموں کو پکڑنے میں کامیاب ہو اور ملزمان سارے پکڑے جائیںتو زنجیر نہیں سنگل کی ساری کڑیاں اسکی گرفت میں آ جائیں گی۔اور ملزمان سارے پکڑے جائیں۔

لیکن بوڑھے حوالدار کا کہنا ہے کہ پنجاب پولیس پاکستان میں سب سے زیادہ رشوت خور اور دو نمبر پولیس ہے۔سیاستدانوں اور طاقتور کے آگے بھیگی بلی اور غریبوں کے آگے شیر،رشوت اور سیاسی بھرتیوں نے اسکو کھوکھلا کر رکھا ہے۔جس اہلکار ‘ افسر کی بھرتی ہی دو نمبرہو گی تو عوام کو تو ”دونے کا پہاڑہ پڑھنا پڑے گا۔

آپ آئی جی ہیں ،ایس پی نہیں! ذرا حوصلہ کریں اور ہوش بھی، میڈیا کے پریشر میں آ کر اس قسم کی بونگیاں ماری جا رہی ہیں کہ الآمان والحفیظ آرام سے اپنی نگرانی میں تفتیش مکمل کروائیں اور قانون کے مطابق کاروائی کریں ایسے بوکھلائے بوکھلائے پھر رہے ہیں آپ کے تمام آفیسر جیسے کل کے بچے ہوں۔اس کیس میں اصل چیز صرف ان درندوں کو پکڑنا نہیں بلکہ ان کی پشت پناہی کرنے والوں کو بھی کیفر کردار تک پہنچانا ہے جن بدبختوں نے یہ ساراکھلواڑ کیا ہے ۔ آئی جی صاحب اپنی فورس کی سمت درست کریں اور ان کی کانپتی ٹانگوں کو کسی مالشیے سے ایسے تیل کی مالش کروائیں کہ اپنے پیروں پر وزن ڈالیں۔ ورنہ آپ محض مراعاتی افسرہی کہلائیں گے۔

پنجاب پولیس کی یہ کارروائی اس کے ٹریک ریکارڈ سے ہٹ کر اور میرٹ پر ہو۔ اس وقت جتنا پریشر لاہور پولیس پر ہے، اس سے کچھ بھی بعید نہیں کہ اپنی جان چھڑانے کے لیے پھندا جس کی گردن میں فٹ آیاکر دے گی۔ ایسی کوئی گیم کرنے کی کوشش کی گئی تو کامیابی نہیں بدنامی اور رسوائی ملے گی۔

یہ منٹ منٹ کی ٹوئیٹر اپڈیٹس آپ کا کام نہیں جو کام ہے وہ کریں ،آپ لوگ آنکھیں بند کر کے اسی طرف بھاگنا شروع کر دیتے ہیں،آپ انویسٹی گیشن ایجنسی ہیں میڈیا نہیں جو کام ہے وہ کریں اور ایک اچھا ایڈوائزر ضرور تلاش کریں۔

ادھر وزیر اعلی پنجاب نے ٹویٹ میں لکھا کہ لاہور،سیالکوٹ موٹروے کے دلخراش واقعہ میں خاتون سے زیادتی میں ملوث شفقت علی گرفتار ہو چکا ہے، جس کا ڈی این اے میچ کر چکا ہے اور اس نے اعتراف جرم بھی کر لیا ہے۔ملزم عابد علی کی گرفتاری کے لیے بھی ہماری ساری ٹیم مسلسل کوشاں ہے جس کی گرفتاری جلد متوقع ہے۔۔۔

انسانی تاریخ کا بدترین دن جب بچوں کے سامنے ان کی ماں کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ا نسانیت پر یہ بدنما داغ ہے۔لہذا جلد از جلد ان درندوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے ان کو سرعام پھانسی دی جائے اور اس واقعہ کے بعد آنے والی نسلوں کے لیے نشان عبرت بنادیا جائے۔

ملزم وقار الحسن جس نے کل خود گرفتاری دی اور اس کی نشاندہی پر ملزم شفقت علی گرفتار ہوگیا جس نے اعتراف جرم بھی کیا۔ملزم وقار الحسن کا کچھ تو تعلق ہے اسے سارے واقعے اورملزم کا پتہ تھا۔ پہلے اس نے کہا کہ میں عابد کو نہیں جانتا پھر کہا کہ وہ تو عباس کا دوست ہے پھر شفقت کا نام لینا۔ کچھ تو گڑبڑ ہے۔پنجاب پولیس کی کچھوے والی چال ہے۔ اگلے دن کسی اور کی عزت کا جنازہ نکالا آج کوئی اور اقبالی ہو گیا۔ جن افراد کے کیسز کے پیچھے کوئی عوامی دباو¿ نہیں ہوتا ان کا تو پھرکوئی جوابدہ نہیں۔ خدارا! بہت ہو چکی‘ گتھی کو سلجھائیں منصب کا حلف نبھائیں اورقوم کو کچھ کر کے دکھائیں۔ یہ وقار الحسن 25 لاکھ کا حقدار ہوا کہ نہیں ،جس نے پولیس کے سامنے پیش ہو کر اس نے آخر میں سفاک ملزم پکڑوایا ہے۔

نئے سی سی پی ا و لاہور شیخ محمد عمر کی موشگافی کا اصل قصہ یوں ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب‘ وزیر قانون اور آئی جی نے پریس کانفرنس میں انکشاف کیا کہ دو ملزموں کاسراغ لگا لیا گیا ہے۔ وغیرہ وغیرہ....۔ اس پریس کانفرنس سے اس بے چارے نئے پولیس افسر کو نہیں بلایا گیا تھا شاید اس لئے کہ کوئی نئی بونگی نہ مار دے....اگلے روز اس افسر نے ٹمپرنگ پروگرام کے تحت میڈیا والوں کو میسج کر دیئے کہ ملزم کا ڈی این اے میچ کر گیا‘ بس پھر وہی واہ .... واہ مگر یہ جھوٹی اطلاع دینے پر اسے سبکی اٹھانا پڑی.... بھلاایسے افسر کو سیٹ پر ہونا چاہیئے یا فاﺅنٹین ہاﺅس میں.... فیصلہ تو لانے والے بڑوں کو ہی کرنا چاہیئے۔ تو پھر حوالدار صاحب اب آگے کیا دیکھتے ہیں آپ؟ بھئی دیکھنا کیا ہے گھن گرج سے آنے والا افسر تو اب منہ چھپائے پھرتا ہے۔ میڈیا پر نظر نہیں آ رہا۔ لگتا ہے کہ غبارے سے ہوا نکل گئی ہے۔ اب دیکھتے ہیں آگے وہ کیا گل کھلاتے ہیں۔


ای پیپر