بلاول بھٹو کا دورہ سندھ
16 ستمبر 2019 2019-09-16

’’ وفاق سندھ کے ساتھ گڑبڑ نہیں کر رہا ‘‘ کی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی جانب سے قومی اسمبلی میں یقین دہانی کے بعد بلاول بھٹو زرداری سندھ کا دورہ معطل کر کے اسلام آباد چلے گئے ہیں۔ بلاول بھٹو نے سندھ کا دورہ تب شروع کیا تھا جب اسلام آباد سے یہ خبریں آرہی تھی کہ حکومت اور دو بڑی جماعتوں کے درمیان ڈیل ہو رہی ہے۔ شرائط رکھی جا رہی ہیں۔ سندھ میں حکومت تبدیل کی جارہی ہے۔ اس اثناء میں وزیراعظم عمران خان نے ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی پر مشتمل کمیٹی بنادی جس کے ذمہ کراچی میں ترقیاتی کام دئیے جارہے تھے۔ ابھی اس پر بحث چل ہی رہی تھی کہ وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے سندھ میں آرٹیکل 149 نافذ کرنے کی بات کردی۔ بلاول بھٹو نے انتباہ کے انداز میں کہا کہ کراچی پر غیر آئینی طور پر قبضہ کی کوششیں ہورہی ہیں، اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو سندھو، سرائیکی اور پختون دیش بن سکتا ہے۔ کراچی کمیٹی اور وزیر قانون کے اس موقف پر سندھ پھر میں طیش پیدا ہو گیا۔ دو ہفتے قبل آرمی چیف نے سندھ کی تعریف کی تھی۔ جس پر وفاقی حکومت اور وفاقی وزیر قانون کے اس موقف نے پانی پھیر دیا۔ سندھ میں یہ کہا جارہا ہے کہ بلاول بھٹو کی بات ٹھیک نشانے پر بیٹھی۔ وفاقی حکومت کو اس مقصد کے لئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو چننا پڑا کہ وہ پیپلزپارٹی کو یقین دہانی کرائیں کہ سندھ اور سندھ حکومت کے ساتھ کوئی گڑبڑ نہیں ہو رہی۔لہٰذا بلاول بھٹو سے کہا کہ سندھ کارڈ نہ کھیلیں۔ سندھو دیش کی بات کرنے والے بری طرح سے پٹ جائیں گے۔ صوبائی خود مختاری کو نقصان پہنچنے نہیں دیں گے۔ وفاقی وزیر قانون کی جانب سے آرٹیکل 149 کے باے میں وضاحت کے بعد بلاول بھٹو کی سندھو دیش اور پختونستان کی بات کرنا مناسب نہیں۔

بلاول بھٹو نے دورے کے دوران چار باتوں پر توجہ دی ۔ ( ۱) وفاقی حکومت سندھ سے کراچی لینا چاہتی ہے۔ (۲) سندھ اسمبلی میں فارورڈ بلاک بنانے یا خود پارٹی پروزیراعلیٰ تبدیل کرنے کے لئے دبائو ہے۔ بلاول نے دوسرے کے آخری روز صاف الفاظ میں کہہ دیا کہ تین مرتبہ تبدیل کرنے کی فرمائش کے باوجود پارٹی کے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ ہی ہیں۔ (۳) سندھ مالی بحران کا شکار ہے کیونکہ اس کو آئین کے آرٹیکل 161 کے تحت پیسے دینے میں مرکز ناکام رہا ہے ۔ صوبوں کے اختیارات اور مالی وسائل کسی طور پر کم نہیں کئے جا سکتے۔ (۴) وفاقی حکومت استعفیٰ دے اور نئے انتخابات کرائے۔اس سے پہلے نواز لیگ نے نئے انتخابات کا مطالبہ کیا تھا پیپلزپارٹی نئے انتخابات کا مطالبہ نہیں کر رہی تھی۔ بلاول بھٹو کے پروگرام میں لاڑکانہ اور شکارپور کی بعض مصروفیات کے علاوہ دورہ تھر بھی شامل تھا۔لیکن وہ بلاول بھٹو سندھ کا دورہ مختصر کر کے اسلام آباد چلے گئے۔

اسلام آباد روانگی سے قبل گڑھی خدا بخش میں کارکنوں کے کنونشن سے خطاب کے دوران انہوں نے بعض اہم باتیں کی ہیں۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول اس مرتبہ زیادہ پر اعتماد تھے ۔ انہوں نے حکومت، اتحادیوں اور سلیکٹرز کو اس سال کے آخر تک کی ڈیڈ لائن دی ہے اور کہا اگر حکومت، اتحادی اور سلیکٹرز نے عمران خان کو گھر نہیں بھیجا تو ہم خود اسلام آباد پہنچ کر اسے گھر بھیج دینگے۔ بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ زرداری کو جیل میں ڈال کر نہیں جھکا سکتے، وہ سمجھتے ہیں کہ ہماری قیادت کو جیل میں رکھ کر جھوٹے مقدمات بناکر سندھ میں کٹھ پتلی حکومت لاسکتے ہیں مگر ہم ایسا نہیں ہونے دینگے۔اگر صدر زرداری اور فریال تالپور نے کچھ غلط کیا ہے تو سزا کیوں نہیں دے سکتے ہو، ایک ادارے کو جے آئی ٹی پر کیوں بٹھادیتے ہو، اگر کچھ غلط ہے تو پنڈی میں ٹرائل کیوں کرایا جاتا ہے۔ بلاول اب سمجھتے ہیں کہ حکومت سابق صدر آصف علی زرادری کے خلاف مکمل طور پر مقدمہ چلا کر سزا دلانے کی پوزیشن میں نہیں۔

سندھ میں حکومتی تبدیلی کے خلاف پیپلزپارٹی نے اپنا ہوم ورک مکمل کرلیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بلاول کہتے ہیں کہ ’میں نے بتیاں گل کردی ہیں، اگر کوئی بی بی کا قافلہ چھوڑنا چاہتا ہے تو وہ چھوڑ کر چلا جائے، مگر اسے عوام کو جواب دینا ہوگا اور الیکشن میں تیر کا مقابلہ کرنا ہوگا۔‘

خطے کے حوالے سے تبدیلی یہ آئی ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے افغان مذاکرات معطل کردیئے ہیں۔ کشمیر کے معاملے پر پی ٹی آئی حکومت مسلم ممالک سے مطلوبہ حمایت حاصل نہ کر سکی ہے کہ دنیا بھر کے مسلمان انڈیا پر دبائو ڈال سکیں۔ آئی ایم ایف کی جانب سے بھی بعض رپورٹس اطمینان بخش نہیں بتائی جاتیں۔

دو ہفتے پہلے لگ رہا تھا کہ اپوزیشن پیچھے ہٹ گئی ہے۔ لیکن اب نئی صورتحال سامنے آئی ہے۔نئی صورتحال پر تبادلہ خیال کے لئے پارٹی کے صدر شہباز شریف نے شاہد خاقان عباسی سے ان کے گھر جا کرملاقات کی۔ دوسری جانب نواز شریف کے بیانیے کے ساتھ کھڑے پرویز رشید نے ڈیل کی کوششوں کی تصدیق کی ہے کہ تین مرتبہ کوئی ثالث میاں نواز شریف سے جیل میںملنے آیا تھا ۔ نواز شریف نے شرط رکھی کہ معافی مانگو اور نئے انتخابات کرائو۔

پیپلزپارٹی اگرچہ تاحال مولانا فضل الرحمٰن کے اسلام آباد لاک ڈائون کا حصہ نہیں بن رہی لیکن اس نے اپنے تئیں سندھ پیپلزپارٹی نے تحریک چلانے کی منصوبہ بندی کررہی ہے۔ صوبے کی دیگر مخلص جماعتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس تحریک میں ساتھ دیں۔ لگتا ہے کہ حالیہ وفاقی حکومت کے اقدامات نے حکومت کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کردیا ہے۔ جس کا فائدہ اپوزیشن کو ملارہا ہے۔ یہاں بعض اشارے اہم ہیں۔ چند ہفتے قبل آصف علی زرادری نے اسلام آباد کے موسم میں تبدیلی کی بات کی تھی۔ مولانا فضل الرحمٰن خواہ اکیلے ہی لاک ڈائون کرانے جارہے ہوں لیکن یہ ذہن میں رہے کہ وہ یہ دھرنا اکتوبر میں ہی دینا چاہ رہے ہیں۔ بلاول بھی سال کے آخر تک کی ڈیڈلائن دے رہے ہیں۔


ای پیپر