منصف اعلیٰ کی فکر مندی
16 ستمبر 2019 2019-09-16

چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ جو امسال دسمبر کی21تاریخ کو ریٹائر ہونے والے ہیں ان کے منصف اعلیٰ کے تقریباً تین ماہ کی مدت باقی ہے ۔ نئے عدالتی سال پر انہوں نے کو جو خطاب کیا اور ایس ایم ظفر کی کتاب کی تقریب رونمائی میں جو باتیں کی ہیں۔ اس میں گہر اتفکر ہے ، انہوں نے جچے تلے الفاظ میں بڑے پریشان کن اشارے دیے ہیں۔ عقل مندوں کے لیے ان کے خیالات میں سبق ہے۔ان کا فرمانا ہے ’’ سیاسی انجینئرنگ کیلئے احتساب کے عمل میں یکطرفہ جھکاؤ کا تاثر تباہ کن ہے، اس تاثر کو زائل کرنے کیلئے فوری اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ احتساب کے عمل کی ساکھ متاثرنہ ہو‘‘۔ اپنے خطاب میں یہ بات بھی کہی ’’ شہریوں سے لوٹی ہوئی دولت کی واپسی ایک اچھا عمل ہے لیکن غیرجانبداری کے بغیر یہ اقدام معاشرے کیلئے زیادہ مہلک ہوگا۔ جمہوریت میں دور اندیشی اور برداشت لازمی ہے، اختلاف اور برداشت کے بغیر جبر کا نظام ہوتا ہے، ماضی میں ہم نے دیکھا کہ اس کے خطرناک نتائج برآمد ہوتے ہیں‘‘۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ ہم آئین اور قانون کے مطابق اپنا کردار ادا کرنے کے لیے پرعزم ہیں، عدالتی عمل میں دلچسپی رکھنے والے درخواست دائر کریں جسے سن کر فیصلہ ہوگا۔ کسی کی آواز یا رائے کو دبانا بد اعتمادی کو جنم دیتا ہے اور بداعتمادی سے پیدا ہونے والی بے چینی جمہوری نظام کے لیے خطرہ ہے۔

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا ہے کہ آج ہم ایک ایسے دور سے گزر رہے ہیں جس میں حقائق تخلیق کیے جارہے ہیں ۔ جہاں تک سیاسی ا نجینئرنگ کی بات ہے ان کا مخا طب کوئی فرد یا جماعت نہیں ہے ۔ مگر احتساب کے نام پر جو کچھ ہو رہا ہے اس پر بہت سے حلقوں کو تشویش ہے۔انہوں نے اپنے آغاز میں ہی کہہ دیا تھا کہ وہ سوموٹو نہیں لیں گے ۔ان کا یہ فیصلہ بہت حد تک درست ثابت ہوا ۔ جیسے آج سابق چیف جسٹس کے دور کو اچھے الفاظ میں یاد نہیں کیا جاتا۔ چیف جسٹس کے تازہ ارشادات سے تو ایسا لگا کہ وہ جمہوریت کو اس کے اصل مقام پر رکھنا چاہتے ہیں ۔ اگر ہم سوموٹو کی بات کریں تو سابق چیف جسٹس کے دور میں سیاسی انجینئرنگ دکھائی دی۔ ایک سیاسی جماعت جیسے ان کے نشانے پر تھی۔ ان کا پاناماکے بعد سے زیادہ تر وقت نوازشریف اور اُن سے متعلقہ مقدمات پر صرف ہوا ہے۔ سوموٹو، آبزرویشنز، شہ سرخیاں، خبریں، بحث، گفتگو، ٹاک شوزکے سیاسی اور قانونی موضوعات شریف فیملی، خاص طور پر نوازشریف اور مریم نواز کے گرد گھومتے نظر آتے تھے ، مسلم لیگی لیڈروں کی عدالت کے کٹہرے میں جو توہین ہوتی تھی اس کی تو بات الگ ہے۔ مگر وزیر اعظم نواز شریف کے مقدمے میں جو سوال اٹھائے گئے ان کو بھی نظر انداز کیا گیا۔ پاکستان کے تین مرتبہ کے وزیر اعظم یہ سوال کرتے رہے انہیں کیوں نکالا اس کا جواب یہ دیا گیا کہ نواز شریف کو چیف جسٹس صاحب نے زندگی بھر کے لیے نااہل قرار دے دیا۔ نواز شریف کو ایک مقدمے میں سزا ہو گئی اور بیٹی کے ساتھ سزا ہو گئی۔ انہیں زندگی بھر کے لئے کوئی سیاسی عہدہ رکھنے سے روک دیا، تاوقتیکہ اس فیصلے پر نظر ثانی ہو، یا مستقبل میں ہونے والا کوئی اور فیصلہ اس پر لکیر پھیر دے۔ نواز شریف سوال اٹھاتا رہا کہ انہیں مشرف کے خلاف سنگین غداری کا مقدمہ چلانے کی سزا دی جا رہی ہے۔ بات درست بھی تھی۔اس مقدمے کے بعد ہی 126 دن کا دھرنا ہوا۔ پھر جوڈیشل کمشن بنا ڈان لیکس کا تماشا بھی ہوا ۔ یہ سب باتیں آپس میں جڑی ہوئی تھیں ۔ اس میں شک نہیں اقتدار سے نکالنے کے لیے ایک اقامہ کا سہارا ملا نواز شریف نے دولت کے بارے میں نہیں بتایا تو جو لوگ نواز شریف کی کرپشن کا کیس لے کر گئے تھے ان کا فرض تھا کہ وہ احتساب عدالت میں ان کے خلاف ثبوت پیش کرتے۔ جو کچھ ایک خاندان اور جماعت کے ساتھ ہوا اس میں ایک منصفانہ مقدمے کی ضرورت تھی۔ اب یہ معاملہ اسلام آبا د ہائی کورٹ کے پاس ہے ۔ نواز شریف ان کی صاحبزادی مریم نواز اوران کے معاونین کھلم کھلا عدلیہ پر تنقید کرتے اور اپنے خلاف فیصلوں کو سازش قرار دیتے رہے ۔ سپریم کورٹ نے نہال ہاشمی کے خلاف توہین عدالت کا کیس چلا کر انہیں سخت سزا دے کر مسلم لیگ ن کے دیگر وزرا کو خاموش کردیا ہے وفاقی وزرا دنیال عزیز اور طلال چوہدری کو بھی توہین عدالت میں نااہل قرار دے دیا ۔ خود بار بار مریم نواز اور نوازشریف جیل جانے سے پہلے اور اس کے بعد یہ کہتے رہے ان سے تو انتقام لینے کا مقدمہ ہے‘ نواز شریف کا مقدمہ جب احتساب عدالت میں تھا تو اس وقت نواز شریف بار با ایک بات کہتے رہے کہ نواز شریف کو نہ جھکنے کی سزا دی گئی ہے‘میرے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ نہیں تھا تو جے آئی ٹی میں آئی ایس آئی اور ایم آئی کے نمائندے کیوں شامل کئے گئے؟ ابھی نواز اور مریم کو سزا نہیں ہوئی تھی کہ فیصلے سے پہلے میڈیا سے خبریں چلائی گئیں کہ ایک اہم مہمان اڈیالہ جیل آنے والا ہے اس لیے اڈیالہ جیل میں صفائیاں ہو رہی ہیں اور تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں نواز شریف نے اس پر شدید رد عمل دیا کہ ‘انہیں کیسے پتہ چلا کہ کوئی آ رہا ہے وہاں نواز شریف نے دوران مقدمہ یہ بھی کہا کہ جے آئی ٹی کے6میں سے تین ارکان سیاسی طور پر ہمارے بدترین مخالف ہیں، ان کایا ان کے گھر والوں کا تعلق پی ٹی آئی سے ہے اور وہ اس کے ایکٹو ممبرز ہیں‘ قریبی عزیز پی ٹی آئی کے ٹکٹ ہولڈرز بھی ہیں‘ جے آئی ٹی کے ہیرے چن چن کر لانے کا مقصد اپنی من پسند رپورٹ بنوانا تھا‘نواز شریف نے کہا کہ لندن میں انویسٹی گیشن کے لئے جو کمپنی چنی گئی اس کے ساتھ واجد ضیاء کی عزیز داری تھی ۔ جے آئی ٹی نے جو رپورٹ تیار کی تھی یہ سوال خود نواز شریف نے اٹھایا کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ بنانے والے 40 لوگ تھے، پول کھل گیا، 30تفتیش کار اور عملے کے 10 لوگ کون تھے؟ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیے تھے کہ اگر سپریم کورٹ کی عمارت بھی غیر قانونی ہے تو اسے بھی گرا دیا جائے۔ مریم نواز کو اپنے والد کی ملاقات کے دوران گرفتار کرکے کیا سبق دیا گیا۔ سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی جس طریقے سے گرفتاری ہوئی۔رانا ثنااللہ کی منشیات میں گرفتاری اور ضمانت کے فیصلے سے پہلے جج کو تبدیل کیا جا نا. بلوچستان میں مسلم لیگ کی حکومت کو راتوں رات اکھاڑ دیا جانا۔ پنجاب کے منتخب مسلم لیگ کے سینٹرز کو آزاد قرار دینے کا فیصلہ تنقید کی زد میں رہا ۔ پارلیمنٹرین پر کس قدر دبائو ہے کہ آپ 104 کے ایوان میں چیئرمین سینٹ کے خلاف 68 ووٹ کی اکثریت کو نہیں مانا گیا۔ اب نواز شریف خاندان پورا لپیٹ دیا گیا۔ اب تو آئین کا بھی تمسخر اڑیا جا رہا ہے کراچی کو آئین کے آرٹیکل149 کے نیچے لانے کی جو کوشش کی اس کا مقصد کراچی پر پھر ایم کیو ایم اور تحریک انصاف کے قبضے کو جاری رکھنا تھا۔ اس سے پہلے الیکشن کمشن کے دو ارکان کا تقرر کرنا صدارتی اختیارات کا ناجائز استعمال تھا۔ اپوزیشن کا یہ نعرہ کا فی وزن رکھتا ہے کہ احتساب کے نا م پر انتقام جاری ہے۔ نوازشریف اقتدار سے نکل گئے مگر سیاست سے نہیں نکل سکے ۔ جناب چیف جسٹس صاحب آپ نے عدالتی سال کے آغاز پر جو سنہرے الفاظ بولے ہیں اس کو سب محسوس کرتے ہیں۔ مقبول قیادت کو زندگی بھر کے لیے سیاست سے نکال دینے کا عمل تنقید کی زد میں رہے گا ۔ عدلیہ اور احتساب کے ادارے کے ذریعے ایک خاندان اور جماعت کو جو نقصان ہوا ہے اس کا کوئی راستہ نکال کر یہ سارے معاملات ایک بار پھر پارلیمنٹ میں لے جائیں۔ تاکہ سیاست دان اس کا فیصلہ کریں۔ سیاسی بحران کو حل کرنا عدالتوں کا کام نہیں ہونا چاہیے۔


ای پیپر