کشمیر کا لاک ڈائون
16 ستمبر 2019 2019-09-16

چالیس سے زیادہ روز وشب گزر گئے ہیں کہ بھارت کی قابض اور ظالم فوج نے جنت نظیر وادی کشمیر کو مقفل کر دیا ہے۔ نہ کوئی اندر سے باہر آسکتا ہے اور نہ ہی باہر سے کسی کو اندر جانے کی اجازت ہے۔مقبوضہ جموں و کشمیر جس کے بارے میں پوری عالم میں کہاوت یہی مشہور ہے کہ یہ ٹکرا زمین پر جنت ہے۔ اسی جنت کو بند کرکے وہاں کے باسیوں کے لئے جہنم سے بھی بدتر بنادیا گیا ہے۔تمام بنیادی انسانی حقوق مکمل طور پر معطل ہیں۔انسانی حقوق میں سب سے اہم حق اپنے خطے میں آزادانہ نقل وحرکت ہے ۔بھارت کی قابض فوج نے وادی میں کشمیریوں کی گھروں سے باہر نکلنے پر پابندی لگا دی ہے ۔ تمام بازار مکمل طور پر بند ہیں۔بازاروں کی بندش کی وجہ سے اشیائے خورو نوش کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔یوں سمجھ لیں کہ وہاں قحط ہے۔لیکن قحط خود بھی ماتم کناں ہے۔اس وقت مقبوضہ جموں وکشمیر کا خطہ کربلا کا منظر پیش کر رہا ہے ۔اگر میں لکھ دوں کہ حالات کربلا سے بھی زیادہ درد ناک اور اذیت ناک ہیں تو مبالغہ نہیں ہوگا۔اس لئے کہ وہاں پانی کی شدید قلت ہے ۔ لوگ پانی کی بوند بوند کے لئے ترس رہے ہیں۔مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارت کی فوج نے جبر کی اس حد تک انتہاکر دی ہے کہ تمام ہسپتال بند کر دئیے گئے ہیں۔ مریضو ں کو شفاخانوں میں لے جانے کی اجازت نہیں۔بہت سے مریض کہ جس میں پھول جیسے نازک اور معصوم بچے بھی شامل ہیں ڈاکٹر اور دوائی نہ ملنے کی وجہ سے گھروں میںمائوں کی گود میں تڑپتے ہوئے جان،جان آفرین کے سپرد کر چکے ہیں۔تعلیمی ادارے مقفل ہے ۔ طالب علموں کا قیمتی وقت ضائع ہو رہا ہے۔ تمام کاروباری مراکز بند ہیں۔سرکاری دفاتر کو تا لے لگا دئیے گئے ہیں۔ذرائع ابلاغ پر مکمل پابندی ہے ۔ ہر انسان کا حق ہے کہ وہ اخبار کا مطالعہ کرے لیکن مقبوضہ وادی میں اخبارات ،رسائل اور جرائد پر پابند ی ہے۔ہر کسی کا حق ہے کہ ٹیلی ویژن دیکھ سکے لیکن بھارت نے اس پر بھی پابندی لگا دی ہے۔لوگوں کا حق ہے کہ ریڈیو سن سکیں ۔ بھارت کی بزدل ریاست نے ریڈیو سننے پر بھی پابندی لگا دی ہے۔انٹر نیٹ سروس کو بند کر دیا گیا۔موبائل اور ٹیلی فون سروس پر بھی کر فیو لگا دیا گیا ہے۔انٹرنیٹ پر پابندی کی وجہ سے سوشل میڈیا بھی بند ہے، جبکہ مو بائل اور ٹیلی فون کی بندش کی وجہ سے رابطے مکمل طورپر منقطع ہو گئے ہیں۔تمام چھوٹے بڑے راستوں اور سڑکوں کو خاردار تاریں لگا کر بند کر دیا گیا۔جو بھی گھر سے نکلنے کی کوشش کرتا ہے اسے گرفتار کرکے جیلوں میں ڈال دیا جاتا ہے۔جہاں ان پر انسانیت سوز مظالم ڈھائے جارہے ہیں۔اب تو جیل بھی کم پڑگئے ہیں۔گز شتہ چالیس دنوں میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ گرفتار کر کے جیل کی کال کوٹھریوں میں جانوروں سے بھی بد تر حالات میں بند کر دیئے گئے ہیں۔ سیکڑوں کی تعداد میں نوجوان لاپتہ ہیں۔ انہی چالیس ایام میں درجنوں خواتین ہاف ویڈو بن چکی ہیں۔ضعیف والدین سے ان کے مستقبل کے سہاروں کو چھین لیا گیا ہے۔جو افراد کرفیو کی خلاف ورزی کرتے ہوئے گھروں سے باہر نکلتے ہیں اور بھارت کی جابر فوج ان کو پکڑنے میں ناکام ہو جاتی ہے تو قابض فوج ان کے گھروں میں گھس جاتی ہے ۔ وہاں خواتین کے ساتھ نارواسلوک کرتے ہیں۔ ابھی تک کئی اطلاعات یہ بھی مو صول ہوئی ہیں کہ بھارت کی ظالم فوج مقبوضہ جموں و کشمیر میں اجتماعی آبرو ریزی بھی کررہی ہے۔انہی چالیس روزہ لاک ڈائون میں سیکڑوں کی تعداد میں لوگ پیلٹ گن کا نشانہ بن چکے ہیں۔جس میں چھوٹے چھوٹے بچے بھی شامل ہیں۔ایک کثیر تعداد بینائی سے محروم ہو چکی ہے۔ہزاروں کی تعدادمیں لوگ زخمی ہیں ،جن کو علاج کی اشد ضرورت ہے لیکن بھارت کی ظالم اور جابر فوج ان کوعلاج جیسا بنیادی حق دینے سے بھی انکاری ہے۔انسان تو کیا وہاں جانوروں کی خوراک کی قلت کا بھی سامنا ہے۔ پہاڑی علاقہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کی معیشت کا زیادہ تر انحصار مال، مویشیوں پر ہے لیکن چارہ نہ ہونے کی وجہ سے جانور مر رہے ہیں ۔

5 اگست کے بعد مقبوضہ جموں وکشمیر کے باسیوں کا ایک دوسرے کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں۔ کسی کو کچھ معلوم نہیں کہ ساتھ والے گھر میں ظلم اور جبر نے کونسی قیامت ڈھا ئی ہے۔جو لوگ وادی سے باہر ہیں ان کو معلوم ہی نہیں کہ ان کے گھر والے کس اذیت سے گز ر رہے ہیںاور نہ ہی وادی میں مقید لوگوں کو علم ہے کہ وادی سے باہر ان کے پیارے ان کے لئے کس طرح ماہی بے آب کی طرح تڑپ رہے ہیں۔چالیس روز سے زیادہ کاعرصہ گزرنے کے باوجود اقوام عالم نے ابھی تک بھارت سے زبانی جمع خرچ کے علاوہ عملی طور پر کشمیریوں کی حمایت کے لئے کوئی قدم نہیں اٹھا یا ہے۔اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے اور پچاس سے زائد ملکوں نے بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ وادی سے کرفیو کو فی الفور ہٹا دیں۔ وہاں بنیادی انسانی حقوق کا احترام کیا جائے۔ لیکن طاقت کے نشے میں بدمست بھارت کی حکمران اور مقبوضہ وادی میں مو جود ظالم قابض فوج پر ابھی تک کوئی اثر ہوا نہیں ۔پاکستان جو کہ مقبوضہ جموں وکشمیر کی عوام کے اس مطالبے کا حامی ہے کہ ان کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصواب رائے کی اجازت دی جائے کو ، وادی کی موجودہ تشویش ناک صورت حال پر تشویش ہے اور حالات کو معمول پر لانے کے لئے سفارتی اور سیاسی طور پرپوری طرح متحرک بھی ہے۔اس لئے کہ پاکستان سمجھتا ہے کہ یہ اس کی اخلاقی ذمہ داری ہے ۔لیکن پاکستان کے ساتھ ساتھ عالمی برادری اور بین الاقوامی تنظیموں خاص کر اقوام متحدہ کی قانونی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی قراردادوں پر عمل درآمد کے لئے بھارت سے عملی اقدامات اٹھانے کے لئے ان پر دبائو ڈالیں اور مقبوضہ جموں وکشمیر کی عوام کو بھارت کے ظلم وجبر سے آزاد کرکے ان کو اپنی قراردادوں کے مطابق استصواب رائے کا حق دیں۔مقبوضہ جموں و کشمیر کی عوام اس حقیقت سے پوری طرح باخبر ہے کہ اس وقت صرف پاکستان ان کا مقدمہ لڑ رہا ہے ۔اس لئے جب کشمیری نام نہاد کر فیو کے حصار کو توڑ کر باہر نکلتے ہیں تو ان کا ایک ہی نعرہ ہوتا ہے کہ ــ ’’ ہے حق ہمارا آزادی ‘‘ ۔ پاکستان کے ساتھ کشمیریوں کی محبت اور عقیدت کاعالم یہ ہے کہ وہ اپنے شہیدوں کو پاکستانی پرچم کا کفن پہنا کر دفن کر تے ہیں، اس لئے وہ دن دور نہیں کہ جب کشمیرمیں آزادی کا سورج طلوع ہو اور مقبوضہ جموں وکشمیر کی عوام کا یہ نعرہ حقیقت کا روپ دھار لے کہ ’’ کشمیر بنے گا پاکستان ‘‘ ۔


ای پیپر