خوف میں مبتلاقوم
16 ستمبر 2019 2019-09-16

اردو ادب میں ’’مبتلا‘‘ لفظ اپنے اندر جو معانی رکھتا ہے شاید ہی کسی ناقابل بیان اذیت کے اظہار کے لیے ایسا لفظ کسی دوسری زبان میں موجود ہو جن چند لوگوں سے زندگی میں سیکھا اُن میں میرے والد گرامی، بڑے بھائی گلزار صاحب، اپنے بیٹے امیر حمزہ آصف، ایوب خان مصلی صاحب (جو تھے تو جٹ بسرا مگر کامریڈ ہونے کی وجہ سے اپنے آپ کو مصلی لکھتے کہ پنجاب میں گھٹیا ترین لفظ سمجھا جاتا ہے)، جناب خواجہ جاوید ایڈووکیٹ ، ارشد میرایڈووکیٹ، جناب ڈاکٹر آصف محمود جاہ (ستارۂ امتیاز فخر پاکستان)، جناب محمد صادق خان تنولی اور محترمہ طیبہ کیانی یہ الگ بات ہے کہ منافقین اور دکھاوے کے متقین نے تو زندگی،سوچ کا انداز اور معیار ہی بدل دیا۔ سرکاری غلامی کے دور میں منافقین اور بدعنوانوں پر کتاب زیر قلم ہے جب شائع ہو گی تو لوگوں کی نظر سیاستدانوں اور اقتدار کے ایوانوں سے ہٹ جائے گی۔ ایک دفعہ ایوب صاحب کے سامنے مومنؔ کا ’’بدنام‘‘ زمانہ شعر ’’ میں وہی ہوں مومن مبتلا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو‘‘ پڑھا تو ایوب صاحب مبتلا لفظ پہ یوں رو دیے، جیسے مرگ ہو گئی ہو یقینا مبتلا ہونا مرگ سے کم نہیں ہوتا۔ دراصل ہمارے پیارے وطن کا قریہ قریہ نگر نگر مختلف مرگ سے بھرا پڑا ہے۔ ہمہ جہت قسم کے مصائب نے پوری قوم، پورے معاشرے، حتیٰ کہ افراد کو مبتلا کر رکھا ہے۔ اس پر المیہ یہ ہے کہ یہ ابتلا بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ ہمیں بحیثیت قوم ڈھیٹ، جھگڑالو، بے حس اور خوفزدہ ہجوم میں بدل دیا گیا۔کسی نظریاتی شخص سے مکالمہ تو ہو سکتا ہے مگر نفسیاتی ’’دانشور‘‘ سے سر کون پھوڑے۔جو لوگ کسی بیماری میں مبتلا ہیں وہ تو کسی امید پر چل رہے ہیں کہ شفا یاب ہوں گے مگر جو اقتدار میں ہوتے ہوئے شہباز گل کی طرح بلکہ پنجاب و وفاق میں حکومتی عہدیداروں کی طرح مزید حصول اقتدار میں مبتلا ہیں ان کا چارہ گر کون ہو گا، مہنگائی ، بے روزگاری، نا انصافی، بے بسی ، بے چارگی، محتاجی، غربت، بیماری مایوسی میں مبتلا قوم کی اکثریت ایک دوسرے کی طرف دیکھنے کے ساتھ ساتھ برابر میں بیٹھے ہوئے سے بھی الجھی پڑی ہے۔ پولیس کے ٹارچر سیل کی اطلاع تو 8787پر کی جا سکتی ہے یہ جو چار سُو خوف کے پہرے جو گھٹی میں اتر چکے ہیں کی اطلاع کس نمبر پر کی جائے۔

دلدل کی ان سب قسموں میں مبتلا قوم نہ جانے کس بھرتے پر امید رکھتی ہے کہ وہ کنارے لگ جائے گی مگر ایک عنصر جو انتہائی خوفناک، خطرناک اور لا علاج ہے وہ قوم کا خوف میں مبتلا ہونا ہے۔ ہر شخص اس کی جو بھی حیثیت ہے سوائے جس کے ساتھ ’’ریاست‘‘ کھڑی ہے خوف میں مبتلا ہو چکا، فضا میں آکسیجن سے زیادہ خوف ہے ریاست جو کبھی عدلیہ، مقننہ اور انتظامیہ پر مشتمل تھی اب شاید ’’کارکردگی‘‘ کی وجہ سے ان اداروں کو ریاست کی تعریف سے نکال باہر کیا ہے چونکہ ملک عشروں سے نازک ترین دور سے گزرنے اور معیشت کامیابی کی گلی میں داخل ہونے میں مبتلا ہے لہٰذا ریاست کی اصل تعریف جو پوری دنیا میں ہے صرف وطن عزیز میں بدل دی گئی ہے۔ قومی اداروں کی اور قومی مفاد کی تعریف بدل دی گئی البتہ خوف کی کیفیت میں ہر سطح پر اضافہ کر دیا گیا۔ سرکاری محکموں کے اعلیٰ افسران خوفزدہ ہیں کہ کب چلتے بنیں؟ ماتحت خوف میں ہیں کب سرکاری نمبر سے فون آئے اور بستر مرگ سے بھی بلا لیے جائیں۔ لکھاری خوف میں ہیں کہ پرائیویٹ کالر سے کال نہ آ جائے۔ مفکرین خوف میں مبتلا ہیں کہ کہیں ذاتی محفل میں بولا ہوا سچ وائرل نہ ہو جائے۔ جعلی ’’دانشوروں‘‘ کی چاندی ہوئی پڑی ہے ذاتی محفل میں اعلیٰ ہستیوں کے متعلق یاوہ گوئی کرتے ہیں اور تحریروں میں اُن کی تعریف بیچتے ہیں۔ دیانت داری کا لبادہ اوڑھے سرکاری اعلیٰ ترین افسران کو خوف ہے کہ کہیں کوئی ماضی نہ دہرا دے۔ کچھ تو اس خوف میں مبتلا ہیں کہ کوئی یہ نہ جان جائے کہ پہلے میں ایک غریب آدمی تھا کچھ کو خوف ہے کہ لوگ آسودہ سمجھتے ہیں اور نوبت گردہ فروشی تک آن پہنچی۔ کچھ کو ارزانی کہ آج کیا کھائیں اور کچھ کو تنگی کہ آج کہاں سے کھائیں خوف میں مبتلا قوم کے یہ سب خوف سطحی سے خوف ہیں البتہ حکومتی طرز عمل نے جو خوف کی فضا پیدا کر رکھی ہے یہ تو سابقہ حکومتوں کا ہرگز کیا دھرا نہیں ہے۔ جناب ذوالفقار علی بھٹو شہید کے بعد بدترین حالات میں ملک کی باگ ڈور 2008ء میں زرداری کے حصہ میں آئی مگر مجھے حیرت ہے کہ حکمرانوں کو نظر آنے والا خوف عوام کی طرف منتقل نہیں کیا گیا آج حالت یہ کہ خواص سے لے کر عوام تک ایک دوسرے میں الجھے پڑے ہیں دلوں میں نفرت اور خوف بھرا ہے جو آنکھوں سے ٹپک رہا ہے اس وقت ملک پر خوف اور نفرت کا راج ہے۔ کوئی شعبہ، کوئی طبقہ کوئی فرد ایسا نہیں جو خوف میں مبتلا نہ ہو۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ سلام اللہ علیہ نے فرمایا کہ مصیبت میں گھبرانا بذات خود بہت بڑی مصیبت ہے (مفہوم) یہی گھبراہٹ اور یہ ابتلاء آج کا مسئلہ ہے۔ حکومتی وزراء، حکومتی زعما، سٹیک ہولڈرز اور ذمہ داران اس خوف کو کم کرنے کی بجائے اس ابتلائے جان سے قوم کو نجات دینے کی بجائے بڑھاوا دے رہے ہیں۔ اس پر یہ ڈھٹائی کہ مجھے خوشی ہوتی ہے لوگ یوٹرن وزیراعظم کہتے ہیں حالانکہ لوگ یوٹرن خان کہتے ہیں۔ دنیا میں تاریخ کے اوراق میں زندہ رہنے والے لوگ اگر یوٹرن لے لیتے تو انسانی تاریخ غلامی سے نجات نہ پاتی۔ بھارتی موذی مودی اپنی کارروائیاں بین الاقوامی سازشوں کے ساتھ جاری رکھے ہوئے ہے جس کا تدارک وطن عزیز کی عسکری قوتیں کر رہی ہیں مگر ایوانوں میں حکمرانوں کے پھولے ہاتھ پاؤں اور سانس کا کیا کیجیے؟ جن کو دیکھ کر عوام میں خوف + مایوسی اپنی انتہاؤں کو چھورہی ہے جبکہ چارہ گر اقتدار کے مزید چارے کے حصول کے لیے دست و گریبان ہیں۔ اپوزیشن مقدمات کی دلدل کی زد میں ہے۔ مارکیٹیں سنسان ہیں البتہ FBR ، NAB ، FIA اور پولیس کے لوگ ’’منکر نکیر‘‘ کی صورت گری پیش کر رہے ہیں ایسے میں قوم کو خوف میں مبتلا کر کے کچھ بہتری کی امید نہیں۔ عوام الناس اب ان سب حکمرانوں اور ان کے ٹھیکیداروں سے مایوس ہو چکے ہیں۔ ذلتوں، ناانصافیوں، غربت، افلاس، خوف ، مایوسی میں مبتلا عوام اب کسی روحانی نجات دہندہ کے منتظر ہیں کیونکہ حکمران تو ابھی تک حکومت سازی ہی نہیں کر پائے ، بیورو کریسی کی اکھاڑ پچھاڑ، حکومتی نمائندوں کی تبدیلیاں یہ سب اس خوف اور خوف میں مبتلا ہونے میں اضافہ کا سبب ہیں جس کی موجودگی میں کم از کم ہم ایسوں کو تو کچھ بھلائی کی امید نہیں حکومت سر دست قوم کو ابتلائے خوف سے نجات دلا دے تو بہت ہو گا۔ مگر جو حکومت مخالفین حوالاتیوں اور قیدیوں سے خوف زدہ ہو، قیدیوں حوالاتیوں کے گھر کے کھانے سے خوفزدہ ہو ، وہ نحوستوں، ذلتوں، ظلمتوں، جبر، بے بسی ، نفرت اور خوف میں مبتلا قوم کو کیا نجات دلائے گی۔


ای پیپر