معاہدہ عمرانی۔۔۔۔آخری حصہ
16 ستمبر 2019 2019-09-16

(گزشتہ سے پیوستہ)

ہم نے گزشتہ دو کالموں میں روسو کے فلسفہ سیاست کو سمجھنے کی کوشش کی اور اس موضوع پر سیر حاصل گفتگو کی کہ روسو کے نزدیک ریاست ‘قانون اور عوام کا آپس میں کیسا تعلق ہونا چاہیے کہ ملکی ترقی ممکن ہو پائے۔روسو کا یہ نقطہ نظر سو فیصد درست ہے کہ حکومت اور ریاست کا آپس میں تعلق مظبوط تر ہونا چاہیے کیونکہ ریاست کا وجود بالذات ہوتا ہے جبکہ حکومت کا وجود ریاست کی ذات سے وابستہ ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ حاکم کا کوئی بھی عمل یا کام بلاواسطہ ریاست پر اثر انداز ہوتا ہے جبکہ ریاست کا چال چلن اگر حاکم سے مختلف بھی ہو تو حکومت اثرنداز نہیں ہوتی۔حاکم کا ارادہ اور قول و فعل قوم کا ارادہ یا قانون ہوتا ہے اور اگر ایسا نہیں تو روسو کا خیال ہے ایسا ہونا چاہیے کیونکہ حاکم کی طاقت ایک قوم کی طاقت ہوتی ہے لہٰذا اسے تمام فیصلوں میں اس بات کا خصوصی خیال رکھنا چاہیے کہ حاکم کے اس عمل سے قوم کتنی (مثبت یا منفی)اثرا نداز ہو رہی ہے ۔یہاں روسو اپنی بات کی وضاحت یوں بھی کرتا ہے کہ ’’اگر کوئی حاکم جوں ہی خودرائی سے مطلق العنانی یا خود مختاری کا کوئی فعل کرنا چاہتا ہے تو وہ (قوم کا )شیرازہ جس میں سب بندھے ہوتے ہیں بکھر جاتا ہے‘‘۔اگر ہم روسو کے اس فلسفہ ریاست و عوام کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے ملک کی بھی بدقسمتی شاید یہ ہے کہ ہمارے حکام اپنے فیصلوں اور ارادوں میں جمہور کو اتنی اہمیت نہیں دیتے جتنی روسو کہتا ہے۔اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ حکومت ہر فیصلہ کے دو دن بعد یوٹرن لے لیتی ہے کیونکہ بعد میں آنے والا عوامی پریشر کنٹرول سے باہر ہو جاتا ہے۔سچ تو یہ ہے کہ ہمارے نظام کے کھوکھلا ہونے کی بنیادی وجہ بھی یہ ہے کہ ہمارے ہاں قانون سازوں نے ہی قانون میں تفریق ڈال دی۔آج عوام کا قانون اور حکامِ بالا کا قانون مکمل طور پر مختلف ہے اور ایسے میں جو فیصلے کیے جاتے ہیں وہ دیر پا تو کیا ایک دن بھی نہیں نکال پاتے۔

روسو کا دوسرا فلسفہ تعلیمات ہے جو اس کہ شہرہ آفاق کتاب’’ایمیل‘‘میں کسی حد تک زیرِ بحث آیا۔روسوکے ’’ معاہدہ عمرانی ‘‘کا جو درجہ فلسفہ سیاست میں ہے وہی رتبہ’’ایمیل‘‘کا فلسفہ تعلیمات میں ہے۔افلاطون کی’’ریاست‘‘کے بعد روسو کے زمانے تک فلسفہ تعلیم پر کوئی دوسری ایسی تصنیف نہیں ہے جو ’’ایمیل‘‘سے مقابلہ کر سکے۔روسو اپنے تعلیمی نظریوں کو اتنی اہمیت نہیں دیتا جتنی ان دعووں کو دیتا ہے جو اس نے انسان اور خصوصا بچے کی فطرت اور نفسیاتی کیفیت کے بارے میں کیے ہیں۔ روسو کا بنیادی نقطہ نظر یہ رہا (جیسا کہ گزشتہ کالم میں ذکر کیا گیا)کہ بچے کو انسان کا نہیں فطرت کا شاگرد ہونا چاہیے۔اس کا خیال ہے بچے کابنیادی سبق وہ ہے جو اس کو فطرت اس کی صلاحیتوں اور قوتوں کو ابھار کر دیتی ہے۔اُس کا خیال ہے کہ انسان زیادہ سے زیادہ بچے کو برائیوں سے یا برے اثرات سے بچا سکتا ہے لہٰذا ہر انسان کی فطرت جدا ہوتی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ اسے اپنے مزاج کے مطابق فطرت سے سبق سیکھنا چاہیے۔اس بات سے تو اتفاق کیا جا سکتا ہے کہ انسان کا ہر دور مختلف فطری مظاہر سے محبت رکھتا ہے لہٰذا انسان کو اپنے ہر دور میں فطرت کا مظاہر کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی ذہنی نشونما کرنی چاہیے۔انسان آزاد رہتے ہوئے فطرت کی آغوش سے جو کچھ سیکھتا ہے وہ کسی مکتب سے نہیں سیکھ سکتا۔مگر اس کے برعکس مکتب کے فیضان سے ہم انکار نہیں کر سکتے کیونکہ اداروں کا ماحول انسان کی تعلیم و تربیت میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔روسو کا خیال ہے کہ تعلیم کا مقصد سمجھ دار انسان پیدا کرنا ہے لہٰذا سمجھ انسان میں وقت کے ساتھ خود ہی ڈویلپ ہوتی رہتی ہے بالکل ایسے ہی جیسے اس کی دیگر صلاحیتیں نشونما پاتی ہیں۔روسو کا خیال ہے کہ اگر معلم ‘متعلم کو سمجھ دار سمجھ کر تعلیم دینا شروع کر دیتا ہے تو گویا وہ اس نقطے سے آغاز کرتا ہے جس تعلیم کی آخری منزل ہے۔

روسو کا فلسفہ تمدن بھی مندرجہ بالا فلسفے سے ملتا جلتا ہے۔اس کا فلسفہ شروع میں متمدن انسان سے نہیں بلکہ فطری انسان سے بحث کرتا ہے۔اس کا خیال ہے کہ انسان کا سب سے پہلے فطرت سے تعارف ہونا چاہیے۔یہاں روسو اس بات کی بھی بحث کرتا ہے کہ فطرت سے دوری انسان کو ذہنی اور جسمانی طور پر غلام نا دیتی ہے کیونکہ مادی ترقی سے انسان میں فطرت سے محبت نہیں رہتی۔اس کا خیال ہے کہ انسان سب سے زیادہ فطرت سے سیکھتا ہے اور فطرت ہی اس کی پہلی استاد ہوتی ہے۔روسو کا خیال ہے کہ انسان کی زندگی میں سب سے زیادہ کردار ارادے اور ضمیر کا ہوتا ہے اور اگر انسان کا ارادہ اور عمل ضمیر کی آواز کے مطابق ہے تو وہ آزاد ہے یعنی وہ فطری انسان ہے۔اُس کا کہنا ہے کہ بیرونی آزادی کی کوئی حقیقت نہیں اگر انسان دل سے اپنے آپ کو آزاد محسوس نہ کرے۔آزادی غیر ذمہ دارانہ بے لگامی کا نام نہیں۔آزادی کی لازمی شرط ہے پابندی‘وہ پابندی جو خود اپنی خوشی سے ہو۔روسو کا کہنا ہے کہ آزاد صرف وہ انسان ہے جو اپنے ضمیر کی وجہ سے نیک ارادہ اور آزاد ہے۔روسو فطری انسان کو اچھا اور مادی ترقی کے پیچھے بھاگتے انسان کو قیدی اور برا کہتا ہے ‘یہی وجہ ہے کہ وہ متمدن زندگی سے زیادہ فطری زندگی کو اہمیت دیتا ہے۔فطری انسان ہمیشہ اپنی بقا کی کوشش کرتا ہے جبکہ مادیت پرستی کا شکار انسان ہمیشہ حسد اور لالچ کی بات کرے گا۔ایسے شخص کو ہزار مل جائے تو دس ہزارمانگے گا اور دس ہزار مل جائے تو لاکھ کا خواہش مند دکھائی گا جبکہ فطری انسان اس کے برعکس ہوتا ہے۔اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انسان نہ صرف برائی میں مبتلا ہو جات ہے بلکہ ذہنی طور پر غلام بھی بن جاتا ہے اور روسو ایسی غلامی کو گالی تصور کرتا ہے۔

چناچہ روسو اپنے تمام دعووں کی بنیاد فطری انسان پر رکھتا ہے اور تمام سیاسی اور معاشرتی مسائل اسی کے ذریعے حل کرتا ہے۔فطری انسان سے روسو بالکل یہ مراد نہیں لیتا کہ وہ جنگلوں میں جا کر بسیرا کر لے اور درندوں کی سی زندگی بسر کرنی شروع کردے بلکہ وہ تو صرف یہ چاہتا ہے کہ انسان اپنی حقیقت جو پہچانے اور اپنی اصلیت کی طرف واپس آ جائے اور اسی کو وہ انسان کی بقا سمجھتا ہے۔اگر ہم کچھ دیر کے لیے روسو کے نظریات کو آج کے دور سے موازنہ کریں تو نتیجہ آج بھی بالکل ویسا ہی ہوگا جیساتقریبا دو صدیاں پہلے تھا۔آج کا انسان بھی اپنی حقیقت سے دور بقا کی جنگ لڑنے کی بجائے مادی جنگ لڑنے میں ہمہ تن مصروف ہے۔آج کا انسان بھی نہ صرف فطرت سے کنارہ کش ہو گیا بلکہ غلامی کی زندگی کو فخر سمجھنے لگا اور اس کا نتیجہ یہ نکلا یہ ہمارے ہاں ’’ معاہدہ عمرانی ‘‘فلاپ ہو گیا۔آج ہمارے پاس نہ قابل حاکم ہے اور نہ ہی کوئی مضبوط قوم‘یعنی نہ خدا ملا اور نہ ہی وصالِ صنم۔ایسے میں ہمیں روسو کے فلسفے کو پڑھنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے کیونکہ اس کا فلسفہ ریاست‘قانون اور عوام کے رشتے کی بھی وضاحت کرتا ہے اور مادی اور فطری انسان کے راستے بھی متعین کرتا ہے۔


ای پیپر