خدارا کچھ سوچئے…؟
16 ستمبر 2019 2019-09-16

میرا گاؤں کم و بیش آٹھ ہزار نفوس پر مشتمل ہے۔ لڑکیوں کے لیے ثانوی اور لڑکوں کے لیے ابتدائی سکول کی سہولیات دستیاب ہیں۔ لڑکوں کے لیے ثانوی سکول کی سہولت فقط دو سے تین کلو میٹر کے فاصلے پر دستیاب ہے۔ اہالیان دیہہ تعلیم یافتہ، باشعور اور محبت و الفت کے باہمی رشتے سے بندھے ہوئے ہیں۔ (اکا دکا خرابی تو ہر سسٹم میں موجود ہوتی ہے) باہمی اتفاق کی حد یہاں تک ہے کہ قیام پاکستان سے لے کر اب تک ’’جامع مسجد‘‘ کا امام صرف دوسرا آدمی ہے۔ پہلے امام مسجد دِلی (موجودہ دہلی) کے مدرسہ کے فارغ التحصیل تھے جو 1947ء سے لے کر 1973ء تک امام مسجد رہے اور بڑھاپے میں آ کر اپنی اس ذمہ داری سے دستبردار ہو گئے۔ پھر اس کے بعد ایک نوجوان عالم دین سید عبدالرشید شاہ بخاری کو کڑے ٹیسٹ کے بعد گاؤں کے بڑوں نے امام مسجد کی ذمہ داری سونپ دی ۔ مولانا صاحب کئی نسلوں کی آبیاری کر چکے ہیں اور ہزاروں طالب علموں کو اپنے علم و فضل سے مستفید کر چکے ہیں۔ مولانا صاحب اپنے اس علاقے کے بہترین خطیب، مقرر اور عالم دین تصور کیے جاتے ہیں۔ مولانا صاحب ایک فصیح و بلیغ مبلغ اور خوش الحان قاری بھی تصور کیے جاتے ہیں۔ مولانا سید عبدالرشید شاہ بخاری صاحب کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ متعصب نہیں ہیں۔ کبھی مسلک اور فرقہ بازی کو ہوا نہیں دی۔ اسلام اور دین کی خدمت کو اپنا اشعار اول ہی سمجھتے ہیں۔ گاؤں کے پڑھے لکھے لوگوں اور طالب علموں سے خاصا شغف رکھتے ہیں۔ عقیدہ اہل سنت وجماعت حنفی بریلوی کے پیرو کار قل خوانی، چالیسواں اور سالانہ ختم کو ترجیح دیتے ہیں۔ ایک دن ایک دوست کے والد کے سالانہ ختم پر میں اور مولانا بالکل آمنے سامنے ہو گئے ۔ مولانا صاحب نے رسم ختم پاک شروع کی۔ لوگوں نے اپنی اپنی بساط کے مطابق مولانا صاحب کی ’’دامے درمے‘‘ خدمت کی۔ پیسوں کی بہتات دیکھ کر جی میں آیا کہ بندہ ’’پروفیسری‘‘ چھوڑ کر مولوی ہو جائے۔ تازہ تازہ روپے، کھانا اور پھل تو وافر ملے گا۔ نہ مہنگائی کا رونا اور نہ ہی حکومت کو کوسنا پڑے گا… مولانا صاحب! زادہِ راہ گن رہے تھے اور میں کن انکھیوں سے دیکھ رہا تھا اور ساتھ گنتی کو طول دیئے جا رہا تھا۔ میری گنتی سے مولوی صاحب کو پورے بائیس سو روپے اس ختم پاک سے حاصل ہوئے تھے۔ مولوی صاحب نے اچانک میری طرف گویا ہوئے اور بولے پروفیسر صاحب آپ کی کافی اساتذہ برادری بھی موجود تھی مگر پیسے کم ہوئے ہیں۔ میں تو پہلے ہی موقع کی تاڑ میں تھا۔ میں نے کہا حضور لوگ مجھے صرف ایک ہزار دے دیا کریں (بااہتمام مشروب و طعام) تو میں اس سے زیادہ تعداد میں اور کثیر لوگوں کا پڑھا دیا کروں گا۔ مولوی صاحب نے تبسم فرمایا اور چل دیئے… ڈالر 106سے ایک سو ساٹھ کا ہو گیا اور گھر بیٹھے بٹھائے 50 فیصد قرض کا بوجھ اوپر گیا۔ چینی 54 روپے سے 80 روپے ہو گئی اور مل مالکان کی چاندی ہو گئی۔ ادویات کی قیمتوں میں بغیر محنت کے 40فیصد اضافہ ہوا۔ مریض بغیر ادویات کے بغیر دم توڑنے لگے۔ سرکاری ہسپتالوں سے مفت ادویات ملنا بند ہو گئیں۔ کے الیکٹرک نے اپنی من مانی شروع کر دی۔ پولیس بدمعاشیوں، چوروں، ڈاکوؤں سے بھی دو ہاتھ آگے چلی گئی۔ لوگوں کے پاس کھانے کو کچھ نہیں اور مصباح الحق نیازی کو 28 لاکھ روپے ماہانہ پر کرکٹ کوچ مقرر کر دیا… میرے جیسا کرکٹر یہ کام ایک لاکھ روپے میں بھی سر انجام دے سکتا ہے… 28 لاکھ میں ساٹھ سے ستر غریب پڑھے لکھے افراد کو روزگار مل سکتا تھا اور ان کے گھر کے صدیوں اور نسلوں سے بجھے چولہے جل سکتے تھے۔ 1992ء کے بعد کرکٹ نے ملک کو کیا دیا ہے… کونسا جھومر ملک کے ماتھے پر سجایا ہے اور مصباح الحق نیازی نے کونسا ایسا ریکارڈ قائم کیا ہے جو اس کا نام رہتی دنیا تک کرکٹ کی تاریخ میں سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔ وہ کونسا ایسا ’’جادو گر‘‘ بلے باز تھا کہ اس تربیت سے پاکستان کرکٹ ٹیم بلے بازی میں اول نمبر پر آ جائے گی۔ مصباح الحق کو کرکٹ کی تربیت سازی کا اتنا ہی شوق تھا تو وہ یہ کام ملک و قوم کی خدمت کے لیے بہت کم معاوضے پر بھی تو کر سکتا تھا۔ مصباح الحق نیازی عمران خان نیازی کے نئے پاکستان کے لیے اپنی خدمات فی سبیل اللہ بھی تو دے سکتا تھا۔ مصباح الحق نے کرکٹ سے اتنا تو کما لیا ہو گا کہ بقیہ زندگی اور ضروریات اس آمدن سے پوری ہو سکتی تھیں۔ قارئین آپ کو یاد ہو گا کہ ڈاکٹر سعید اختر امریکہ میں 2900 ڈالر یومیہ مشاہرہ لے رہے تھے۔ وہ سابق وزیراعلیٰ شہباز شریف کی درخواست پر سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر پاکستان چلے آئے۔ 35 ارب روپے سے پنجاب میں دنیا کا دوسرا بڑا اور ایشیا کا سب سے بڑا کڈنی ہسپتال دیکھ کر انہوں نے پاکستان کے عوام کی خدمت کرنے کی ٹھان لی۔ حکومت پنجاب نے ان کی تنخواہ 12 لاکھ روپے ماہوار مقرر کر دی۔ پھر کیا ہوا؟ قارئین پھر ڈاکٹر صاحب کو سپریم کورٹ تک نے ذلیل و خوار کیا اور ان کا نام ای سی ایل میں ڈال دیا۔ وہ شخص جو بیرون ملک ایک دن میں پاکستانی کرنسی کے مطابق چار لاکھ اسی ہزار روپے لے رہا تھااور اس قوم کے حکمرانوں نے انہیں ماہانہ 12لاکھ دینے گوارہ نہ کیے اور 28 لاکھ پر کرکٹ کوچ رکھ لیا۔ قارئین! یاد کیجیے اس کوچ کا تعلق بھی نیازی قبیلے اور میانوالی سے ہے۔ قارئین ہم خود بے وقوف ہیں… بہت بڑے بے وقوف ہیں۔ ہم بریانی کی پلیٹ پر ایک دوسرے کا گریبان پکڑتے ہیں۔ ہم ڈھول کی تھاپ پر بلا معاوضہ بھنگڑا ڈالنے کے لیے تیا ربیٹھے ہوتے ہیں۔ حتیٰ کہ ہم اپنے نمائندوں کی گاڑیاں صاف کرنے کے لیے دست بستہ تیار کھڑے ہوتے ہیں۔ قارئین معذرت کے ساتھ ہم اس قدر گر چکے ہیں… اس قدر گر چکے ہیں کہ خود اپنے ہاتھوں سے جوتا پیش کرتے ہیں۔ لیجیے صاحب! سر حاضر ہے پہلے مجھے مارئیے۔ اس بہانے مارنے والے کو ہمارا نام تو یاد ہو جائے گا… ہم اس کی نگاہوں میں تو آ جائیں گے… کیا وقت آ گیا ہے۔ مولوی صاحب 30منٹ کے بائیس سو لے کر خوش نہیں ہیں… مصباح الحق نیازی کو بطور کوچ 28لاکھ روپے ماہانہ دیئے جا رہے ہیں۔ ڈاکٹر سعید کو عوام کی زندگی بچانے پر صرف ماہانہ 12لاکھ نہیں دیئے جاتے اور نام ای سی ایل میں ڈال دیا جاتا ہے اور ہم وہی عوام اکہتر سالوں سے بھوکے، غربت اور بے روزگاری کے دو راہے پر کھڑے ہیں۔ قارئین! ہماری تو گزر جائے گی خدارا آنے والی نسل کا تو سوچیں، ان کا کیا قصور ہے؟ غربت اور بیروزگاری ان کا مقد رکیوں بننے جا رہی ہے… انہیں ہم کونسی سی تہذیب اور اخلاقیات دے کر جا رہے ہیں… آخر ان کا قصور کیا ہے؟ ان کو کس جرم کی سزا ہے… خدارا کچھ سوچئے… خدارا کچھ سوچئے… اے میرے وزیرو، مشیر و، حکمرانو! خدارا کچھ سوچئے۔


ای پیپر