Image Source : PTI Facebook

مہنگائی کو کنٹرول کرنے کےلئے سفارشات اور لائحہ عمل کی تیاری کا فیصلہ
16 ستمبر 2019 (16:43) 2019-09-16

اسلام آباد :قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کی ذیلی کمیٹی نے ملک کو مہنگائی کی دلدل سے نکالنے اور غریب عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لئے سفارشات اور لائحہ عمل کی تیاری کے لئے آئندہ اجلاس میں وزارت خزانہ،ایف بی آر،اسٹیٹ بینک کے اعلی حکام سمیت تاجر رہنماں اور معاشی ماہرین طلب کر لیا۔

پیر کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس کمیٹی کنوینئر عائشہ غوث پاشا کی صدارت میں ہوا۔کمیٹی کنوینئر عائشہ غوث پاشا نے کہا کہ ذیلی کمیٹی کی تشکیل کا مقصد ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کو کنٹرول کرنا اور غریب عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے سفارشات تیار کرنا ہے۔اس وقت مہنگائی کی شرح ڈبل ڈیجٹ میں ہے۔

حنا ربانی کھر نے کہا کہ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کی اصل وجہ مقامی فیکٹرز اور حکومت کی مقامی میکرو اکنامک پالیسی ہے۔ ان مقامی فیکٹرز کی وجہ سے مہنگائی کے دبا میں اضافہ ہو رہا ہے۔ حکومت کو معاشی پالیسی درست کرنا ہو گی۔ ڈاکٹر رمیش کمار نے کہا کہ معاشی حالات انتہائی سنجیدہ ہیں۔ حکومت مشکلات میں ہے۔تاجر راہنماں،ماہرین اور اداروں کے سربراہوں کو مدعو کر کے لائحہ عمل تیار کیا جائے۔

عائشہ غوث پاشا نے کہا کہ کمیٹی حکومت کی میکرو اکنامک پالیسی کو فوکس کرے گی، کیونکہ مائیکرو لیو ل پالیسی جن کا تعلق صوبوں سے ہے ۔ قیمتوں کو ریگولیٹ کرنا،صوبوں کا کام ہے۔کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ آئیندہ اجلاس میں وزارت خزانہ،ایف بی آر، اسٹیٹ بینک کے اعلی حکام سمیت لاہور چیمبر آف کامرس کے صدر، معاشی ماہرین اشفاق تولہ،ثاقب شیرانی،حفیظ پاشا و دیگر کو مدعو کیا جائے گا اور مہنگائی کے مسئلہ کے حل کے لیے لائحہ عمل تیار کیا جائے گا۔

اجلاس بروز جمعہ کو طلب کیا گیا ہے، کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ اجلاس میں سابق وزیر خزانہ اور قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے چیئرمین اسد عمر کو اجلاس میں آنے کی دعوت دی جائے گی۔قبل از یں ڈاکٹر رمیش کمار نے کہا کہ معیشت کی بہتری کے لیے شرح سود پر توجہ دینی ہو گی۔جب شرح سود اتنا زیادہ ہو گا تو پھر بزنس کون کرے گا۔ریونیو کے ہدف میں شارٹ فال ہے۔ ہم دوسری لائن پر چل پڑے ہیں۔حناربانی کھر نے کہا کہ حکومت آئی ایم ایف کی لائن پر چل رہی ہے۔


ای پیپر