دختر لاہور
16 ستمبر 2018 2018-09-16



اہل لاہور نے حق ادا کر دیا ہے۔ دختر لاہور کو یوں رخصت کیا کہ ایک نئی تاریخ رقم کر دی۔ جاتی امرا کی دھرتی پر وہ کلثوم نواز کا جسد خاکی ہی نہیں تھا جس کے دیدار کیلئے شرکا ئے جنازہ ٹوٹے پڑے تھے۔ وہ تو اس بے مثال شہر لاہور کی بیٹی کی رخصتی تھی۔ جس نے ابتلا کی گھڑی میں گھریلو زندگی کو تج کر آمر وقت کے چیلنج کو قبول کیا۔ دختر لاہور کے جنازے میں شرکت نہ کرنے کا خلق ہمیشہ رہے گا۔ کشاکش حیات کے جھمیلے ایسے ہی ہیں۔بہت کچھ ایسا ہوتا ہے جو ہمیشہ کیلئے پاؤں کے اندر رہ جانے والے کانٹے کی نوک کی مانند چبھتا رہتا ہے۔ پھانس کی طرح سینے میں مقید،غبار ایسا نہ باہر آتا ہے۔ اندر ہی اند ر بے چین،بے کل رکھتا ہے۔ چند برس پہلے جان پسر ماں کو اپنے ہاتھوں سے منوں مٹی کے نیچے قبرستان چھوڑ کر واپسی کیلئے قدم اٹھائے تھے۔ تب سے آج تک وہ دل اسی قبرستان کی دیواروں کے اندر آوارہ بگولے کی مانند سر گرداں رہتا ہے۔ جسم تو قبرستان سے باہر ہے لیکن روح،جان سب اسی شہر خموشاں کے مجاور ہیں۔ اس منتظر کی مانند جس کو معلوم ہوتا ہے کہ آنے والی بس میں کوئی ایسا نہیں جو اس کی خاطر سفرکے کشٹ کاٹ کر آتا ہے۔جب سے اپنی ماں گئی تب سے ہرگز ر جانے والی اپنی ما ں ہی معلوم ہوتی ہے۔ ماں سب کی سانجھی ہوتی ہے۔یہ حقیقت ماں کو دفن کر کے ہی معلوم ہوتی ہے۔کلثوم نواز مرحومہ تو مادر جمہوریت ہیں۔ کسی کے ماننے یا نہ ماننے سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ان سفاکیت کے بے جان مجسموں،دل میں کدورت،زبان پر نفرت کی بولی لیے انسان نما حیوانوں سے کیا گلہ، کیا شکایت۔تاریخ کا کون سا ایسا موڑ ہے۔ایسا کون سا پاکبازفرد ہے جس کی راہ میں ایسے سنگ بار مزا حم نہ ہوتے ہوں۔ امام احمد حنبل نے کہا تھا کہ ہمارے بعد ہمارے جنازے گواہی دینگے کہ کون حق پر تھا۔بیگم کلثوم نواز کے جنازے نے گواہی دیدی۔ کوئی سرکاری اہتمام تھا نہ انتظام۔نہ ٹرینیں،نہ بسیں۔ راستوں میں سکیورٹی کے نام پر رکاوٹیں مقرر تھیں۔ ارے سنگدلوں جنازہ کی سکیورٹی؟کبھی جنازہ کیلئے بھی کسی کو دعوت دی جاتی ہے۔ وہ تو رخصت ہو جانے والے،الفت کی زنجیر کے اسیروں کے درمیان ان دیکھا رشتہ ہوا کرتا ہے۔ بس اچانک یک لخت دل کے دروازے پر دستک ہوتی ہے۔ اگلے ہی لمحے وہ دستک بے قرار کرتی ہے۔ دیوانہ بھاگ اٹھتا ہے۔ اس روز مجبوری کی زنجیر نہ ہوتی تو مادر جمہوریت کے سفر آخرت میں ضرور شرکت ہوتی۔ ابھی تو اسیران جیل سے ملاقات کا قرض باقی ہے۔ ہر جمعرات سے پہلے چپکے سے عرضی ڈالتا ہوں جیل میں ملاقات کی۔لیکن نا جانے کیو ں بندی خانوں کے مالک کس بات سے خوفزدہ ہیں۔ستم کی کون سی داستاں باقی ہے۔جس کی گواہی بندہ مزدور جیل سے واپسی پر سنائے گا۔ ان کی جیت نئی ہے نہ اپنی ہار۔سنانے کون دیتا ہے۔سنگ و خشت مقیدہوں توراہ کاٹنے والے بہت۔ بیگم کلثوم
نواز تو ویسے بھی صرف مریم نواز ہی کی ماں نہیں نہ وہ باؤ جی کی اہلیہ ہیں۔ وہ تو جمہور کی بالا دستی کے سپنے دیکھنے والوں کیلئے مزاحمت کی علامت ہیں۔یہاں تو ایسے بھی ہیں جنہوں نے اگر خیر کا کوئی کام کیا بھی ہے۔ تو وہ اس کا صلہ مانگتے ہیں۔ اس بات پر تعظیم مانگتے ہیں کہ انہوں نے دوسروں سے چندہ مانگا۔ شفا خانہ بنایا۔ وہ صاحب دل خاتون جو شعروادب کی تصوراتی دنیاکی مکین تھی۔ جس کو دولت سے زیادہ اپنی لائبریری پر مان تھا۔ جو ساری زندگی اس قول عمل پر پیرا رہیں کہ دائیں ہاتھ سے دیا تو بائیں ہاتھ کو خبر نہ ہوتی۔ شائد یہی وہ خاموش عبادت تھی جس کے صلے میں لاہوریوں نے این اے 120 کے الیکشن میں جھولیاں بھر بھر کر اپنی بیٹی،اپنی بہن،اپنی ماں کو ووٹ دیے۔ کیونکہ وہ بھی تو لاہور کی بیواؤں، یتیموں، مستحق بچیوں کے درد کا درماں تھیں۔ قومی اسمبلی کی ایک نشست کی کیا حیثیت اہل پنجاب تو اس وقت بھی اٹھ کھڑے ہوئے تھے جب اس نے اپنے ہم وطنوں کو پکارا تھا۔ جس طرح صدیوں پہلے مقید بیٹی نے بلاد عرب کے با اختیار حکمران کو پکارا تھا۔ 12 اکتوبر 1999 کا دن کبھی نہیں بھولتا۔ اس روز سیاہ کی شام ڈھلنے سے چند ساعتیں قبل عوامی حقوق پر نقب زنی کی واردات ہوئی۔ اس کامیاب واردات کی چاپ تو دارالحکومت کی سڑکوں پر صاف سنائی دیتی تھی۔ لیکن دل ماننے کیلئے تیار نہ تھا۔ ایسی ہی ایک شام کسی با خبر نے سر گوشی کی تھی۔ بس دو چار دنوں کی بات ہے۔ بساط الٹ دی جائے گی۔ چند روز بعد جمہوریت کی صف لپیٹ کر کسی تاریک تہہ خانے میں پھینک دی گئی۔ نواز شریف پابند سلاسل کر دیے گئے۔ بے نظیر بھٹو پہلے ہی جلا وطنی کی زندگی گزار رہی تھیں۔ عوام بے سمت بھیڑوں کی مانند تھے۔ جن کا کوئی چرواہا باقی نہ رہا۔ مادر وطن کی سنسان گلیوں میں تنہاپھرنے والا رانجھا تو کوئی نہ تھا۔ البتہ کیدو دندناتے پھرتے تھے۔ پھر رستم زماں گاماں پہلوا ن کہ جس نے اپنے وقت شاہ زور پہلوانوں کو چت کر ڈالا تھا۔ اس شیر دل خاندان کی بہادرخاتون اپنے قدموں پر اٹھ کھڑی ہوئیں۔ کلثوم نواز نے صدائے احتجاج بلند کی۔ ادھر ادھر بکھرے ہوئے کارکن،جمہوریت پسند آہستہ آہستہ اکھٹے ہوتے گئے۔ تحریک تکمیل پاکستان کے نام سے مزاحمت شروع ہوئی۔ جو جلد ہی گلی کوچوں میں پھیل گئی۔پنڈی کی فرزند ی کا نام نہاد دعویدار تو پہلے ہی لال حویلی کے دروازے بند کر چکا تھا۔ لیکن وہ راولپنڈی ہی کا چوہدری تنویر تھا جس نے لبیک کہا اور شہر خرابات میں ایک ٹھکانہ میسر ہوا۔
بیگم کلثوم نواز کراچی سے اٹک تک مقدمے بھی بھگتاتیں۔جلسے جلوس بھی منظم کرتیں۔ پارٹی کے اجلاسوں کی صدارت بھی کرتیں۔ اس زمانے میں ان گنت مرتبہ ان کی ہم راہی میں سفر بھی کیا۔ کمال کی منظم،متحمل،صابر خاتون تھیں۔ شکستگی کے بد ترین لمحوں میں بھی کبھی مخالف کے متعلق نا پسندیدہ حرف تک زبان سے نہ نکلا۔تہمینہ دولتانہ،سعد رفیق، مشاہد اللہ اور ان کے ایک بھانجے جن کا نام بھول گیا وہ ہمراہ ہوتے۔ ان کی چلائی تحریک مزاحمت نے زور پکڑا تو اقتدار کے ایوانوں میں خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگیں۔کامل اقتدار کے خواہش مند آمر مطلق کو اپنے گرد گھیرا تنگ ہوتا نظر آیا۔اس کے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔ اور وہ جھکنے پر مجبور ہوا۔ وہ بیگم کلثوم سے اس قدر خائف تھا کہ شرط لگائی کہ بیگم کلثوم نواز کو بھی جلا وطن کیا جائے۔بہر حال وہ سب تاریخ کاحصہ ہے۔ طالب علم کا موقف ہے کہ وہ بیگم کلثوم نواز کی برپا کردہ تحریک تھی جس نے مستقبل میں الیکشن کا ٹائم فریم دینے کی راہ ہموار کی۔ اسی تحریک نے جی ڈی اے اور اے آر ڈی کو تشکیل دیا۔ اور آخر کار میثاق جمہوریت پر دستخط ہوئے۔
بیگم کلثوم نواز بھی ہر متنفس کی مانند موت سے ہار گئیں۔ یہ ہار تو ہم سب کیلئے لوح محفوظ پر لکھ دی گئی ہے۔ اس سے مفرنہیں۔ بیگم کلثوم نواز کا سیاسی کیرئیر مختصرتھا۔ لیکن تحریک مزاحمت نے ان کا نام فاطمہ جناح، بیگم نصرت بھٹو، بے نظیر بھٹو کی قبیل کی خواتین کے ساتھ لکھ دیا۔ مریم نوازاوریہ سب ان خواتین کی فہرست میں سے ہیں جن سے حاکمان وقت خائف رہتے ہیں۔ جن کیلئے وہ جبر وستم کی نئی رسمیں ایجاد کرتے ہیں۔


ای پیپر