سی پیک سے جڑ ے پاک چین مفا دا ت
16 ستمبر 2018 2018-09-16



گز شتہ ہفتے چین کے سفیر جنا ب یاؤ جنگ کی ہمارے چیف آ ف آ ر می سٹا ف جنا ب قمر جا وید با جو ہ کے درمیان ملا قا ت انتہا ئی اہمیت کی حا مل ہے۔ یا دش بخیرآ ج سے ٹھیک چا ر سا ل پہلے،یعنی ستمبر 2014میں پا کستا ن اور چین کی حکو متو ں نے سی پیک کے معا ہد ے پے د ستخط کیئے تھے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے اپنے ٹوئٹ میں اس ملا قا ت کے بارے میں بتا یا۔ان کے مطابق چین کے سفیر یاؤجنگ نے گزشتہ روز چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کی، جس میں باہمی دلچسپی اور علاقائی سیکورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اس موقع پر آرمی چیف نے کہا کہ سی پیک پاکستان کا معاشی مستقبل ہے، اس کی سیکورٹی پر کبھی کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ چینی سفیر نے چینی وزیر خارجہ کے کامیاب دورے اور سی پیک کے لیے پاکستان کی حمایت کو سراہا۔ اس ملا قا ت میں چیف آ ف آ رمی سٹا ف کا لہجہ اس قدر و ا ضح تھا کہ اس کے نتیجے میں نئی حکو مت کے بر سرِاقتدا ر آ نے کے بعد اٹھتے ہو ئے شکو ک دو ر ہو گئے۔
ایک با ر پھر یہ واضح ہوگیا ہے کہ گزرے کل کی طرح پاک فوج آج بھی سی پیک کو پاکستان کے مستحکم معاشی مستقبل کے لیے ناگزیر سمجھتی ہے اور اپنے اس عزم اور ارادے پر بھی اسی طرح قائم ہے کہ اس کی سیکورٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ چونکہ حکومت اور پاک فوج ایک پیج پر ہیں، اس لیے خاصے تیقن کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ حکومت کی بھی یہی سوچ ہے اور وہ بھی اس منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے سلسلے میں پاک فوج ہی کی طرح پُر عزم ہے۔ اس کا ثبوت اس خبر سے بھی ملتا ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان نے چین کو یقین دہانی کروائی ہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کی تکمیل تحریک انصاف کی حکومت کی بنیادی ترجیحات میں شامل ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے تقریباً ایک ہفتہ قبل اپنے چینی ہم منصب وانگ لی کے ہمراہ میڈیا کانفرنس میں واضح کیا تھا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کی جلد از جلد تکمیل ہماری اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ پاکستان کی سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے اہم ہے۔
یہ بات متعدد بار اور پچھلے کچھ عرصے میں تسلسل کے ساتھ مشاہدے میں آرہی ہے کہ ہمارے ملک میں اہم ایشوز کے بارے میں وقفے وقفے سے افواہیں پھیلنا شروع ہوجاتی ہیں، جس سے ابہام جنم لیتے ہیں، جبکہ ابہام معاشرے میں غلط فہمیاں پیدا کرنے کا باعث بنتے ہیں جس سے سماجی مسائل کی شدت بڑھ جاتی ہے۔ اس سلسلے میں یوں تو کئی مثالیں پیش کی جا
سکتی ہیں لیکن فی الوقت سی پیک ہی کو لیتے ہیں۔ نئی حکومت کے قیام کے بعد یہ افواہیں گردش کرنے لگیں کہ وہ سی پیک منصوبے پر نظر ثانی کا ارادہ رکھتی ہے اور بھی ایسی ہی بے پرکی اڑائی جاتی رہیں، جس کے باعث سی پیک کے ضمنی شعبوں میں سرمایہ کاری کی منصوبہ بندی میں مصروف افراد اور ادارے سوچ میں پڑ گئے کہ وہ اس سلسلے میں آگے بڑھیں یا نہیں۔ ایسی افواہیں گزشتہ دورِ حکومت میں بھی عوامی حلقوں میں گردش کرتی رہیں اور بار بار ایسا ہونے کی واحد وجہ یہ ہے کہ حکومت کی جانب سے بڑے منصوبوں کے بارے میں عوام کو بروقت اور مناسب طور پر مطلع اور آگاہ نہیں کیا جاتا۔ انہیں ان معاملا ت میں اعتماد میں نہیں لیا جاتا۔ اندازہ اس بات سے لگائیں کہ سی پیک منصوبے پر عملدرآمد کا آغاز ہوئے کئی برس ہوچکے ہیں لیکن ہمارے عوام اب تک لاعلم ہیں کہ چین اس منصوبے پر کل کتنی سرمایہ کاری کررہا ہے؟ ان رقوم میں سے کتنی امداد کے طور پر ہیں اور کتنی بطور قرض فراہم کی جارہی ہیں اور یہ کہ قرض کے طور پر فراہم کیے گئے فنڈز کتنے فیصد سود پر ہیں۔ پھر یہ بھی کسی کو معلوم نہیں کہ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کا اصل منصوبہ کتنا بڑا ہے؟ اور سی پیک اس منصوبے کے کتنے فیصد حصے پر مشتمل ہے؟ یہ بھی پوری طرح واضح نہیں کہ سابق حکومت نے کن شرائط پر یہ منصوبہ منظور کیا اور اس سے پاکستان کو مستقل قریب یا بعید میں کیا اور کتنا مالی فائدہ اور معاشی فائدہ ہوسکتا ہے؟ بہت سے لوگ اس بات سے بھی آ گا ہی نہیں ر کھتے کہ اس منصوبے کے لیے ورک فورس پاکستان کی استعمال کی جائے گی یا یہ بھی چین سے درآمد کی جائیگی۔ ضروری نہیں کہ تزویراتی اہمیت و افادیت کے حامل معاملات کو بھی سامنے لایا جائے، لیکن جتنا ضروری ہے اتنا تو عوام کو علم ہونا چاہیے۔ اس ملک کا شہری ہونے کے ناطے یہ ان کا حق ہے۔ یہ ساری باتیں اگر بروقت کھول کر بیان کردی جائیں تو نا صرف اس منصوبے پر عملدرآمد کے آغاز میں بلکہ اب نئی حکومت کے قیام کے بعد بھی افواہوں کے پھیلنے یا پھیلائے جانے کے اس سلسلے کا سد باب کیا جاسکتا تھا۔ ضروری ہے کہ اس منصوبے کی تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں تاکہ وہ اس کی افادیت سے بہروہ ور ہوسکیں۔ عوام اگر حقائق سے آگاہ ہوں گے تو افواہیں ابہام کا باعث نہیں بنیں گے اور عوام پر منفی تاثر نہیں چھوڑیں گی۔ بہرحال جیسا کہ آرمی چیف نے واضح کیا اس منصوبے کی تکمیل پاکستان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے کے لیے ضروری ہے اور یہ بات خوش آئند ہے کہ حکومت اور فوج دونوں اس منصوبے کی تکمیل کے عزم و ارادے پر قائم ہیں۔
بے شک ہما ری فو ج کو اپنے فر ائضِ منصبی کا پو ری طر ح احسا س ہے اور وہ اسے کما حقہ پورا بھی کر رہی ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ ہما ری سو ل حکو مت سب کچھ فو ج پہ چھو ڑ کر اپنے فر ا ئض سے غا فل ہو جا ئے۔ مطلب یہ کہ اسے چا ہیئے کہ وہ معا ملا ت کو اتنا شفا ف اور عوا م کے سا منے یو ں رکھے کہ ان کے کسی بھی قسم کے شک میں مبتلا ہو نے کی نو بت ہی نہ آئے۔بد قسمتی سے ہما ری حکو متیں اپنا کر دا ر اس طو ر پیش کر نے سے قا صر چلی آ رہی ہیں۔
مثا ل کے طو ر پر ہما رے مشیرِ تجا ر ت عبد ا لر زا ق دا ؤ د کے فنا نشل ٹا ئمز میں شا ئع شد ہ بیا ن نے سی پیک کے با رے میں تشو یش کی جو لہر دو ڑا ئی ، وہ اس قدر شدت کی حا مل تھی کہ خو د چینی وز یرِ خا ر جہ کو پا کستا ن کا دو رہ کر نا پڑا۔گو چینی حکو مت کو ہما ری فو ج کی قیا دت نے مطمئن کر دیا لیکن پو چھا جا سکتا ہے کہ کیا ہما ری سو ل حکومت کو نہیں چا ہیے تھا کہ فنا نشل ٹا ئمز کو اس قسم کا ا نٹر و یو دینے سے اجتنا ب بر تتی؟ ا مر یکہ بہا در کے سا تھ وطنِ عز یز کے تعلقا ت پہلے ہی خر اب ہو چکے ہیں، اور خر ا بی کی اصل و جہ سی پیک کے منصو بے پہ عمل در آ مد کو بتا یا جا ر ہا ہے۔ ایسے میں چین کی پا کستا ن سے نا را ضگی کسی طو ر بھی سو د مند ثا بت نہیں ہو سکتی۔ پا کستا ن اور چین کو ایک دوسرے کی دو ستی پہ ہمیشہ فخر ر ہا ہے۔ ہو نا ہر صو رت میں یہی چا ہیے کہ سی پیک کا منصو بہ ان تعلقا ت کی مز ید مضبو طی کا سبب بنے!


ای پیپر