ناتجربہ کار وزیر
16 ستمبر 2018 2018-09-16



نئی حکومت کے نئے نویلے وزیروں، مشیروں کی بدحواسیوں کے احوال سے قبل پوری قوم کے حواس گم کردینے والی خبر، بیگم کلثوم نواز انتقال کر گئیں، 68 سالہ زندگی کے آخری ڈھائی سال اور ان میں سے بھی 385 دن انتہائی اذیت اور زندگی و موت کی کشمکش میں گزرے، طبی معائنہ کرانے لندن گئی تھیں تابوت میں بند ہو کر واپس آئیں، اللہ کا حکم آگیا اس نے شریف فیملی کی شریف خاتون کو اپنے پاس بلا لیا، تین بار خاتون اول رہنے والی سراپا مشرقی خاتون دکھ اور اذیت سے نجات پا گئیں اللہ ان کی مغفرت کرے اور شریف فیملی کو جس کے راستے میں دور تک کانٹے بچھے ہیں یہ صدمہ برداشت کرنے کی ہمت اور حوصلہ عطا فرمائے آمین، نواز شریف نے 48 سال ساتھ نبھانے والی اہلیہ کو آخری بار لندن میں دیکھا تھا وہ زندہ تھیں لیکن مانند مردہ، ایک بار ہوش آیا آنکھیں جھپکیں نواز شریف نے مخاطب کیا ’’کلثوم میں ہوں باؤ جی‘‘ کلثوم نواز نے آنکھیں موند لیں نواز شریف بوجھل دل کے ساتھ پیچھے ہٹ گئے کلثوم نواز نے دل ہی دل میں جو وینٹی لیٹر کے طفیل دھڑک رہا تھا یہ شعر پڑھا ہوگا۔
رکی رکی سی نظر آرہی ہے نبض حیات
یہ کون اٹھ کے گیا ہے میرے سرہانے سے
شہباز شریف اپنی بھابی کو لینے پہنچے تابوت میں بند واپس لائے، نماز جنازہ ہوئی ہزاروں افراد نے شرکت کی اور آہوں سسکیوں میں سپرد خاک کردی گئین بقول استادقمر جلالوی
دبا کے قبر میں سب چل دیے دعا نہ سلام
ذرا سی دیر میں کیا ہوگیا زمانے کو
جانے والوں کے لیے اس سے زیادہ کیا ہوگا لیکن ایک دن کے سوگ کا بھی اعلان نہ ہوا صرف تعزیتی بیانات پر اکتفا، وزیر اعظم عمران خان، آصف زرداری، بلاول بھٹو اور دیگر نہ آنے والے لیڈر آجاتے تو کیا بگڑتا، یہاں بندے بندی کی قدر نہیں اقتدار کی عزت ہے، ایک اچھی بات ہوئی جنہوں نے مرحومہ کی بیماری کا مذاق اڑایا تھا اسے سیاسی ہتھکنڈہ قرار دیا تھا انہوں نے معافی مانگ لی، ہلکا سا لفظ معذرت استعمال کیا ،کیا کافی ہے؟ آئندہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔
اب نئی نویلی حکومت کے لاڈلوں کی بد حواسیوں کا ذکر ہوجائے لیکن اس سے قبل ایک سینئر مبصر کا تبصرہ، لکھا کہ ’’نئی نویلی حکومت ریاست پر سوار نہ باگ ہاتھ میں ہے نہ پاؤں رکاب میں‘‘
سرپٹ اندھا دھند دوڑ، نا اہلی، غیر سنجیدگی، قوت فیصلہ سے محرومی، مجموعہ تضادات، ناپختگی، نا تجربہ کاری کوٹ کوٹ کر بھری ،کئی کام کر ڈالے، معاملات نمٹائے، حاصل کارکردگی ہزیمت، ترجیحات اہلیت نمایاں کر گئیں‘‘ بڑا طویل تبصرہ ہے کسی نے کہا ہنی مون پیریڈ ختم ہوا، اپنے اور غیر سبھی نتائج کی توقع میں بے چین بیٹھے ہیں لیکن بلیم گیم کے سوا کچھ سامنے نہیں آر رہا ،خارجہ پالیسی، سی پیک، پیٹرول کی قیمتیں، کابینہ میں توسیع، پولیس اصلاحات، وزیر اعظم ہاؤس اور گورنر ہاؤس کی حیثیت تبدیل کرنے کی باتیں، وزیر اعظم ہاؤس کو یونیورسٹی بنانے کا اعلان، پہلا پتھر وزیر تعلیم کی اپنی ہی سابق پارٹی کی طرف سے پڑا، نفیسہ شاہ نے کہہ دیا کہ وزیر اعظم
ہاؤس عمران خان کی ذاتی جاگیر نہیں قوم کی ملکیت ہے بنی گالہ کو یونیورسٹی بنالیں، پتھراؤ کا رواج جنہوں نے شروع کیا تھا وہ اب پتھراؤ کی زد میں ہیں، ابھی اپوزیشن کا واویلا یا واہ ویلا شروع نہیں ہوا، دن تیزی سے گزر رہے ہیں اور حکومت کی بدحواسیوں میں اضافہ ہو رہا ہے، لوگ کہنے لگے ہیں کہ ’’سیاست وہ کھیل نہیں ہے جسے بچے کھیلیں‘‘ عمران خان ایک دن کے وزیر اعظم نہیں کہ کسی فلمی ہیرو کی طرح ’ایٹ دی اسپاٹ ‘دھنا دھن فیصلے کر کے مدینہ کی طرح فلاحی ریاست قائم کردیں، بلیم گیم سب سے آسان کام لیکن بلیم گیم سے بچنے کے لیے فیصلے کرنا اور ان پر عملدرآمد انتہائی مشکل، بندہ وہ کچھ نہ کہے نہ کرے جس سے بالآخر سبکی ہو، میڈیا ابھی تلواریں سونتے میدان میں نہیں نکلا، کسی بھی اپوزیشن جماعت کے 16 ترجمان ٹی وی چینلوں پر آ بیٹھے تو کیا ہوگا؟ کابینہ آزمودہ کار وزیروں پر مشتمل نہیں، لگتا ہے وزیروں کی صرف ٹی وی پر کارکردگی دیکھی گئی، ٹی وی پر بیٹھ کر گالیاں دینے والے’’ ماہرین ‘‘کو شامل سفر کرلیا گیا، اب ان کے فیصلے اور بیانات راہ میں تاریکی بچھا رہے ہیں راستہ سجھائی دے گا تو آگے چلیں گے، آتے ہی بھارت کو دوستی کا پیغام اسی پیغام کی پاداش میں 17 وزرائے اعظم کو روز بد دیکھنا پڑا نواز شریف نے مودی کو
دوستی کا پیغام بھیجا تو نعرہ لگا دیا مودی کا جو یار ہے غدار ہے اب سدھو اور گواسکر کو بلا بھیجا ،گواسکر طرح دے گئے، سدھو سیدھا سادہ سکھ،بھرے میں آگیا واپسی پر مقدمہ قائم، بارہ گھنٹے بعد احساس ہوا، سی پیک کو آتے ہی زیر بحث لانے کی کیا ضرورت تھی، جس دوست ملک نے 65 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی اس کے ذہن میں شکوک و شبہات کے طوفان اٹھ کھڑے ہوئے، احسن اقبال نے کہہ دیا کہ موجودہ حکومت کو سی پیک روکنے کے لیے لایا گیا ہے، گیس بجلی کے نرخ بڑھانے کی منظوری، اعلان کرتے ہوئے جھجھک، وجہ وہی مقبولیت میں کمی کا خطرہ، کوئی اور کنٹینر پر نہ چڑھ جائے، چڑھ گیا تو تبدیلی کے بغیر نہیں اترے گا ،حادثہ ہوتے ہوتے رہ گیا، قادیانی کو اقتصادی کونسل کا رکن بنایا گیا پوری قوم اٹھ کھڑی ہوئی، علامہ خادم رضوی کو بھی دھرنے کا وسیع تجربہ، بیٹھ جاتے تو اوپر والے ہی اٹھاتے، گھر جانے کا کرایہ بھی دیتے، خیر گزری کہ قادیانی کو مشاورتی کونسل سے نکال دیا گیا دو اور ماہرین مستعفیٰ ہوگئے، آئی ایم ایف سے پیکج خطرے میں پڑ گیا،نظام حکومت چلانے کے لئے9ارب ڈٖالر چاہئیں، عمران خان کے عزائم پر شبہ نہیں، اقتدار میں آئے ہیں تو بہت کچھ سوچ سمجھ کر آئے ہیں لیکن ارد گرد ’’کوٹہ سسٹم ‘‘کے تحت جن کو ہمراہی بنایا ہے وہ بیشتر نا تجربہ کار ، کئی ایک نے تو پہلی بار وزارت کاو اسکوٹ پہنا، حلف کے الفاظ دہرانے میں مشکل پیش آئی، بات کرنے کا سلیقہ نہیں نادانوں کو، ایسی گفتگو کیوں کی جائے جس پر دوسرے دن ہی معافی مانگنی پڑے، بیک وقت سارے محاذ کھول دیے اور مشکلات کا شکار ہوگئے وزیروں مشیروں نے دانستہ یا نادانستہ کیا کیا یہ عرض پھر کریں گے۔


ای پیپر