سویڈن کے عام انتخابات میں دائیں بازو کا غلبہ
16 ستمبر 2018 2018-09-16



سویڈن کے نام ذہن آتے ہی ایک ایسے ملک کا تصور سامنے آتا ہے جس نے ریاستی سرمایہ داری اور سوشل ڈیمو کریس کی بنیاد پر وہ سب کچھ حاصل کیا جس کے بارے میں ہمارے جیسے ممالک کے لوگ اب بھی محض خواب ہی دیکھتے ہیں۔ 1980ء کی دہائی تک سویڈن کا شمار دنیا کے ان چند ممالک میں ہوتا تھا جہاں پر طبقاتی فرق کم تھا۔ وہاں پر دولت کی سب سے منصفانہ تقسیم موجود تھی۔ مفت تعلیم ، صحت ، رہائش اور سستی ترین ٹرانسپورٹ، بجلی اور گیس کی سہولیات موجود تھیں۔ روزگار کے مواقع موجود تھے ورنہ بے روزگاروں کے لئے بے روزگاری الاؤنس اور دیگر سہولیات میسر تھیں۔ سیاسی سماجی اور معاشی استحکام موجود تھا۔ سویڈن کو سوشل ڈیموکریسی کی معراج اور جنت بھی کہا جاتا تھا۔ سویڈن کو سوشل ڈیموکریسی کی معراج اور جنت بھی کہا جاتا تھا۔ سویڈن ایک حقیقی معنوں میں فلاحی ریاست تھی۔ مگر 1990ء کی دہائی میں یہ سب کچھ بدلنا شروع ہوا۔ آزاد منڈی کی معیشت اور نیو لبرل ازم کے تحت رد اصلاحات کا آغاز ہوا۔ فلاحی ریاست پر حملے شروع ہوئے۔ تعلیم، صحت اور رہائش بنیادی سہولیات اور ضروریات کی بجائے منافعوں کے حصول کا ذریعہ بن گئے۔ سماجی سہولیات اور پروگراموں پر کٹوتیاں شروع ہوئیں ۔ گزشتہ 3 دہائیوں سے یہ عمل جاری ہے اور بتدریج فلاحی ریاست پر حملے کو کٹوتیاں جاری ہیں۔
وہ سویڈن جہاں پر تمام شہریوں کو صحت کی مفت سہولیات دستیاب تھیں اب اسی ملک میں مریض محض اس وجہ سے اپنی جان سے ہاتھ دھو رہے ہیں کیونکہ انہیں وقت پر سرجری کی سہولت نہ مل سکی۔ بے روزگاروں کو لاحامل اور ذلت آمیز جبری تربیت سے گزرنا پڑتا ہے تا کہ وہ بے روزگاری الاؤنس یا کسی قسم کا روزگار حاصل کر سکیں بہت سارے لوگ ایسے ہیں جن کو ڈاکٹر کی سہولت میسر نہیں ہے۔ جزوقتی اور عارضی ملازمتوں کا سلسلہ عروج پر ہے۔ تنخواہوں اور حالات کار پہلے سے بدتر ہوئے ہیں۔ سویڈن جو کہ دولت کی تقسیم کے لحاظ سے بہت منصفانہ ملک تھا اب اس میں دولت اور غربت کی تفریق بڑھ گئی ہے۔ نوجوان نسل واضح طور پر یہ دیکھ سکتی ہے کہ ان کے والدین جس سماج میں جوان ہوئے اور پلے بڑھے تھے وہ اب بتدریج ختم ہو رہا ہے۔ بہت سارے نوجوانوں کے سامنے بہت اچھا مستقبل نہیں ہے۔ ان کے لئے اچھا رورگار اور رہائش حاصل کرنا جوئے شیر بہالانے کے متراف ہے۔ انہوں نے رداصلاحات کے علاوہ کچھ نہیں دیکھا۔ اصل بات یہ ہے کہ کتوتیاں بچت اور فلاحی ریاست ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔
9 ستمبر کو ہونے والے عام انکتخابات میں تعلیم ، روزگار ، صحت ، رہائش اور تارکین وطن بنیادی مسائل تھے۔ سویڈن کے عوام نے کسی بھی سیاسی جماعت یا اتحاد کو واضح اکثریت نہیں دی۔ وونرز کی طرف سے منقسم مینڈیٹ سامنے آیا ہے جس کے نتیجے میں معلق پارلیمنٹ
وجود میں آئی ہے دیاں اور بایاں بازو اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ انتخابات کے نتائج سے یہ تو واضح ہے کہ جو بھی اتحاد یا بلاک حکومت بنائے گا وہ مستحکم اور مضبوط حکومت نہیں ہو گی۔
دائیں اور بازو کے اتحادوں کو تقریباً برابر کے ووٹ ملے ہیں۔ سوشل ڈیموکریٹک پارٹی ، گرین پارٹی اور لیفٹ پارٹی کو 40 فیصد جبکہ ماڈریٹ پارٹی ، سنٹر پارٹی اور دیگر جھوٹی جماعتوں کے اتحاد کو بھی 40 فیصد ووٹ ملے ہیں۔ البتہ بائیں بازو کے اتحاد کو پارلیمنٹ میں 2 ووٹوں کی اکثریت حاصل ہے۔ انہوں نے 144 جبکہ دائیں بازو کے اتحاد نے 142 سیٹیں حاصل کی ہیں۔
انتہائی دائیں بازو کی قوم پرست اور نسل پرست سویڈن ڈیموکریٹ نے تیسری پوزیشن حاصل کی ہے۔ سویڈن ڈیموکریٹ کسی بھی اتحاد یا بلاک کا حصہ نہیں ہے۔ انتہائی دائیں بازو قوم پرستانہ نظریات اور خیالات رکھنے والی یہ جمامت یورپی یونین ، تارکین وطن اور اسٹیبلشمنٹ مخالف نعرے بازی اور پروگرام رکھتی ہے۔ 9 ستمبر کے انتخابات میں اصل کامیابی اسی قوم پرست اور نسل پرست جماعت کو حاصل ہوئی ہے جو کہ پارلیمنٹ میں تیسری بڑی جماعت کے طور پر ابھری ہے۔
یہ پیشن گوئی کرنا تو مشکل ہے کہ دائیں بازو کا اتحاد سویڈن ڈیموکریٹ کے ساتھ ملکر حکومت بنا پائے گا یا کہ نہیں مگر ایک بات بہت واضح ہے کہ پارلیمنٹ میں دائیں بازو کی جماعتوں کو اکثریت اور غلبہ حاصل ہے۔ اس وجہ سے اگر بائیں بازو کا اتحاد اپنی معمولی برتری کی بنیاد پر اپنی حکومت برقرار رکھنے میں کامیاب ہو گیا تو بھی اسے دائیں بازو کی اکثریت کا سامنا ہو گا اس حکومت کو قانون سازی ، بجٹ منظور کروانے اور دیگر اقدامات کو پارلیمنٹ سے منظور کروانے کے حوالے سے شدید مشکلات کا سامنا ہو گا۔ اسی حکومت کمزور ہو گی اور اسے حکمرانی کرنے کے لئے بہت ساری مصالحتیں اور مفاہمتیں کرنا پڑیں گی۔
الیکشن کے نتائج ان سب لوگوں کے لئے مایوسی کا باعث بنے ہیں جو کہ اتحاد کی اکثریت میں اضافہ دیکھنے کے خواہاں تھے اور ان کو امید تھی کہ اگر بائیں بازو کے اتحاد کو اکثریت ملی تو اس سے معاشی پالیسیوں میں تبدیلی آئے گی اور کٹوتیوں اور فلاحی ریاست پر حملے بند ہوں گے۔ مگر اب ایسا لگتا ہے کہ نج کاری ، کٹوتیاں ، بچت اور سماجی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر خرچ ہونے والی رقم میں مزید کمی آئے گی اور نیو لبرل پالیسیاں جاری رہیں گی۔
9 ستمبر کے عام انتخابات میں سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کو 1911 کے بعد سب سے کم ووٹ ملے ہیں۔ اسے محض 28.4 فیصد ووٹ ملے ہیں۔ ان کم ووٹوں کی وجہ اس جماعت کی دائیں بازو کی پالیسیاں ہیں۔ دراصل سویڈن کی فلاحی ریاست قائم کرنے اور بعد میں اس کے خاتمے کا آغاز کرنے والی جماعت سوشل ڈیموکریٹک پارٹی ہی تھی۔ انہی پالیسیوں کی وجہ سے سویڈن کی سب سے بڑی اور طاقتور جماعت آبادی کے کئی حصوں میں غیر مقبول ہو گئی ہے۔
دائیں بازو کی جماعتوں کو بھی تاریخ کا سودرا سب سے کم ووٹ ملا ہے۔ دائیں بازو کی سب سے بڑی جماعت ماڈریٹ پارٹی کو 19.8 فیصد ملے ہیں جو کہ گزشتہ عام انتخابات سے 3 فیصد کم ہیں جبکہ انتہائی دائیں بازو کی قوم پرست جماعت سویڈن ڈیموکریٹ کے ووٹوں میں 5 فیصد اضافہ ہوا ہے۔اس کی یورپین اسٹیبلشمنٹ اور مہاجرین مخالف نعرے بازی اور سیاست کی وجہ سے محنت کش طبقے کے ایک حصے کا بھی ووٹ ملا ہے۔ اگر نئی حکومت نے نیو لبرل معاشی پالیسیاں جاری رکھیں اور فلاحی ریاست پر حملے جاری رہے تو اس کا سب سے زیادہ سویڈن ڈیموکریٹک پارٹی کو ہو گا۔ سویڈن کے عام انتخابات میں اس قسم کے رجحانات سامنے آئے ہیں جو کہ کئی یورپی ممالک جرمنی ، فرانس ، ہالینڈ اور اٹلی میں سامنے آئے تھے۔
ایک طرف تو انتہائی دائیں بازو کے تخت گیر قوم پرستانہ اور نسل پرستانہ قوتیں اپنی حمایت میں اضافہ کر رہی ہیں اور بڑی سیاسی قوت بن کر ابھر رہی ہیں۔ دوسری طرف دائیں اور بائیں بازو کی روایتی جماعت اپنی مقبولیت اور حمایت کھو رہی ہیں۔ صرف برطانیہ وہ واحد ملک ہے جہاں لیبر پارٹی کی مقبولیت اور حمایت میں اضافہ ہوا۔ خاص طور پر یورپ کی سوشل ڈیموکریٹک جماعتیں بحران کا شکار ہیں ان کی حمایت میں مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے۔
سویڈن کی فلاحی ریاست ایک مخصوص عہد کی پیداوار ہے۔ یہ ایک خاص عہد تھا۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد سرمایہ داری نظام کے عروج نے حکمران طبقے کو اس قابل بنا دیا کہ وہ محنت کش طبقے کو بڑے پیمانے پر سہولیات اور مراعات فراہم کر سکے۔ اسی کی بنیاد پر سویڈن کا مشہور زمانہ فلاحی ریاست کا نمونہ سامنے آیا۔ جس نے سویڈن کو انتہائی پرکشش ملک بنا دیا۔ مگر گزشتہ 30 سالوں میں سب کچھ تبدیل ہو چکا ہے ۔
اب سرمایہ داروں کو نہ تو سوویت یونین کا خطرہ ہے اور نہ ہی وہ محنت کش طبقے کی طاقت سے خائف ہیں۔ 1950ء اور 1960ء کی دہائی میں ہونے والی اصلاحات دراصل محنت کش طبقے کی جدوجہد اور طاقتور تحریک کا نتیجہ تھیں۔ اب یہ دونوں خطرے موجود نہیں رہے اور نہ ہی سرمایہ داری کا وہ عروج رہا۔ اس کا ہرگز مطلب یہ نہیں کہ آج کی سرمایہ داری اور سرمایہ دار طبقہ منافع نہیں کما رہے یا ان کی دولت میں اضافہ نہیں ہو رہا بلکہ اس کے برعکس ان کی دولت اور منافع دونوں بڑھ رہے ہیں مگر یہ اب اس دولت اور منافعوں کو محنت کش عوام کسے شیئر نہیں کر رہے۔ یہ منافعوں کا ایک مناسب حصہ لوگوں پر خرچ نہیں کر رہے جس کی وجہ سے غربت ، افلاس ، بھوک اور طبقاتی تفریق بڑھ رہی ہے۔ آج کے عہد میں دولت کی تقسیم بہت زیادہ غیر منصفانہ ہو گئی ہے۔ استحصال بڑھ گیا ہے۔ اس صورت حال کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔


ای پیپر