پولیس میں مداخلت ختم کرنے سے پہلے ضروری اقدامات
16 ستمبر 2018 2018-09-16



اگر حقیقی امن مقصود ہے توپولیس کو اِس اہل بنانا ہوگا کہ وہ صرف اپنے فرائض کی ادائیگی تک محدود رہے جب قانون شکن عناصر کی سرکوبی کے ساتھ جی حضوری اور وی آئی پی نقل وحرکت کا بوجھ بھی ڈال دیا جائے گا اور تعیناتیاں سفارش پر ہوں گی تو لا محالہ پولیس بھی فرائض پر بااختیار حکومتی شخصیات کی خوشنودی کو فوقیت دے گی اور حکومتی احکامات پر اپوزیشن کی سرکوبی میں سُرعت کا مظاہرہ کرے گی یوں ماڈل ٹاؤن جیسے قتلِ عام بھی ہوتے رہیں گے اور چھوٹوگینگ جیسے امن دشمن عناصر کی گرفتاری کے دوران پولیس اہلکار یرغمال بنتے رہیں گے عمران خان اگر پولیس کو سیاسی مداخلت سے پاک کرنا چاہتے ہیں تو اُنھیں ایسا ماحول بھی بنانا ہوگا جہاں پولیس دہشت کی علامت نہ ہو بلکہ لوگ پولیس کی موجودگی میں تحفظ محسوس کریں ایسا طریقہ کار طے کرنا ہوگا کہ اگر کوئی پولیس اہلکار قانون شکنی کرتا ہے تو کڑے احتساب سے بچ نہ پائے۔
خیبر پختوننخواہ میں پولیس میں مداخلت کے خاتمے کا تجربہ اِس لیے کامیاب ہوا ہے کہ وہاں آبادی کم اور تعلیم کی شرح بہتر ہے اور عام جرائم مثلاََ چوری،ڈکیتی ،قبضے جیسے واقعات پنجاب کی بہ نسبت بہت کم ہے وجہ اسلحے کی بہتات ہے جہاں تک قتل و غارت کی بات ہے تو یہ تلخ حقیقت ہے کہ اجتماعی قتلوں کی وارداتیں آج بھی ہو رہی ہیں وجہ یہ ہے کہ کے پی کے میں اسلحہ کی فراوانی ہے اسی لیے چوریاں اور ڈکیتیاں کم ہوتی ہیں اِس میں پولیس کو سیاسی مداخلت سے پاک کرنے کا کوئی عمل دخل نہیں البتہ گاڑی چوری کی واداتیں عام ہیں جن کی برامدگی نہ ہونے کے برابر ہے اکثر مدعی کو یہ کہہ کر مطمئن کر دیا جاتا ہے کہ آپ کی گاڑی افغانستان اسمگل ہوگئی ہے لیکن باوجود کوشش کے پولیس نہ تو ناجائز اسلحہ پر قابو پا سکی ہے اور نہ ہی اجتماعی قتلوں کے واقعات میں کمی لا سکی ہے کے پی کے کا پنجاب سے موازنہ کیا جائے تو پختون پنجابیوں سے زیادہ باشعور ہیں یہی وجہ ہے کہ انھوں نے متحدہ مجلسِ عمل اور عوامی نیشنل پارٹی کی لوٹ مار برداشت کرنے کی بجائے نفرت کا مظاہرہ کیا لیکن تحریکِ انصاف نے حکومتی معاملات میں شفافیت دکھائی ،جنگلات بڑھائے،آئمہ اکرام کے وظائف کا اجرا کیا تو عام پختون نے دوسری بار حکومت کے لائق جانا جسے
پولیس کو سیاسی مداخلت سے پاک کرنے کے اقدامات کا نتیجہ قرار دینا کسی طور درست نہیں ناصر درانی کی موجودگی کے باوجود کے پی کے میں رشوت کا بازار بددستور گرم ہے جس کا مطلب ہے جب تک محاسبے کا طریقہ کار نہیں بنایا جاتا پولیس کو بے لگام کرنا ایسے ہی ہے جیسے خونخوار جانور کو انسانی آبادی میں کُھلا چھوڑ دیا جائے ۔
کسی مظلوم کی مدد کرنا کوئی گناہ نہیں اصل مسلہ یہ ہے کہ پولیس کو زاتی اغراض کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے شہباز شریف نے پولیس کو عوام دوست بنانے کی بجائے خوف و دہشت کی علامت بنایا جس کی بنا پر عام آدمی کے دل میں پولیس سے نفرت پروان چڑھی سیاسی مخالفین کو پولیس سے بے عزت کرانا اور پھر وفاداریاں تبدیل کرنے کا آپشن دینے سے اپوزیشن کے اراکین توڑنے میں تو کامیابی مل گئی لیکن نوازشریف کی آمد پر وہی پولیس ائرپورٹ جانے والے استقبالی جلوسوں پر بھوکے جانوروں کی طرح حملہ آور ہوتی رہی پٹائی کے عجیب وغریب مناظر دیکھنے کو ملے اب بھی مداخلت سے پولیس کو پاک کرنا ہے تو پہلے بداخلاق پولیس کو اخلاق سکھانا ہو گا تربیت کرنا ہو گی تخواہوں کو بہتر بنانا ہوگا کام کے اوقات مقرر کرنا ہونگے فرائض کی ادائیگی سہل بنانا ہوگی مجرموں سے نمٹنے کے لیے ضروری وسائل دینا ہوں گے ناصر درانی جیسا شخص دفتر میں بیٹھ کر منصوبے تو بنا سکتا ہے تجاویزدے سکتا ہے لیکن یاد رکھیں زمینی حقائق کے متضاد خیالی قلعے تعمیر کرنے سے مثبت تبدیلی کا خواب تعبیر نہیں پا سکتا۔
پنجاب پولیس میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو دشمنیوں کو ہوا دے کر کمائی کرتے ہیں ایک فریق سے پیسے لیکر مخالف فریق کے پولیس مقابلے میں بندے مارے جاتے ہیں عمر ورک، رائے ضمیرالحق،عابد باکسر ،رانا شاہد،رائے اعجاز جیسے لوگ اِس حوالے سے خاصے بدنام ہیں جبکہ سہیل ظفر چٹھہ نے جعلی پولیس مقابلوں میں سینکڑوں افراد قتل کیے ہیں خود تو امریکہ پڑھائی کے بہانے جا کر چھپ گیا ہے مگر مقتولین کے دائر کردہ کیسوں کی آج بھی انسپکٹر اور تفتیشی پیشیاں بھگت رہے ہیں لیکن بے گناہوں کے خون سے ہاتھ رنگنے والا آرام سے زندگی انجوائے کررہا ہے میاں نواز شریف کی اسلام آباد سے جی ٹی روڈ کے زریعے لاہور آمد کے دوران لالہ موسٰی میں گاڑی کے نیچے ایک بچہ جاں بحق ہوگیا تو سہیل ظفر چٹھہ نے نامعلوم آفراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی جس پرشہباز شریف نے ملک چھوڑنے کا حکم دیا اب موصوف تعلیم کا بہانہ کرکے چھٹیوں پر ہیں سیاسی مداخلت سے پاک کرنے کا پنجاب میں یہ نتیجہ ہوگا کہ پولیس بے خوف ہو کر مظلوموں ،بے گناہوں اور شرفا کے خون سے ہاتھ رنگے گی کیونکہ اُ سے کسی بازپُرس کا کوئی خوف نہیں ہوگا اب تو کوئی مظلوم کسی سیاسی سے فریاد کرکے کچھ داد رسی پا لیتا ہے لیکن موجودہ حکومت کی پالیسی سے وہ فریاد سے بھی محروم ہوجائے گا اور پولیس کے رحم وکرم پر رہ جائے گا۔
پولیس کے موجودہ اور سابق افسروں میں 45 سے زائد ارب پتی ہونے کی داستان طشت ازبام ہو چکی ہے حیران کن امر یہ ہے کہ اُن میں 4پولیس انسپکٹر رینک کے بھی ہیں جو پولیس ملازمت سے قبل مڈل کلاس سے بھی نیچے تھے لیکن پولیس میں آمد سے ہی جانے کون سا قارون کا خزانہ ہاتھ لگ گیا ہے کہ وہ عالی شان محلوں کے مالک بن گئے ہیں کئی کاروباروں میں حسہ دار ہیں اِتنا پیسہ ہاتھ لگ گیا ہے کہ وہ بیرونِ ملک اکاوئنٹس رکھنے پر مجبور ہیں ایرانی تیل کی اسمگلنگ کی سرپرستی عیاں حقیقت ہے سندھ میں ایرانی تیل کامافیا اور ڈیلر پولیس کو کہا جاتا ہے موجودہ حکومت نے پنجاب پولیس کو سیاسی مداخلت سے پاک کیا تو یہ انسانوں کو خونخوار جانور کے سامنے بے دست و پا کرنے کے مترادف ہو گا۔
سیاسی مداخلت سے پولیس کو پاک کرنا وقت کی ضرورت ہے لیکن پولیس کو فرائض کا پابند کرنا اُس سے بھی زیادہ اہم ہے کرپشن کی وجہ سے یہ انصاف کی راہ میں رکاوٹ ہے اور دشمنیوں کے فروغ کا بڑا سبب بھی ۔علاوہ ازیں بے گناہوں کو مجرم بنانا اور ملوث کو بے قصور ثابت کرنا پولیس کے بائیں ہاتھ کا کام ہے حیران کن امر یہ ہے کہ بے قصور افراد سے پیسے لے کے اُنھی پر برامدگی بھی ڈال دی جاتی ہے اگر کسی سیاسی کو بے قصور کی دادرسی کرنے سے بھی روک دیا جائے گا تب جس کی لاٹھی اُس کی بھینس کا محاورہ قانون بن جائے گا اور ناصر درانی جیسا ایک شخص دفتر میں بیٹھ کر پولیس کے زریعے ملنے والی رپورٹس سے حکام کا جی بہلاتا رہے گا ۔


ای پیپر