چیف جسٹس ،ڈیم کے مخالفین اور مقدمہ
16 ستمبر 2018 2018-09-16



حقیقت سامنے آچکی ہے اور سی پیک کے حوالے سے مغربی میڈیا اور حکومت مخالف مبصرین اور تجزیہ کاروں کا بے بنیاد پرپیگنڈا زائل ہو چکا ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان میں چینی سفارت خانے کے ڈپٹی مشن آف چیف ڑا لی جیان نے کہا ہے کہ سی پیک منصوبے کے خلاف بین لاقوامی میڈیا کی خبریں من گھڑت ہیں۔ساہیوال کول پاور پلانٹ کے دورے کے موقع پر پاکستانی میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڑا لی جیان نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت پاکستان میں توانائی کے بحران کے خاتمے کیلئے اقدامات کا سلسلہ جاری ہے۔ سی پیک پر پورے زور و شور سے کام جاری ہے۔ توانائی، انفر اسٹرکچر، گوادر اور ملک میں اقتصادی زونز پر کام ہو رہا ہے۔ توانائی کے منصوبوں کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔ پورٹ قاسم کے بعد اب ساہیوال کول فائبر پاور پلانٹ سے قومی گرڈ کو 1320میگاواٹ بجلی فراہم کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا یہ ایک ورلڈ ریکارڈ منصوبہ ہے جسے چینی اور پاکستانی انجینئرز نے 22 مہینوں میں مکمل کیا، اس پلانٹ میں 1200 افراد جس میں 600 چینی اور600پاکستانی برسر روزگار ہیں، اس کی لاگت 1.8ارب ڈالر ہے۔ادھر بتایا جا رہا ہے کہ پاکستانی معیشت کو بجلی بحران کے باعث سالانہ 5.8 ارب ڈالر نقصان کا سامنا ہے جو مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے 2.6 فیصد کے مساوی ہے۔ عالمی بینک کی ’’الیکٹریفیکیشن اینڈ ہاؤس ہولڈ ویلفیئر‘‘ ریسرچ رپورٹ کے مطابق پاکستان کو توانائی کے شعبہ میں بنیادی اصلاحات کی ضرورت ہے تاکہ توانائی کی ترسیل اور تقسیم کے مسائل پر قابو پایا جا سکے جس سے ڈسٹری بیوشن کے نقصانات پر قابو پایا جا سکتا ہے اور صارفین کے لئے توانائی کی قیمت اور ادائیگی کے مسائل کو بھی ختم کیا جا سکے گا۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 97.5 فیصد ا?بادی کو بجلی کی سہولت دستیاب ہے جس میں 99.7 فیصد شہری جبکہ 95.6 فیصد دیہی ا?بادی شامل ہے۔ عالمی بینک کی تحقیق کے مطابق بجلی کی بلا تعطل فراہمی اور اس کی تقسیم و ترسیل کے نقصانات پر قابو پا کر قومی معیشت کو سالانہ تقریبا 6 ارب ڈالر کے نقصانات سے تحفظ فراہم کیا جا سکتا ہے۔
کل وزیر اعظم عمران خان ایک روزہ دورے پر کراچی پہنچے ، گورنر سندھ عمران اسماعیل اور وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ایئرپورٹ پر ان کا استقبال کیا۔عمران خان کراچی ایئر پورٹ سے بذریعہ ہیلی کاپٹر مزار قائد روانہ ہوئے جہاں پر انہوں نے مزار قائد پر حاضری دی اور محترمہ فاطمہ جناح اور لیاقت علی خان کی قبروں پر فاتحہ خوانی کی۔وزیر اعظم اپنے دورہ کراچی میں امن و امان اور وفاق کے تعاون سے جاری منصوبوں سے متعلق اجلاسوں کی صدارت بھی کی۔عمران خان وزارتِ عظمیٰ سنبھالنے کے ا بعد کل اتوار کو پہلی بار کراچی کے ایک روزہ دورے پر آئے ہیں۔ عام آدمی کھلی آنکھوں سے تبدیلی کے مناظر اور مظاہر دیکھ رہا ہے اور خوشی کا اظہار کر رہا ہے ،سوائے ماضی کی حکمران جماعتوں کے قصیدہ نگاورں کے ۔یاد رہے کہ حکومت کی کفایت شعاری مہم کے تحت جہاں وزیراعظم و گورنر ہاؤسز کے اخراجات میں کمی لائی جارہی ہے وہیں انہیں عوام کے لیے بھی کھولنے کا سلسلہ جاری ہے۔گورنر ہاؤس سندھ اور گورنر ہاؤس مری کے بعد کل گورنر ہاؤس پنجاب کو بھی عوام کے لیے کھو ل دیا گیا۔ کل مقررہ وقت سے پہلے ہی لوگوں کی بڑی تعداد گورنر ہاؤس کے باہر جمع ہونا شروع ہو ئے جنہیں 10 بجتے ہی گورنر ہاؤس کے کشمیر روڈ کے گیٹ سے اندر جانے کی اجازت دی گئی۔گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے گورنر ہاؤس آنے والے افراد کی چند تصاویر بھی شیئر کیں اور کہا کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ گورنر پنجاب نے عوام کے لیے گورنر ہاؤس کے دروازے کھولے۔وزیر صنعت پنجاب میاں اسلم اقبال نے گورنر ہاؤس کی سیر کو آنے والوں کو خوش آمدید کہا اور کہا کہ وزیراعظم عمران خان کے وعدے کے مطابق گورنر ہاؤس عوام کے لیے کھول دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ گورنر ہاؤس کی سیر شہریوں کے لیے ایک خوشگوار احساس ہے، اسی طرح حکومت کے 100 روزہ ایجنڈے پر تیزی سے عمل درآمد جاری ہے۔گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور کے اعلان کے مطابق عوام اپنے اہل خانہ کے ہمراہ ہر اتوار صبح 10 بجے سے شام 6 بجے تک گورنر ہاؤس کی سیر کر سکیں گے، صوبائی وزرا اور اراکین اسمبلی گورنر ہاؤس آمد پر شہریوں کا استقبال کریں گے۔گورنر پنجاب کے مطابق گورنر ہاؤس کا چڑیا گھر اور پارک بھی شہریوں کی اچھی تفریح کا باعث بنے گا۔
عروس ا لبلاد کراچی میں اسی وجہ سے وزیر اعظم عمران خان کی آمد پر روایت کے برعکس تمام اجلاس گورنر ہا ؤس کے بجائے سٹیٹ گیسٹ ہا ؤس میں ہو ئے۔ کیونکہ سندھ کا گورنر ہاؤس عوام کے لیے کھلا تھا۔واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے سندھ کے گورنر ہاؤس کے پارک کو عوام کے لیے کھولا گیا تھا جس کے بعد شہری مقرر کردہ اوقات میں پارک کا دورہ کررہے ہیں۔وزیر اعظم کی زیر صدارت وفاق کے تعاون سے کراچی میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر اجلاس ہو ا جس میں گرین لائن بس منصوبے، فراہمی آب کے منصوبے کے فور اور کراچی پیکیج پر بریفنگ دی گئی۔اس موقع پر وزیر اعظم کی زیر صدارت امن و امان سے متعلق اجلاس بھی اجلاس ہوا جس میں گورنر اور وزیر اعلیٰ سندھ سمیت کور کمانڈر کراچی، ڈی جی رینجرز اور ا آ ئی جی سندھ بنے شرکت کی۔وزیر اعظم اٹیٹ گیسٹ ہا ؤس میں پودا لگانے کے علاوہ تاجروں، نمایاں شخصیات اور صحافیوں کے وفود سے بھی الگ الگ ملاقاتیں کیں۔
عوام’’ عوامی چیف جسٹس ‘‘ کے اس بفیصلے پر خوش ہیں کہ ڈیم روکنے کی کوشش پر غداری کا مقدمہ بنے گا۔ عوام سمجھتے ہیں کہ ڈیم کی مخالفت کرنے والے عناصر پاکستان کے مستقبل کی شہ رگ کاٹنا چاہتے ہیں اور ملک دشمن ہیں۔ ایسے ملک دشمنوں کو بفولادی ہاتھوں سے نبٹنے کا وقت آگیا ہے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار بدو ٹوک الفاظ میں انتباہ کرچکے ہیں کہ ’ملک میں ڈیمز کی تعمیر پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، جو لوگ اس کی مخالفت کر رہے ہیں وہ کسی اور ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں‘۔ بدھ کو چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے ڈوڈوچا ڈیم تعمیر کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ’ ایک سیاست دان نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کو علیحدہ سیاسی جماعت بنالینی چاہیے، انہیں یہ مشورہ دینے کی ضرورت نہیں تھی، سیاست کرنی ہے تو کہیں اور جاکر کریں، ڈیم کے مخالفین کو آخری وارننگ دے رہے ہیں، یہ سیاسی نہیں بنیادی حقوق کے مقدمات ہیں، جو عدالت کو بدنام کریں گے انہیں ایسے نہیں جانے دیں گے، جو پاکستان میں ڈیم نہیں دیکھنا چاہتے ان کا ایجنڈا پورا نہ کریں،یہ کسی اور کا ایجنڈا ہے کہ پاکستان میں ڈیمز تعمیر نہ ہوں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ دیامر بھاشا اور مہمند ڈیم فنڈ کا نام تبدیل نہیں کرنے دے گی۔ ڈیم فنڈ کی ضامن سپریم کورٹ ہے فنڈ پر کسی کو قبضے کی اجازت نہیں دیں گے۔


ای پیپر