آل پارٹیز حریت کانفرنس کے اجلاس کی تجاویز
16 ستمبر 2018 2018-09-16



مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے کپواڑہ، سوپور اور ریاسی (جموں) میں بدترین دہشت گردی جاری رکھتے ہوئے 8مزید کشمیری نوجوانوں کو شہید کیا ہے جس پرپورے کشمیر میں زبردست احتجاج کیا جارہا ہے۔جموں ریجن میں نام نہاد سرچ آپریشن کے دوران بھارتی فورسز نے ڈرون کا بھی استعمال کیا اور تین بے گناہ شہریوں کو گولیاں ما رکر شہید کر دیاگیا۔ایک طرف بھارتی فورسز اہلکارکشمیریوں کے گھروں کو بارود سے تباہ کر رہے ہیں۔ قیمتی سامان کی توڑ پھوڑ ، ان کے باغات اور املاک کو برباد کیاجارہا ہے تو دوسری جانب نہتے کشمیری اگر سڑکوں پر نکل کر بھارتی دہشت گردی کیخلاف آواز بلند کرتے ہیں تو انہیں پیلٹ گن کے چھروں، فائرنگ، لاٹھی چارج اور آنسو گیس کی شیلنگ سے وحشیانہ ظلم و بربریت کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔بیسیوں نوجوان ایسے ہیں جنہیں بھارتی فوج پر پتھراؤ کے الزام میں گرفتار کر کے مختلف تھانوں او رٹارچر سیلوں میں بند رکھا گیا ہے اور انہیں رہا نہیں کیا جارہا۔جموں کشمیر مسلم لیگ کے سربراہ مسرت عالم بٹ اور دیگر کشمیری لیڈروں پر بار بار پی ایس اے ایکٹ لاگو کر کے انہیں نئے سرے سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھیج دیا جاتا ہے‘ کوئی انہیں پوچھنے والا اور غاصب بھارت کا ہاتھ روکنے والا نہیں ہے۔ بھارتی ایجنسیوں کی سرپرستی میں ہندوستانی فوج نے نئی منصوبہ بندی کے تحت مقامی کشمیری لیڈروں کے قتل کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ اس مقصد کے تحت سی آر پی ایف، پولیس اور ایس پی اوز کو استعمال کیا جارہا ہے۔ چند دن قبل حریت لیڈر حکیم الرحمن سلطانی کو بھی اسی طرح ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا۔ بھارتی فورسز نے کشمیریوں کے دلوں میں نفرت پیدا کرنے کیلئے ان کے قتل میں کشمیری مجاہدین کو ملوث قرار دیا لیکن حقیقت یہ ہے کہ پوری کشمیری قوم بھارتی سازشوں کو بخوبی سمجھتی ہے اور کسی دھوکہ میں آنے والی نہیں ہے۔ حریت کانفرنس کے قائدین اور دیگر کشمیری تنظیموں نے حکیم الرحمن سلطانی کے قتل کی شدید مذمت کی اور اس دہشت گردی میں واضح طو رپر بھارتی فوج کو ملوث قرار دیا ہے۔ انہوں نے اس بات کا بھی خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بھارتی ایجنسیوں نے بیسیوں افراد کی ایک لسٹ مرتب کی ہے جنہیں آنیو الے دنوں میں نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔
قابض فوج کو اس وقت کشمیر میں سب سے زیادہ تکلیف اس بات کی ہے کہ آج اس جنت ارضی کے ہر گلی محلہ میں پاکستانی پرچم لہرا تے دکھائی دیتے ہیں اورپی ایچ ڈی ڈاکٹرز، انجینئرز اور دیگر شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ تحریک آزادی کا حصہ بن رہے ہیں۔ اس صورتحال نے بھارتی ایجنسیوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور بھارتی حکام کی راتوں کی نیندیں حرام کر رکھی ہیں۔ وہ کشمیریوں کو تحریک آزادی سے بد دل کرنے کیلئے نت نئے حربے اختیار کر رہے ہیں۔ رات کی تاریکی میں کشمیریوں کے گھروں پر چھاپے مارے جاتے ہیں اورسرگرم کشمیری نوجوان اگر گھروں میں نہ ملیں تو ان کے بھائیوں، والدین اور دیگر اہل خانہ کو زبردستی اپنے ساتھ لیجاکر ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ جب سے بھارتی فورسز نے نام نہاد پنچایت انتخابات کا اعلان کیا ہے اس کے بعد سے ہزاروں کی تعداد میں فورسز اہلکار مزید تعینات کئے گئے ہیں جنہوں وادی کشمیر کے حساس علاقوں میں ظلم و دہشت گردی کا ایک نیا بازار گرم کر رکھا ہے۔ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب نہتے کشمیریوں کو شہید نہ کیا جاتا ہو۔ کشمیری لیڈروں کو جھوٹے مقدمات میں گرفتار کر کے جیلوں میں ڈالنے کی طرح صحافیوں کو بھی خاص طو رپر ہدف بنا لیا گیا ہے۔ پہلے معروف صحافی شجاعت بخاری کو قتل کیا گیا‘ عاقب جاوید نامی صحافی کو گرفتار کیا گیا اور اب آصف سلطان کو حراست میں لے کر عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے۔ مودی سرکار چاہتی ہے کہ کشمیریوں کی اصل اور حقیقی آواز دنیا تک نہ پہنچ سکے۔ آصف سلطان کا جرم یہ بتایا گیا ہے کہ انہوں نے ’’کشمیر نریٹر‘‘ نامی انگریزی میگزین میں برہان وانی کی شہادت سے متعلق ایک مضمون لکھا او رمقامی نوجوانوں کو بھارت کیخلاف بھڑکانے کی کوشش کی جس پر انہیں گرفتارکیا گیاہے۔ ریاستی انتظامیہ نے مذکورہ میگزین کے مدیر کا ٹویٹر اکاؤنٹ بھی بند کر دیا ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ ریاست میں صحافیوں کو کس قدر مشکلات کا سامنا ہے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل نے درست کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں صحافیوں کو ایک نئی قسم کی پابندیوں کا سامنا ہے اور ان کی آواز کو خاموش کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔بھارتی فوج کشمیر میں ظلم و دہشت گردی کا ہر حربہ آزما رہی ہے۔ وسیع پیمانے پر کشمیریوں کی رہائش گاہوں اورمکانات کی ضبطی کے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ معصوم بچوں اور بچیوں کو پیلٹ گن کے چھروں کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور تحریک آزادی کیخلاف بے بنیاد پروپیگنڈہ کر کے اس کی حیثیت مسخ کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ اس وقت جس طرح کشمیر میں سازشیں عروج پر ہیں اسی طرح ان کے مقابلہ کیلئے بین الاقوامی سطح پر بھرپور آواز بلند کرنے اور بھارتی ریاستی دہشت گردی کو بے نقاب کرنے کی ضرورت ہے۔اسی ضرورت و اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے حریت کانفرنس آزاد کشمیرشاخ کے رہنماؤں کا ایک طویل اجلاس ہوا ہے جس میں کشمیر کی موجودہ صورتحال اور تحریک آزادی کیخلاف ہونیو الی سازشوں کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ آل پارٹیز حریت کانفرنس کے کنوینر غلام محمد صفی کا کہنا تھا کہ قومی آزادی کی تحریکوں میں بیانیہ بہت اہمیت کا حامل ہوتا ہے چنانچہ کشمیری قیادت ایک مؤثر، مضبوط اور مدلل بیانیے کے ساتھ باشندگان ریاست کی نمائندگی اپنا فرض سمجھتی ہے۔ قومی و بین الاقوامی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ریاست میں دائمی امن کی خاطر ہمارا قومی بیانیہ حق خودارادیت کا حصول ہے۔ ہم اقوام متحدہ کے منشور، کشمیرسے متعلق اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل کرنے اورجدوجہدآزادی کی کامیابی کیلئے مذاکراتی عمل میں کشمیریوں کی شمولیت ضروری سمجھتے ہیں۔ کشمیر میں نام نہاد انتخابات کا انعقاد کسی صورت رائے شماری کا نعم البدل نہیں ہے۔ کشمیر کی بدلتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر حکومت پاکستان کو چاہیے کہ وہ بھارتی فوج کی طرف سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال، پیلٹ گن کے چھروں سے معصوم نوجوانوں کی بینائی چھیننے اور قتل و غارت گری کیخلاف مضبوط آواز بلند کرے۔ بھارت جس منظم انداز میں کشمیریوں کے معاشی وسائل، سیاحت، زراعت، میوہ صنعت ، جنگلات اور معدنیا ت کو تباہ کر کے کشمیریوں کی معیشت بربادکر رہا ہے۔ اس کے سدباب کیلئے حکومت پاکستان کی جانب سے کوئی کاوشیں دکھائی نہیں دیتیں۔ میں سمجھتاہوں کہ حریت رہنما غلام محمد صفی کی سب باتیں درست ہیں۔ تحریک آزادی کیخلاف بھارت کی تمام سیاسی و عسکری قیادت، میڈیا، عدالتیں، سول سوسائٹی اور دیگر شعبہ جات کے مابین اشتراک عمل پایا جاتا ہے جبکہ پاکستانی حکمرانوں میں اس کا ہمیشہ فقدان رہا ہے۔ وزیر اعظم پاکستان عمران خان کو واضح طور پر اپنی ’’قومی کشمیرپالیسی‘‘ کا اعلان کرنا چاہیے جسے پارلیمنٹ سے منظور کروایا جائے تاکہ مستقبل میں کوئی اس پالیسی سے انحراف نہ کر سکے۔ حریت کانفرنس آزادکشمیر کے رہنماؤں کے اجلاس میں تحریک آزادی کشمیر کے حوالہ سے ایک زبردست لائحہ عمل ترتیب دیا گیا اور تجاویز مرتب کی گئی ہیں۔ قبل ازیں مرد مجاہد پروفیسر حافظ محمد سعید نے بھی آل پارٹیز حریت کانفرنس کے رہنماؤں کے ہمراہ 2017ء کو کشمیر کا سال قرار دیتے ہوئے پاکستانی حکمرانوں کے دل و دماغ کو جھنجھوڑنے کی کوشش کی تھی۔ میں سمجھتا ہوں کہ پاکستانی حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ حریت رہنماؤں کو اعتماد میں لیں اور ان کی مرتب کردہ تجاویز کو مدنظر رکھتے ہوئے جدوجہد آزادی کشمیر سے متعلق بروقت اور مضبوط فیصلے کریں۔ بانی پاکستان محمد علی جناح نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا اور پاکستان کی بقا، ترقی اور استحکام کیلئے کشمیر پر سے بھارت کا غاصبانہ قبضہ چھڑانا بہت ضروری ہے۔ اس کے بغیر وطن عزیز پاکستان کی تکمیل ممکن نہیں ہے۔


ای پیپر