پنجاب میں وزیر اعظم کے100 روزہ منصوبہ پر عمل درآمد
16 ستمبر 2018 2018-09-16



وزیراعظم عمران خان کے 100روزہ پلان پر عملدر آمد کے حوالے سے وزیر اعلیٰ سردار عثمان بزدار مطمئن ہیں کہ پنجاب اس پروگرام میں سبقت لے گا۔نئے پاکستان کی منزل کے حصول کیلئے شب و روز ایک کر دیں گے۔ 100 روزہ پلان میں ہسپتالوں کی ایمرجنسی میں بہتری، مفت ادویات کی فراہمی اورصحت انصاف کارڈ کا اجراء شامل ہے۔ کے پی کے کی طرز پر پنجاب پولیس میں اصلاحات کیلئے ضروری اقدامات کررہے ہیں۔ ہر پاکستانی کو صاف پانی کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے جامع روڈمیپ دیا جائے گا۔ اسی طرح بے روزگار افراد کو روزگار کی فراہمی، فنی تعلیم کا فروغ، بے گھر افراد کیلئے چھت اور پسماندہ علاقوں کی ترقی ہماری ترجیحات میں اولین ہیں۔
پنجاب حکومت کے 100روزہ ایجنڈا میں گڈگورننس، پنجاب کو مضبوط بنانا، معیشت، زراعت اور پانی، سماجی خدمات اورقومی سلامتی کے امورجیسے اہم نکات شامل ہیں جبکہ لوکل گورنمنٹ کے سسٹم میں اصلاحات،تعلیم اورصحت میں بہتری، آبی قلت دور کرنا اورروزگار کے مواقع پیدا کرنے جیسے اقدامات پر عملدرآمدممکن بنایا جا رہا ہے۔
پنجاب میں گورننس، میرٹ، شفافیت، کفایت شعاری اورسادگی اپنا نے کیلئے کفایت شعاری کے فروغ اور غیر ضروری اخراجات میں کمی لانے کیلئے کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔جنوبی پنجاب میں انتظامی بنیادوں پر صوبے کے قیام کا وعدہ پورا کرنے کے لئے ورکنگ گروپ بنا دیا گیا ہے۔ کاشتکاروں کی خوشحالی کے لئے پیداواری استعداد کار بڑھانے کیلئے زرعی اصلاحات لانے اور ایگریکلچرمارکیٹنگ اور لائیوسٹاک کلچر میں تبدیلی لانے کا ارادہ ہے جس سے کسان کے دن بدلیں گے۔
وزیراعظم کے 100 روز ہ پلان میں سب کے لئے صاف پانی کی فراہمی بھی شامل ہے۔ پنجاب میں اور خصوصاً جنوبی پنجاب میں صاف پانی کی شدید قلت ہے۔ حکومتی ترجیحات میں ہر فرد کیلئے پینے کے صاف پانی کی فراہمی اولین ہے جس کیلئے ہنگامی بنیادوں پر کام شروع کر دیا گیا ہے۔ماضی میں پینے کی صاف پانی کی فراہمی کے نعرے لگائے گئے اور اربوں روپے ضائع کئے گئے ۔ ان کا حاصل یہ ہے کہ آج صاف پانی کمپنیاں کے کیسز نیب میں چل رہے ہیں۔ اقربا پروری اور کرپشن سے اپنے من پسند افراد کو بڑے بڑے عہدے دے کر نوازا گیا اور ان کو لاکھوں روپے ماہانہ تنخواہ کی مد میں دیئے گئے۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پانی بھی نہیں ملا اور خزانہ بھی خالی ہوگیا۔
صحت کے شعبے میں بھی پنجاب حکومت انقلاب لا رہی ہے۔ ہسپتالوں کی کمی، جو ہیں ان کی حالت زار، دوائیوں کی عدم فراہمی ، ادویات کی قیمتیں غرض اس شعبے میں بھی انقلابی اقداما ت کی ضرورت ہے۔ عوام کو صحت کی یکساں اور جدید ترین سہولت کی فراہمی پنجاب حکومت کے منشور میں سرفہرست ہے۔ پہلے مرحلے میں 3 نکات پر فوری عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا جن میں ایمرجنسی میں میسر سہولتوں میں بہتری، مفت ادویات کی فراہمی اور انصاف صحت کارڈ کا اجراء شامل ہیں۔
عثمان بزدار اور ان کے وزرا ایک ٹیم ورک کے طورپر کام کر رہے ہیں۔ بیوروکریٹس اور محکموں کے اعلیٰ افسران بھی ان کے ہم قدم ہیں۔ مختلف محکموں کے سیکرٹریز اور خاص طور پر چیف سیکرٹری پنجاب اکبر حسین درانی کا شمار محب وطن اور دن رات کام کرنے والے افراد میں ہوتا ہے۔ دراصل چیف سیکرٹری ہی صوبے کا منتظم ہوتا ہے جس نے تمام محکموں کو حکومتی احکامات کے مطابق چلانا ہوتا ہے۔ اکبرحسین درانی کی محنت اور بلوچستان میں کام کرنے کا تجربہ ان کے بہت کام آرہا ہے۔ ان کو چاہیے کہ وہ مختلف محکموں کے افسران کو اپنے ساتھ لے کر چلیں۔ عام آدمی کی افسران بالا تک بآسانی رسائی حکومت کا وژن ہے۔ اس کو بہتر انداز میں چلانے کیلئے ٹیم ورک کی ضرورت ہے۔ زیادہ تر محکموں کے سیکرٹریز اپنے دفاتر میں ہر وقت بلا روک ٹوک ہر سائل سے ملتے ہیں اور ان کے مسائل کے حل کیلئے فوری احکامات جاری کر رہے ہیں۔ لیکن ابھی بھی چند ایک سیکرٹریز ایسے ہیں جن پر موجودہ حکومت کے احکامات کا کچھ زیادہ اثر نہیں ہوا۔ ان کو سابقہ حکمرانوں کی آشیر باد حاصل تھی لہذا ان کے مزاج بھی شاہانہ بن گئے۔ ایسے لوگ ابھی بھی سائل کو اپنے سے دور رکھنے کی کوشش کررہے ہیں۔ وقت پر دفتر نہیں آتے ۔ حکومتی احکامات سے ان کو کوئی خاص دلچسپی نہیں۔ چیف سیکرٹری کو چاہیے کہ ایسے سیکرٹریز صاحبان کو سرزنش کریں اور ان تک عوام کی رسائی ممکن بنائیں۔
شاہانہ مزاج ختم کرنے اور سادگی اپنانے کے فیصلے پر وزیر اطلاعات پنجاب فیض الحسن چوہان نے بالکل ٹھیک کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب اور وزیر اعظم کے دفتر میں اگلے پانچ سال کیلئے سادگی اپنائی جائے گی غیر ضروری اخراجات کو کم کیا جائے گا۔ پنجاب پولیس کو بھی غیر سیاسی کیا جائے گا جس کیلئے 30نومبر تک قانون سازی کر لی جائے گی۔
وزیر اعلیٰ پنجاب کو یہ امر بھی ملحوظ خاطر رکھنا ہے کہ 100روزہ پلان کی مدت کے10فیصد ایام پہلے ہی گز رچکے ہیں اور گھڑی کی سوئی تیزی سے بھاگ رہی ہے۔ پرانے فرسودہ طریقے کارجوماضی میں ناکام ثابت ہوچکے ہیں کو اپنانے کی بجائے قابل عمل طریقے سے چیلنجز سے نمٹنا ہے اورانتہائی تیزرفتاری کے ساتھ 100روزہ ایجنڈا پرعملدرآمد کرنا ہے۔
حکمران جماعت کو چاہیے کہ شفافیت اورقابل رسائی گڈگورننس کے وعدے کو مدنظر رکھتے ہوئے تبدیلی کے اس ایجنڈا کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے شب و روز کام کریں گے۔ 100 روزہ پلان کے ایجنڈہ کا جائزہ لینے کا ایسا طریقہ کار وضع کرنے اورپبلک ویب سائٹ کے قیام پر توجہ دی جائے جس کے ذریعے کوئی فرد 100 روزہ اقدامات پر عملدر آمدپر پیش رفت کا جائزہ لے سکے۔ حقیقت یہ ہے کہ نیا پاکستان بنانے کیلئے سب نے ایک ٹیم کے طو رپر کام کرنا ہے اور وزیراعظم عمران خان کے ایجنڈا کی تکمیل کرنی ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب اور دیگر افسران ہمہ وقت عوام کے لئے موجود ہوں۔ایک دوسرے کے دست وبازؤ بنیں اورپنجاب کو تبدیل کر کے دکھائیں۔ سب نے محنت کے ساتھ کام کرناہے اور اہداف کو حاصل کرنا ہے۔


ای پیپر