بجٹ پر نظر ثانی ؟
16 ستمبر 2018 2018-09-16



امریکہ نے کولیشن سپورٹ فنڈ میں صرف 300 ملین ڈالر روکا ہے۔ پاکستان کے غیر ملکی کرنسی ذخائر اس وقت 17 بلین ڈالرز ہیں۔ جون 2013 ء میں نوازشریف کی حکومت کے موقع پر غیر ملکی کرنسی ذخائر 6 بلین ڈالر تھے۔ قرضوں کی قسطیں اور سرکلر ڈیٹ ادا کرنے کے بعد اکتوبر 2013ء میں یہ ذخائر 3 بلین ڈالر رہ گئے تھے۔ سعودی عرب نے پاکستان کو ڈیفالٹ ہونے سے بچانے کے لیے نوازشریف کی ذاتی دوستی کے نام پر ڈیڑھ بلین ڈالر کا عطیہ کیا تھا۔ 2016ء میں ن لیگ حکومت نے آئی ایم ایف کو خدا حافظ کہہ دیا تھا۔ 28 جولائی 2017ء جب نواز شریف کو بر طرف کیا گیا۔ اس وقت پاکستان کے غیر ملکی کرنسی ذخائر 24 ارب ڈالر تھے۔ جون 2013ء میں پاکستان پر کل قرضہ 60 ارب ڈالر تھا۔ مئی 2018ء میں یہ قرضہ 90 ارب ڈالر تھا۔ یعنی پانچ سالوں میں اس میں 30 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا۔ جبکہ پاکستان کے غیر ملکی کرنسی ذخائر میں18 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا۔ ان پانچ سالوں میں سرکلر ڈیٹ اور پرانے قرضوں کی مد میں 72ارب ڈالر واپس کیے گئے۔ یہ 18 ارب ڈالر اگر واپس کر دیے جائیں تو ن لیگ حکومت کا لیا گیا قرض 12ارب ڈالر بچتا ہے۔ جو کہہ لیں۔ پرانے قرضوں کی شکل میں ادا ہو گیا۔ اس دوران پاکستان کا معاشی گروتھ ریٹ اڑھائی فیصد سے ساڑھے پانچ فیصد ہو گیا۔ سٹاک مارکیٹ انڈیکس اٹھارا ہزار سے 54 ہزار پر چلا گیا۔ سی پیک کی شکل میں سرمایہ کاری آئی۔ میگا پراجیکٹس لگے۔ بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ ختم ہوئی۔ موٹر ویز بنیں۔ نئی یونیورسٹیاں، نئے ائیر پورٹ اور بندر گاہیں تعمیر ہوئیں۔ بھاشا ڈیم کی زمین خریدی گئی۔ اسے ملکی وسائل سے بنانے کا پلان بنا۔ دفاعی بجٹ کو 700 ارب سے بڑھا کر 1200 ارب کیا گیا۔ 2000 ارب ترقیاتی فنڈ کے لیے مختص کیا گیا۔ 1600 ارب قرض ادا کرنے کے لیے مختص ہوا۔ سرکاری ملازمین کو ریلیف ملا۔ بجلی ، گیس اور پٹرول کی قیمتوں پر کنٹرول رکھا گیا۔ یعنی سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا۔ حالانکہ ملک میں دھرنے اور احتجاج جاری تھا۔ اپوزیشن، اسٹیبلشمنٹ، عدلیہ اور حکومت ایک پیج پر نہیں تھے۔
پھر کچھ دماغوں میں خوف پیدا ہوا۔ چنانچہ ملک کو سیاسی طور پر عدم استحکام کا شکار کیا گیا۔ الیکشن مینج کیے گئے۔ ایک ہی پیج کی حکومت لائی گئی۔ اس سیاسی افراتفری کے دوران ملک معاشی طور پر نیچے گیا۔ لیکن اتنا نہیں جتنا جون 2013ء میں ن لیگ حکومت کو ملا تھا۔ جیسا میں نے اوپر لکھا۔ اس وقت بھی 17 ارب ڈالر کے غیر ملکی کرنسی ذخائر ہیں۔ امریکہ نے صرف 300 ملین ڈالر کولیشن سپورٹ فنڈ میں روکے ہیں۔ لیکن حکومت آئی ایم ایف سے 12 ارب ڈالر کا بیل آوٹ پیکیج لینا چاہ رہی ہے۔ جو امریکہ کی رضامندی کے بغیر ملنے والا نہیں۔ امریکہ کی شرط سی پیک ہے۔ چناچہ آئی ایم ایف سے بیل آوٹ پیکیج لینے کے لیے سی پیک پر نظرثانی کا شوشہ چھوڑ دیا گیا ہے۔ سی پیک کے خلاف منفی پروپیگنڈہ شروع ہو چکا ہے۔ مزید کے طور پر یہ حکومت بجٹ پر نظرثانی کرنے جا رہی ہے۔ شنید ہے نئے ٹیکس اور اشیائے ضرورت کی قیمتیں بڑھا کر 800 ارب روپے اکھٹا کرنے کا پروگرام ہے۔ اس سے مہنگائی اور بے روزگاری کا سیلاب آ جاے گا۔ اور تحریک انصاف کی حکومت بے حد غیر مقبول ہو سکتی ہے۔ بھاشہ ڈیم کے لیے چندہ جمع کیا جا رھا ہے۔ سوال یہ ہے۔ پاکستان کی معاشی حالت غیر ملکی کرنسی ذخائر کے حوالے سے 2013ء سے بہت بہتر ہے۔ پھر آئی ایم ایف سے سے یہ 12 بلین ڈالرز کا بیل آوٹ پیکیج کیوں لیا جا رہا ہے۔ عام لوگوں کی جیب سے 800 ارب روپے کیوں نکالے جا رہے ہیں۔ قوم کو یہ کیوں نہیں بتایا جا رہا۔ ان پیسوں کی فوری طور پر کیا ضرورت ہے۔ اگر قرضوں کی قسطیں ادا کرنی ہیں تو بتایا جاے اگر دفاعی مقصد ہے تب بھی بتایا جاے۔ اگر اسلحے کی خریداری کرنی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خرچہ کرنا ہے۔ کوئی ترقیاتی کام شروع کرنے ہیں۔ تو بتایا جاے۔ اور سب سے بڑھ کر یہ بتایا جاے آپ کی مستقل معاشی و مالی پالیسیاں کیا ہیں؟ اور لوٹے ہوئے اربوں ڈالر کب واپس آ رہے ہیں۔ کم از کم اس پر کام کی رفتار کا ہی کچھ بتا دیں۔ آپ تو کہتے تھے۔ ہم قرض نہیں لیں گے۔ نئے ٹیکس دہندگان کے ذریعے 800 ارب مزید اکھٹا کریں گے۔ کرپشن پر قابو پا کر ریاست کی آمدن میں اضافہ کریں گے۔ لوٹی ہوئی دولت واپس لائیں گے۔ لیکن یہ آپ کیا کر رہے ہیں۔ 12 ارب ڈالر کا آئی ایم ایف سے بیل آوٹ پیکیج مانگ رہے ہیں۔ اس کے لیے سی پیک کو متنازع بنا رہے ہیں۔ نئے ٹیکس دہندگان میں اضافہ کرنے کی بجائے پرانے ٹیکس دہندگان کی جیب سے 800 ارب نکال رہے ہیں۔ اور یہ بھی نہیں بتا رہے۔ آپ نے یہ رقم کرنی کیا ہے ؟ یہ تو کوئی جواب نہیں۔ کہ یہ ملکی مفاد میں کیا جا رہا ہے۔ یا معاشی حالات خراب ہیں۔ یا پچھلی حکومت لوٹ کر لے گئی ہے۔ اب تو ماشااللہ اسٹیبلشمنٹ، حکومت اور عدلیہ بھی ایک پیج پر ہیں۔ اپوزیشن مری پڑی ہے۔ اب تو ملک دن دوگنا رات چوگنا ترقی کرنا چاہیے۔ غریبوں کو ریلیف ملنا چاہیے۔ ہم نے تو تمام حقائق اور اعدادو شمار بھی پیش کر دیے ہیں۔ پانچ سال آپ نے منفی اور جھوٹا نفرت انگیز پروپیگنڈہ جاری رکھا۔ وقت لیکن سچائی سامنے لے آتا ہے۔ اب جواب دہی کی آپ کی باری ہے۔ اب یہ نہیں کہنا۔ یہ جھوٹ ہے۔ بھیا چیک کر لو۔ تمام ڈیٹا انٹر نیٹ پر پڑا ہے۔ اگر پھر بھی یقین نہیں تو یہ بتاو جہاں آپ بیٹھے ہو۔ اگر وہاں کوئی دیوار ہے۔ تو کیا وہ دیوار نظر آ رہی ہے۔
اور ہاں بہتر تھا۔ بیگم کلثوم نواز کی موت کے اس المناک موقعے پر تم خاموش رہتے۔ تمہاری نفرت اور تمہاری ذہنی پسماندگی چھپی رہتی ۔ تمہارا بھرم قائم رہتا۔ بہت بہتر تھا۔ تم ایک لفظ ہمدردی کا بول دیتے۔ لیکن تمہاری نفرت اور تمہاری ذہنی پسماندگی اپنا اظہار کیے بغیر نہ رہ سکی۔ مجھے تم سے ہمدردی ہے۔ لیکن میں بے بس ہوں۔ اتنی شدید نفرت اور اتنی شدید ذہنی پسماندگی کا کوئی علاج نہیں۔ تم پڑھے لکھے ہو یا ان پڑھ ہو۔ جوان ہو یا بوڑھے ہو۔ تم آج بھی اپنے اندر کی اندھیری غار میں زندہ ہو۔ تم خوف اور نفرت اور انتقام اور حسد کا شکار ہو۔ تمہارا تہذیب اور شائستگی اور خوبصورت انسانی جذبات اور احساسات سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں۔ تمہاری ذہنی گروتھ رک چکی ہے۔ اور یہی وجہ ہے۔ تمہیں اپنی اس بدترین سچوئیش کا احساس بھی نہیں۔


ای پیپر