کلثوم نواز۔۔۔ایک بہادر اور مدبر خاتون
16 ستمبر 2018 2018-09-16



بیگم کلثوم نواز کو جاتی عمرہ میں سپرد خاک کردیا گیا ہے اور اس طرح پاکستانی سیاست کا ایک باب بھی۔ کلثوم نواز کی وفات پر بہت سارے کالم لکھے گئے ہیں اور بہت سارے لوگوں نے اپنے احساسات اور جذبات کا اظہار بھی کیا ہے ۔یہ بات بھی اپنی جگہ درست ہے کہ بہت سارے لوگ اس پر آئندہ بھی لکھیں گے۔ان کی شخصیت کے بہت سارے پہلوں پر روشنی ڈالی گئی ہے اور مزید بھی ڈالی جائے گی ۔
میں شروع میں ہی اس بات کا اعتراف کرتا ہوں کہ میں بیگم کلثوم نواز کو نہ ہی ذاتی طور پر جانتا ہوں اور نہ ہی مجھے کبھی ان سے ملنے کا اتفاق ہوا تھا ۔یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ انہوں نے لاہور ایف سی کالج میں تعلیم حاصل کی جہاں مخلوط نظام تعلیم تھا۔وہ میرے بہت ہی محترم استاد ڈاکڑ آغا سہیل کی شاگرد تھیں اور پھر ایم اے میں میرے بہت ہی پیارے دوست سہیل احمد خان کی شاگرد تھیں۔
ان کے خاندان والد اور نانا کے بارے میں بھی بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔ان کے تعلیمی اور خاندانی پس منظر سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ پچھلی صدی کی ساٹھ کی دہائی میں ایف سی کالج جیسے مشنری کالج میں لڑکوں کے ساتھ تعلیم (coeducation)نے ان کے ذہن پر مثبت اثرات چھوڑے۔
بہرحال میں انہیں پاکستانی تاریخ اور سیاست کے طالب علم کے طور پر جانتا اور پہچانتا ہوں۔
میاں محمد نواز شریف دو دفعہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ اور تین دفعہ پاکستان کے وزیر اعظم رہے مگر اس عرصہ میں محترمہ کلثوم صاحبہ نے کبھی بھی میڈیا میں آنے کی کوشش نہ کی۔
انہوں نے جنرل مشرف آمریت کے خلاف جو کردار ادا کیا اس سے انہوں نے پاکستانی تاریخ میں اپنا نام رقم کروا لیا۔مجھے یاد ہے جب جنرل مشرف کا رعب اور دبدبا بہت تھا تو اس کڑے وقت میں بیگم کلثوم نوازنے فوجی ڈکٹیڑ جنرل مشرف کے خلاف جلوسِ نکالا۔جب وہ اس وقت کی انتظامیہ کے کہنے پر نہ رکیں اور انتظامیہ کے کہنے پر اپنی کار سے اترنے پر تیار نہ ہوئیں تو کرین کے ساتھ ان کی کار کو اٹھا لیا گیا۔
انہوں نے نواز شریف اور دوسرے اہل خانہ کی رہائی کے لئے اور سعودی عرب ہجرت میں بھی بہت اہم کردار ادا کیا۔
جب خلائی مخلوق نے یہ طے کرلیا کہ ہر صورت میں نواز شریف سے چھٹکارا حاصل کرنا ہے اور نواز شریف کو سپریم کورٹ نے نااہل قرار دے کر قومی اسمبلی کی رکینیت سے فارغ کردیا تو نواز شریف کی خالی کی ہوئی نشست سے بیگم کلثوم نواز کو الیکشن لڑوایا گیا۔ان کو ہرانے کے لئے خلائی مخلوق نے ہر قسم کے حربے استعمال کئے مگر اس کے باوجود وہ کامیاب ہوئیں۔
اسی دوران ان کو اپنے علاج کے لئے لندن جانا پڑا جہاں کینیسر جیسے موذی مرض کی تشخیص ہوئی۔
ایک طرف لندن میں کلثوم نواز کا علاج ہورہا تھا تو دوسری طرف پاکستان میں میاں محمد نواز شریف ان کی بیٹی کلثوم نواز اور داماد کیپٹن صفدر کا احستاب عدالت میں مقدمہ چل رہا تھا۔جب بھی میاں محمد نواز شریف اور ان کی بیٹی نے عدالت سے باہر جانے اور پیشی سے استثا کی درخوست کی تو اسے مسترد کردیا گیا۔سوائے
ایک موقع کے۔
جب وہ لندن اپنی بیوی کی تیماداری کے لئے گئے ہوئے تھے تو ان کی غیر موجودگی پر انہیں احتساب عدالت نے قید کی سزا سنا دی۔
یہ بات ہم سب کو معلوم ہے کہ چند دن پہلے بیگم کلثوم نواز کا لندن میں انتقال ہوگیا جب کہ ان کے خاوند میاں محمد نواز شریف ان کی بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن صفدر اڈیالہ جیل میں قید کاٹ رہے تھے۔انہوں نے پیرول پر رہائی کی درخواست دینے سے انکار کردیا۔
مجھے یہ باتیں دہرانے سے دکھ ہوتا ہے مگر تاریخ کی درستگی کے لئے یہ بہت ضروری ہے ۔ہمےِں اس بات کا بلا خوف و تردید ذکر کرنا چاہئے کہ کہ خلائی مخلوق نے میاں محمد نواز شریف کو اپنے تےئیں پاکستان کا دشمن نمبر ایک بنا دیا تھا۔عوام میں نواز شریف کے خلاف ہر طرح کا جھوٹا اور زہریلا پراپیگنڈہ کیا گیا ان پر ہندوستانی ایجنٹ تک کا الزام لگایا گیا اور ان کے خلاف دوسری گھٹیا حرکتوں کے علاوہ یہ نعرہ بھی لگایا گیا کہ ’مودی کا جو یار ہے غدار ہے غدار ہے‘۔
جب میاں محمد نواز شریف کو ہر قیمت پر اقتدار سے الگ کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا تو پھر ان کے خاندان کو بھی نہیں بخشا گیا۔بے چاری کلثوم نواز کی خطرناک جان لیوا اور اذیت ناک بیماری کو بھی جھوٹ قرار دیا گیا۔
پراپیگنڈہ اتنا شدید اور موثر تھا کہ اس میں بہت سارے شرفا بھی بہک گئے اور انسانی اور اخلاقی طور پر بہت ہی نچلے درجے کے بیانات دے ڈالے۔
یہ ہماری قومی بدقسمتی ہے کہ ہم نے سیاسی اختلاف کو دشمنی کا رنگ دے دیا ہے اور اس کو لڑائی بنا کر بہت ہی گھٹیا سطح پر آگئے ہیں۔
جب نواز شریف ان کی بیٹی مریم اور داماد کیپٹن صفدر جیل میں تھے تو نئے پاکستان کی نئی کابینہ نے ان کے نام Exit Control Listپر ڈال دئیے یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ یہ کیوں کیا گیا۔ کیا کوئی جیل سے فرار ہو کر قانونی راستہ سے ملک سے فرار ہو سکتا ہے۔
یہ ساری حرکات خلائی مخلوق کے خلاف گئی ہیں جسے وہ اپنی کامیابی سمجھ رہے تھے وہ نواز شریف کی فتح میں بدل رہی ہے اور نواز شریف کا قد کاٹھ بڑھ رہا ہے۔
اس موقع پر پاکستان کی تاریخ میں ان عورتوں کا ذکر بھی بہت ضروری ہے جنہوں نے پاکستانی سیاست میں بہت اہم اور بنیادی کردار ادا کیا اور ایسے موقع پر عوام کو حوصلہ دیا اور قیادت فراہم کی جب مرد حضرات فوجی ڈکٹیٹروں کا مقابلہ کرنے سے گھبراتے تھے۔
ان سب میں سب سے پہلے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی بہن فاطمہ کا نام سب سے اوپر آتا ہے انہوں نے فوجی ڈکٹیٹر فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کو 1965کے صدارتی الیکشن میں چیلیج کیا۔
اس کے بعد میں سمجھتا ہوں کہ بیگم نسیم ولی خان نے بھٹو دور میں سیاست میں بہت ہی اہم کردار ادا کیا ۔یہ وہ وقت تھا جب بھٹو نے ولی خان اور نیشنل عوامی پارٹی کو غیر قانونی قرار دے کر ان کے خلاف غداری کا مقدمہ چلا یا۔فوجی ڈکٹیٹر جنرل محمد ضیاالحق کے خلاف محترمہ نصرت بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو کی قربانیوں کو سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔بے نظیر کو تو راولپنڈی میں قتل کر دیا گیا۔اس کے علاوہ پاکستان کی ان گنت ’گمنام خواتین سپاہیوں‘ کو بھی نہیں بھولنا چاہئے جن کی قربانیوں سے آج پاکستان میں جمہوریت کی شمع روشن ہے۔
ٓاچھی بات یہ ہے کہ ساری سیاسی جماعتیں بیگم کلثوم نواز کے جنازے میں شامل ہوئیں اور نواز شریف اور ان کے اہل خاندان سے اظہار تعزیت کیا۔
کیا ہی اچھا ہوتا اگر ساری سیاسی جماعتیں خلائی مخلوق کے مکروہ کھیل کے سامنے ڈٹ جاتیں اور پاکستانی سیاست کو تنزلی سے بچا لیتیں۔
آخر میں قارین کی توجہ پاکستان ٹیلی وزن کے نئے بورڈ آف گورنرز کی طرف جلانا چاہتا ہوں جس میں ملک کی تاریخ میں پہلی بار ڈی جی ISPRکو بھی شامل کیا گیا ہے۔اس کے بعد پاکستان میں آنے والے وقت اور حالات پر کسی کو شبہ نہیں ہونا چاہئے۔


ای پیپر