خاں صا حب کی حکو مت کے گزرتے دن
16 ستمبر 2018 2018-09-16



وہ آ واز پہلے سے سنا ئی دے رہی تھی کہ خزا نہ خا لی ہے ، مگر ، یہ شور نہیں سنا ئی دیا کہ ہم آ تے ساتھ کشکو ل اٹھا ئیں گے اور ملکو ں ملکوں جا ئیں گے ، کچھ عجیب ہو رہا ہے ، ایسے ہی ہو نا چا ہیے تھا ، پہلے عوام کی آ واز ان کی ڈیما نڈ کو خا طر میں لا یا گیا ، کچھ اقدا ما ت سا منے لا ئے گے ہیں ، با قی فلم چلتی ہی رہے گی ، جن کا بس نہیں چل رہا ان کے لیے شا عر نے کہا تھا ،،
یہ ارتقا کا چلن ہے کہ ہر زما نے میں
پر انے لو گ نئے آ دمی سے ڈرتے ہیں
اب بحث اس طر ح کی چل رہی ہے کہ ، جیسے جیسے خاں صا حب کو شر وا نی پہنے دن گز ر رہے ہیں تو ملک میں تبد یلی کتنی آ چکی ہے ، کچھ خاص طبقہ تو بس یہ چا ہتا ہے کہ وہ رات سو ئے پرا نے نظام ، کر پشن کے ما حول میں ، قتل غا رت ، دہشت گر دی ، بے روز گا ری ، رشو ت کا با زار گر م ، اور صبح جب ان کی آ نکھ کھلے تو ان کے کمر ے کے با ہر کھڑ کی سے ان کو دیکھنے کو ملے کے با ہر دودھ کی نہر یں ، امن ، ہر نو جوان روزگار پر ہو ، رشو ت کا نا م و نشان مٹ چکا ہو ، دشت گر د اپنے گولے با رد کر اچی کے سمندر میں پھنک کر ایران کا با ڈر کر اس کر چکے ہو ں، قا ضی ان کے گھر کے سا منے آ واز یں لگا رہے ہوں کہ آ پ کو کو ئی قا نونی مسلہ تو ہم آ پ کو یہاں ہی انصا ف فر اہم کر تے ہیں ، ایسی اور بھی بہت سی خواہشات ، جن کا ذکر نہ بھی کر ئیں ، ان کی بحث سے لگتا ہے کہ یہ یہی چا ہتے ہیں ۔
ایک طبقہ ایسا ہے ، جو صر ف یہ چا ہتا ہے کہ ملک میں بہت سے مسا ئل ہیں ،ان کو حل کر نے کے لیے صرف چند دن درکا ر نہیں ہیں ، بلکے وقت لگے گا ،مکمل حکمت عملی تر تیب دینی پڑ ئے گی ، اچھی پا لیسی ہی مسا ئل
سے نمٹنے کے لیے ضر وری ہے ، ایک دم نہیں ، مگر تبد یلی نظر آ نی چا ہیے اور نظر آ ئے کہ ملک میں اب تمام ادارے پہلے سے بہتر کا م کر رہے ہیں ، خا کسا ر کی سو چ بھی ایسی ہی ، اور مجھ سمت با قی عوام بھی یہی چا ہتی ہے کہ مو جو دہ حکو مت صرف عوام کو دکھا نے کے لیے بڑ ے بڑ ے پر وجیکٹ نہ شر وع کر ئے جس سے بعد میں معلوم پڑ ئے کے ان کو چلا نے کے لیے حکومت اتنی سبسڈی دے کر پر وجیکٹ کو چلا رہی ہے اور ان کے لیے اربو ں کے قر ضے لیے جا رہے ہیں ، ما ضی میں ایسے بہت با ر کیا گیا ہے ، جس کا ذکر مو جو دہ وزیر اطلاعا ت چو پد ری صا حب نے فگر بتا ئے کہ کس پر وجیکٹ کو جا ری رکھنے کے لیے کتنے قرضے لیے گے اور اب سبسڈ ی بھی حکو مت کو مجبو ری میں دینا پڑ ئے گی ، چو ہد ری صا حب نے بتا یا کہ وہ ڈیلی کو کتنا سو د لیے ہو ئے قر ضوں پر ادا کر رہے ہیں تو جو فگر چو ہد ری صا حب نے تبا ئے اس میں پو رے ایک ارب روپے کا فر ق ہے ان میں اور جو ڈیلی سو د ادا کیا جا رہا ہے ان قر ضوں پر جو فگر خاں صا حب نے بتا ئے ، تو ایک ارب روپے کو بہت معمولی سمجھ کو بول دینا ، یہ طر ز تو ما ضی کی حکو متیں کر تی آ ئی ہیں ، اب کی حکومت تبد یلی کے نعرے پر آ ئی ہے تو امید کر تے ہیں ،کہ اس طر ح کی با توں کو سختی سے نو ٹس لیا جا ئے اور انتہا ء کی احتیا ط بر تی جا ئے ، کیونکہ بہت سے معاملا ت ما ضی میں اقتدار والے عا م عوام کو نہیں بتا تی تھی ، اور عام عوام تک وہی پہنچا یا جا تا تھا جس سے عوام کی ہمد ردی حا صل کی جا سکے ۔
خاں صا حب کے گز رتے دنوں کو بہت اہمیت دی جا رہی ہے ، کیو نکہ عوام بھی تو قع کر رہی ہے کہ تبد یلی نظر آ ئے ، اور اپو زیش والے اس تا ک میں ہیں کہ کب ان کو لوز پو ائنٹ ملے اور یہ سیا ست کر سکیں ، ایک شخص کو ممبر رکھا جا ئے یا نہیں جب اس ایشو پر سو شل میڈ یا میں بہت شور مچا توخا ں صا حب اس ایشو پر ڈٹے نہیں رہے اور وہ قدم اٹھا یا جس کی زیا دہ عوام تو قع کر رہی تھی ، اپو ز یشن والے منہ تکتے رہ گئے ، محتر م کلثو م نواز کی وفا ت کے بعد یہ ما حول بنے جا رہا تھا کہ نواز شر یف کو جیل سے آ نے نہیں دیا جا ئے گا تو ان کے پا س سیا سی نعر ہ بن جا ئے گا کہ خاں صا حب نے انسانی ہمد ردی بھی نہیں دکھا ئی ، یہ معا ملہ بھی اچھے سے گز ر گیا ، خاں صا حب کا فیصلہ بہت اچھا ، کہتے ہیں دشمن مر ئے تے خو شی نہیں کر ئیں ،،
ادھر خاں صا حب کی ٹیم کے وز یر خز انہ صاحب سب پر بھا ری نظر آ رہے ہیں ، بہت احتیا ط کی جا رہی ہے ،ان کے ایک کھلا ڑی بہت ہی عہد ہ انداز سے رات کے اندھیروں میں تھا نوں میں جا کر پو لیس والوں سے ان کے مسا ئل سن رہے ہیں اور سا تھ وہاں جو پر یشان عوام مو جو د ان سے بھی پو لیس کو رویا پو چھا گیا ، اور عمل میں پو لیس کی تضحیک نہیں کی گئی ، اور ان کو یہ احسا س نہیں دلا یا گیا کہ ہم نے ایسے چھا پے مار کر یہ نہیں ثا بت کر نے آ ئے ہیں کہ آ پ پر پریشر ڈالا جا ئے ، وہاں مو جو د پو لیس کی نفری ایک دم دوڑ میں نہیں لگ گئی کہ کو ئی بڑا صا حب آ گیا تو اب صو رت حال کو کیسے ہنڈ ل کیا جا ئے ۔
خاں صا حب فل فو کس کر رہے ہیں کہ عوام کو شعو ر دیں کہ یہ ملک جو مسا ئل کا شکا ر ہے اس کی بڑ ی وجہ کر پش ہے اور کر پٹ لو گ ہیں ، جیسے ڈیلی اتنا سو د دیا جا رہا ہے اگر یہی قر ضے ہم نے نہ لیے ہو تے تو ہم پر سو د کا بو جھ نہ ہو تا ، عوام بھی اسی طر ح کے خیالات کو پسند کر رہی ہے ، اپو زیشن والے انتہا ء کے پر یشان ہیں کہ خاں صا حب اتنے دن گز رنے کے بعد کو ئی سیاسی وار کر نے کے لیے کو ئی چا نس نہیں دے رہے ، ابھی تک خاں صا حب اور ان ک ٹیم بہت سمجھداری کے سا تھ معا ملا ت کو چلا رہے ہیں ، کچھ کمی ہے تو وزیر اطلاعا ت چو ہد ری صا حب کی جا نب سے ، کسی کو اعتر اض تو ان کی آ خری پر یس کا نفر نس سن لی جا ئے ۔ وہ آ واز پہلے سے سنا ئی دے رہی تھی کہ خزا نہ خا لی ہے ، مگر ، یہ شور نہیں سنا ئی دیا کہ ہم آ تے ساتھ کشکو ل اٹھا ئیں گے اور ملکو ں ملکوں جا ئیں گے ، کچھ عجیب ہو رہا ہے ، ایسے ہی ہو نا چا ہیے تھا ، پہلے عوام کی آ واز ان کی ڈیما نڈ کو خا طر میں لا یا گیا ، کچھ اقدا ما ت سا منے لا ئے گے ہیں ، با قی فلم چلتی ہی رہے گی ، جن کا بس نہیں چل رہا ان کے لیے شا عر نے کہا تھا ،،
یہ ارتقا کا چلن ہے کہ ہر زما نے میں
پر انے لو گ نئے آ دمی سے ڈرتے ہیں


ای پیپر