عقل اورٹھوکریں
16 ستمبر 2018 2018-09-16



یہ محاورہ توزبان زدعام ہے کہ عقل بادام کھانے سے نہیں، ٹھوکریں کھانے سے آتی ہے۔یہ محاورہ بھی آپ نے سناہوگاکہ سونابھٹی میں تپ جانے کے بعدہی کندن بنتاہے۔
ان دومحاروں کاخلاصہ یہ ہے کہ انسان ہمیشہ تلخ وشیریں تجربات سے گزرنے کے بعدہی اس قابل ہوتاہے کہ وہ اپنے معاملات، کرداروافعال اورملنے جلنے میں صحیح طریقہ اوربرتاؤاختیارکرے، اچھے سلیقے اورطریقے سے کام اورمعاملے کی انجام دہی کوعقل استعمال کرناکہتے ہیں۔
ایک عام انسان جب تجربات کی بھٹی میں جلتاہے توپھرجل جانے کے بعدجوانسان برآمدہوتاہے، وہ ایک عام انسان نہیں بلکہ ایک عقلمند انسان ہوتاہے جسے لوگ اپنارہنماگردانتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ تاریخ کے معروف حکیم لقمان سے کسی نے پوچھا کہ آپ اس قدرعقلمندہیں، آپ نے یہ عقلمندی کہاں سے سیکھی؟حکیم لقمان کہنے لگے:
میں نے یہ عقلمندی بیوقوفوں سے سیکھی ہے۔
سوال پوچھنے والا بڑا حیران ہوااورکہنے لگا:
یہ کیسے ہوسکتاہے کہ ایک انسان خود بے وقوف ہواوردوسروں میں عقل بانٹتا پھرے؟
حکیم لقمان کہنے لگے:
میں ہراس کام سے بچتا ہوں جو کام بے وقوف کرتے ہیں، یوں لوگ مجھے عقلمندکہتے ہیں۔
مدعایہ ہے کہ جولوگ خودتوتجربات سے گزرکرعقل نہیں سیکھتے مگروہ تجربہ کارلوگوں کی رہنمائی میں چلتے ہیں توایسے لوگ بھی عقل مندہی کہلاتے ہیں اگرچہ وہ بادام نہ بھی کھائیں۔
حدیث رسول ﷺ کے مفہوم کے مطابق بہترین انسان وہ ہے جودوسروں کی غلطیوں سے سیکھے۔ لیکن کچھ لوگ اس قدرڈھیٹ ہوتے ہیں کہ وہ اس وقت تک نہیں سمجھتے جب تک وہ خودآگ میں ہاتھ نہ ڈالیں۔ میراایک دوست ہے جو دور طالب علمی سے ہی اس بات پریقین رکھتا تھا کہ پڑھائی اورمحنت سے زیادہ اس بات پرزوردیاجائے کہ زیادہ سے زیادہ دوست کیسے بنائے جائیں اور لوگوں سے تعلقات کیسے استوارکیے جائیں۔ہم ہوسٹل میں رہتے تھے، اس لئے ہمیں جیب خرچ بھی خوب ملتا تھا، میرے اس دوست کوتوہرہفتے اچھا خاصہ جیب خرچ ملتاتھا، وہ گھر سے لائے ہوئے سارے پیسے اپنے دوستوں پراس نیت سے خرچ کرتاکہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد میرے دوست میراساتھ دیں گے۔وہ اپنے ہرملنے والے کی شادی اوردعوتوں پربے دریغ خرچ کرتا۔ اس کاایک ایسادوست بھی تھاجوان تجربات سے گزرچکاتھا اوراسے ہروقت سمجھاتاکہ یہ لوگ ضرورت پڑنے پرکبھی کام نہیںآتے بلکہ یہی وہ لوگ ہوتے ہیں جوہمیں اس چیزکاطعنہ دیتے ہیں کہ تم بے کارقسم کے انسان ہو جونہ خداکاہوسکتاہے اورنہ ہی صنم کا۔اس لئے ہمیشہ اپنے آپ کواس قابل بناؤکہ لوگوں کو تمہاری ضرورت ہونہ کہ تمہیں لوگوں کی۔
مگراس کی یہ رٹ تھی کہ وہ آگ میں ہاتھ ڈالنے کے بعدہی یقین کرے گاکہ آگ سچ مچ جلا کر راکھ بنادیتی ہے۔ اور پھر ایسا ہی ہوا اس نے آگ میں ہاتھ ڈالااورآج تک زخموں کے مندمل ہونے کی نہ صرف دعائیں کرتاہے بلکہ لوگوں سے التجائیں بھی کرتا ہے۔ فراغتِ تعلیم کے بعداس نے اپنے سب سے عزیز دوستوں (جواس کے نزدیک عزیز تھے ) سے رابطہ کیاکہ وہ کہیں کام دھندا کرنا چاہتا ہے مگرسب نے اسے منہ توڑجواب دیا، یہاں تک کہ ایک دوست نے توصاف صاف کہہ دیاکہ میرے پاس تمہارے لئے کوئی جگہ نہیں ہے، حالانکہ ایساجواب دینے والایہ وہی دوست تھاجس کے بارے میں اس کا گمان تھاکہ یہ میری بات کبھی بھی نہیں ٹالے گا۔
انسان کوہمیشہ دوسروں کے تجربات سے فائدہ اٹھاکراپنے آپ کوعقل مندثابت کرناچاہیے نہ کہ خودتلخ تجربات کی بھینٹ چڑھے۔لازم نہیں کہ انسان ٹھوکریں کھا کرہی عقل جیساملکہ حاصل کرے بلکہ انسان کو دوسروں160سے بھی عبرت حاصل کرے۔انسان کو ہر قدم سوچ سمجھ کراوردوسروں سے مشاورت کے بعد ہی اٹھانا چاہئے، خودکوکبھی بھی پھنے خاں نہیں سمجھنا چاہیے۔ دنیا ایسے نادان لوگوں سے بھری پڑی ہے کہ جن کے سامنے سب کچھ ہوتاہے مگروہ کبھی بھی اس حادثے اورواقعے سے سبق حاصل نہیں کرتے، بے وقوف لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ دنیامیں وہی عقل مند ہیں اور یہ ہرکام تجربے کے بعدکرنے کی کوشش کرتے ہیں، جس کانتیجہ یہ ہوتاہے کہ وہ نقصان درنقصان اٹھاتے ہیں، ایسے لوگوں کی ایک اوربڑی گندی خصلت یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے نقصان کے ذمہ داردوسرے لوگوں کو ٹھہراتے ہیں160۔
عقل سے عاری لوگوں کی ایک اوربات بتاؤں اگر غصہ نہ کریں تو،چلیں بتاہی دیتاہوں۔یہ ہمیشہ اس دوست کوبراسمجھیں160گے جواسے اچھااوربراسمجھانے کی کوشش کرتاہے، ایسے لوگوں کے نزدیک بہترین دوست وہ ہوتاہے جوانہیں ہروہ کام کرنے میں مدددے جوکام یہ کرناچاہتے ہیں اگرچہ وہ ناجائزہی کیوں نہ ہو۔ امید ہے عقل اورٹھوکروں والی کہاوت کی سمجھ آگئی ہوگی، اگر نہیں آئی توٹھوکریں کھاکے دیکھ لیں۔



ای پیپر