فوٹوبشکریہ فیس بک

چیف جسٹس کا ڈاکٹرز ہسپتال کی انتظامیہ کو طبی اخراجات پر نظرثانی کرنے کا حکم
16 ستمبر 2018 (13:47) 2018-09-16

لاہور: چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے ڈاکٹرز ہسپتال کی انتظامیہ کی طبی اخراجات پر نظر ثانی کا حکم دیدیا ہے۔

ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں پرائیوٹ ہسپتالوں میں مہنگے علاج کے خلاف کیس چیف جسٹس کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی۔ اس موقع پر ڈاکٹرز ہسپتال کے چیف ایگزیکٹو آفیسرغضنفر علی شاہ عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ لوگوں کو آپ سے شکایات ہیں آپ مہنگا علاج کرتے ہیں، پی ایم ڈی سی نے علاج کے جو ریٹ طے کیے اس سے زیادہ کوئی وصول نہیں کرے گا، ڈاکٹر صاحب آپ لوگوں کی خدمت نہیں کرسکتے تو ہسپتال بند کر دیں، جس پر سی ای او ڈاکٹرز ہسپتال کا کہنا تھا کہ آپ کی مرضی ہے تو بند کر دیتے ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ عدالتی حکم کے باوجود اضافی پیسے کیسے وصول کرسکتے ہیں، آپ مریضوں سے ایک لاکھ روپے وصول کرتے ہیں، آپ کو دل کے سٹنٹ ڈالنے کے لئے ایک لاکھ روپے تک وصول کرنے کا حکم دیا تھا، ایک مریض کا 30 دن کا بل آپ نے 40 لاکھ روپے بنا دیا، غریبوں کو بھی اچھا علاج کروانے دیں۔

جس پر سپریم کورٹ نے ڈاکٹرز ہسپتال انتظامیہ کو طبی اخراجات پر نظرثانی کرنے کا حکم دے دیا۔ ڈی جی ایل ڈی اے نے عدالت میں موقف اپنایا کہ ڈاکٹرز ہسپتال نے تجاوزات قائم کر رکھی ہیں، ایک کینال کے پلاٹ پر ڈاکٹرز ہسپتال کمرشل سرگرمیاں کر رہے ہیں جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ نظر ثانی کریں اپنے فیصلوں پر ورنہ عدالت فیصلہ کرے گی۔

 

 

 

 

 

 

 


ای پیپر