این آر او دینا، سمجھوتا کرنا آسان، مگر یہ تباہی کا راستہ ہے: وزیراعظم عمران خان
16 اکتوبر 2020 (12:00) 2020-10-16

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ یہ آسان راستہ ہے جس سے زندگی آسان ہو جائے گی، ہم بھی پارلیمنٹ میں آرام سے تقریریں کریں گے اور باقی 3 سال بھی گزر جائیں گے۔ بہتری کا راستہ ہمیشہ آسان نہیں ہوتا، مشکل فیصلے ہی آپ کو آگے لے جاتے ہیں۔

تفصیل کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سارے ڈاکو اور چور اکٹھے ہو جاتے ہیں کہ ان کو معاف کر دو اور این آر او دے کر سمجھوتہ کرلو، یہ آسان راستہ ہے جس سے زندگی آسان ہو جائے گی اور ہم بھی پارلیمنٹ میں آرام سے تقریریں کریں گے اور باقی 3 سال بھی گزر جائیں گے۔ این آر او دینا اور سمجھوتا کرنا آسان تو ہے مگر تباہی کا راستہ ہے، بہتری کا راستہ ہمیشہ آسان نہیں ہوتا اور مشکل فیصلے ہی آپ کو آگے لے جاتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جس ملک میں تجارتی خسارہ 40 ارب ڈالر ہو تو اس سے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر پر اثر پڑے گا۔ جب ذخائر کم ہوں گے تو روپیہ گرنا شروع ہو جائے گا اور روپیہ گرے گا تو مہنگائی آئے گی۔ ملک درست سمت کی جانب گامزن ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں نیشل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم عمران نے کہا کہ میں اپنی خوشی کا اظہار کرنا چاہتا ہوں کہ دسمبر میں میرے آنے کے بعد سے اب تک نسٹ نے بہت اہم اور بنیادی چیز پیدا کی۔

انہوں نے کہا کہ دنیا اور پاکستان میں سب سے زیادہ لوگ امراض قلب سے مرتے ہیں اور بدقسمتی سے یہ بہت مہنگا علاج ہے۔ آپ نے مقامی سطح پر سٹنٹس تیار کیے ہیں جس میں قیمتوں میں بہت بڑا فرق ہے جس سے ہمارا غیر ملکی زرمبادلہ بچایا اور ہمیں زیادہ سے زیادہ غریب مریضوں کے علاج کا موقع دیا جو خوش آئند چیز ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ سوچ ہے، تبدیلی پہلے ذہن میں آتی ہے پھر زمین پر آتی ہے۔ میں نے گزشتہ دو سالوں میں ہمارا مائنڈ سیٹ دیکھا ہے اور ہماری حکومت جس طرح کام کرتی ہے اس میں کسی طرح کا کنیکشن نہیں، پاکستان نے جانا کس طرف ہے، حکومت کا کیا کردار ہے، حکومتی اداروں کے آپس میں کیا رابطے ہونے چاہیں، یہ سب فریکچر ہو چکا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ جو قوم اپنا ویژن طے کرتی ہے کہ ہمیں جانا کہاں ہے، وہ وژن ہی دھندلا ہو چکا ہے، وہ واضح نہیں ہے اور جب وہ واضح نہ ہو تو حکومت کے اداروں کو بھی میں بھی یہ وضاحت نہیں رہتی۔

عمران خان نے کہا کہ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ہے کہ کبھی بھی کوئی ملک آگے بڑھ ہی نہیں سکتا جس کی درآمدات برآمدات سے زیادہ ہوں، جب دو سال قبل ہم نے حکومت سنبھالی تو 60 ارب ڈالر کی درآمدات تھیں اور 20 ارب ڈالر برآمدات تھیں اور وہ بھی 25ارب ڈالر سے ہو کر آئی تھی یینی پہلے سے کم ہو گئی، ایسے دنیا میں کوئی ملک ترقی نہیں کر سکتا جب آپ کے ملک سے ڈالر زیادہ بڑی تعداد میں باہر جا رہے ہوں اور ملک میں کم ڈالرز آ رہے ہوں تو ملک کبھی خوشحال نہیں ہو سکتا۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ ہر تھوڑی دیر بعد ہمیں آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑتا ہے کیونکہ ہمارے پاس ڈالر کی کمی ہو جاتی ہے، ہمارے ذخائر ختم ہو جاتے ہیں جس ملک میں تجارتی خسارہ 40 ارب ڈالر ہو تو اس سے غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر پر اثر پڑے گا، جب ذخائر کم ہوں گے تو روپیہ گرنا شروع ہو جائے گا اور روپیہ گرے گا تو مہنگائی آئے گی۔

ان کا کہنا تھا چین نے ایکسپورٹ کو بڑھایا ان کا ملک ترقی کرتا گیا، ترکی کو بھی آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑتا ہے، اردوان نے ترکی کو تبدیل کر دیا، انہوں نے ایکسپورٹ بڑھائی، اردوان نے کہا ہماری 3 ترجیحات ہیں برآمدات، برآمدات اور برآمدات۔ وزیراعظم نے کہا پاکستان ایک غلط سمت میں نکلا ہوا ہے، ایک ملک کاٹن فروخت کر کے ترقی نہیں کرسکتا، کوئی ملک ملائیشیا کی طرح صرف ربڑ اور ٹین بیچ کر ترقی نہیں کر سکتا، سرمایہ کاری نہیں ہوگی تو ملک آگے کیسے بڑھے گا، پاکستان کا سب سے بڑا اثاثہ تارکین وطن ہیں، اوورسیز پاکستانی ملک کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم مائنڈ سیٹ بدلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایسا ماحول بنانا ہوگا کہ اوورسیز پاکستانی واپس آئیں۔ عمران خان کا کہنا تھا اللہ نے انسان کو علم دیا ہے، علم طاقت ہوتی ہے، سپورٹس میں انسان جدوجہد کرنا سیکھتا ہے، کسی ملک کیلئے ایشین ٹائیگر بننا کوئی وژن نہیں ہونا چاہیے، کیا آپ ایشین ٹائیگر بننا چاہتے ہیں؟ پیسہ بنانا بہت چھوٹا وژن ہے، اپنی سوچ چھوٹی نہ رکھیں، پیسہ بنانا سب سے چھوٹی سوچ ہے، ہم سمجھتے ہیں پیسہ ہوگا تو خوشی ملے گی، ہم اپنی صلاحیتوں کو سمجھ نہیں پاتے، خوشی تب آتی ہے جب روح خوش ہوتی ہے، خوشی اللہ تعالیٰ کے بتائے راستوں سے جڑی ہے، شوکت خانم کا دروازہ جب پہلی بار کھلا تو مجھے بے انتہا خوشی ہوئی۔

ان کا کہنا تھا کہ 60 کی دہائی پاکستان درست سمت میں گامزن تھا، انڈسٹرلائزیشن کی جانب جا رہا تھا لیکن 70 کی دہائی میں مختلف سوچ آ گئی، نیشنلائزیشن آ گئی، پاکستان پر جمود طاری کردیا اور آج تک پاکستان اس سوچ سے نہیں نکل سکا۔وزیر اعظم نے کہا کہ یہ بہت اچھا قدم ہے کہ ہم نے فیصلہ کیا کہ ہم اپنے اسٹنٹس بنائیں گے، دنیا میں بہت کم ملک ایسے ہیں جو خود اسٹنٹس بنا رہے ہیں، جو ملک جوہری ٹیکنالوجی تیار کر سکے اس کے لیے تو بہت سی چیزیں آسان ہونی چاہیے تھیں۔انہوں نے کہا کہ سنگاپور ایک چھوٹا ملک ہے جس کی 300ارب ڈالر کی برآمدات ہیں اور ہمارے 22کروڑ لوگوں کے ملک کی 25ارب ڈالر کی برآمدات ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ ہم غلط سمت میں گامزن ہیں۔


ای پیپر