بھارت دہشت گردی کی سرپرستی بند کرے
16 اکتوبر 2020 (09:48) 2020-10-16

وزیراعظم عمران خان نے اب تک کشمیریوں کے حق میں ہر فورم پر آواز بلند کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان امن کی خواہش رکھتا ہے اور بھارت کے ساتھ کسی بھی مکالمے کا خیرمقدم کرے گا اگر بھارت مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کی زندگی معمول پر لائے۔ کشمیریوں کو مذاکرات میں پرنسپل پارٹی تسلیم کرے اور بھارت پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی سرپرستی بند کرے۔ بھارت کی طرف سے کسی بھی قسم کی غلطی کے نتیجہ میں پاکستان کی طرف سے سخت ردعمل آئے گا۔

معاون خصوصی برائے قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف نے بھی وزیر اعظم عمران خان کے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے بھارت پر واضح کیا ہے کہ اگر بھارت ایک قدم آگے بڑھا تو پاکستان دو قدم آگے بڑھے گا۔ہمیں بڑوں کی طرح بیٹھ کر بات کرنی چاہیے۔کشمیر اور دہشت گردی دو مسئلے ہیں اور پاکستان دونوں کے بارے میں بات کرنا چاہتا ہے۔معید یوسف نے بھارتی صحافی کو باور کرایا کہ پاکستان خطے میں امن کے لیے کوشاں ہے لیکن بھارت کی ہندتوا حکومت کی ظالمانہ پالیسیوں حائل ہیں۔مودی حکومت توسیع پسندانہ پالیسیوں کی وجہ سے خطے میں تنہا رہ گئی ہے۔ بھارت نے ہمیشہ پاکستان کے خلاف دہشت گردی کا جھوٹا بیانیہ بنایا۔  جبکہ انٹرویو میں ہندوستان کی پاکستان میں دہشت گردی کے نئے ثبوت پیش کیے۔

 پاکستان کے پاس ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں بھارت کے ملوث ہونے کے ثبوت موجود ہیں۔پاکستان کے پاس بھارت کی جانب سے دہشت گردوں کو مالی امداد فراہم کرنے کے بھی ثبوت موجود ہیں اور یہ کہ بھارت نے اے پی ایس حملے کو سپانسر کیا جس میں معصوم بچے اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ حملے سے قبل ٹی ٹی پی کمانڈر کو بھارت سے کی جانے والی 8 فون کالز کا ریکارڈ موجود ہے جبکہ ایک ہمسایہ ملک میں بھارتی انٹیلی جنس ہینڈلرز نے گزشتہ دو برس میں کراچی میں چینی قونصل خانے، گوادر میں پی سی ہوٹل اور اسٹاک ایکسچینج پر 

حملے کروائے تھے۔اس کے علاوہ بی ایل اے کے دہشت گرد نے نئی دہلی کے ایک ہسپتال میں علاج کروایا ہے۔ حال ہی میں 'را' افسران کی نگرانی میں افغانستان میں ٹی ٹی پی اور دہشت گرد تنظیموں کو ضم کیا گیا اور اس کے لیے 10 لاکھ ڈالر دیے گئے۔ را نے ایک پڑوسی ملک میں موجود سفارت خانے کے ذریعے چائنیز کونسلٹ، پی سی گوادر اور سٹاک ایکسچینج پر حملہ کروایا۔حال ہی میں را افسران کی نگرانی میں افغانستان میں ٹی ٹی پی اور دہشت گرد تنظیموں کو ضم کیا گیا اور اس کے لیے 10 لاکھ ڈالر دیئے گئے۔ چینی قونصلیٹ حملے میں ملوث اسلم اچھو کے پرائمس ہسپتال نیو دہلی میں علاج کے ثبوت موجود ہیں۔ سمجھوتہ جیسی دہشتگردی میں ملوث ہندو پرست دہشتگردوں کوہندوستانی عدالتوں نے رہا کر دیا۔

پاکستان نے بھارت کے ساتھ اپنے تعلقات معمول پر لانے کیلئے کئی مثبت اقدامات کئے مگر بھارتی لیڈروں نے متواترکئی متنازعہ بیانات دیے جن سے ماحول نا خوشگوار ہو گیا۔ ہماری حکومت کئی بار بھارت کو یقین دلانے کی کوشش کرچکی ہے کہ پاکستان کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں کوئی مداخلت نہیں کی جا رہی۔ بھارت کو شبہ ہے تو کنٹرول لائین پر غیر جانبدار مبصرین  تعینات کئے جا سکتے ہیں لیکن بھارتی حکومت یہ تجویز کو قبول کرنے کو تیار نہیں۔ بھارتی لیڈر ایک طرف مذاکرات کی بات کرتے ہیں تو دوسری طرف پاکستان پرمقبوضہ کشمیر میں مداخلت کابے بنیاد الزام عائد کرتے ہیں۔دنیا کا ہر باشعور فرد اس سے بخوبی اندازہ کر سکتاہے کہ بھارتی لیڈر پاکستان کے ساتھ مذاکرات کیلئے مخلص نہیں ہیں اور وہ آئندہ انتخابات کے موقع پر اپنے عوام کو گمراہ کرنے اور اس طرح الیکشن جیتنے کی تیاری کر رہے ہیں۔بھارتی لیڈر صرف دنیا کو یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ وہ پاکستان کے ساتھ تعلقات معمول پر لانا چاہتے ہیں حالانکہ انہوں نے دل سے کبھی پاکستان کے وجود کو تسلیم نہیں کیا۔

 ہندوستان کی کشمیریوں پر بربریت اور فوجی محاصرے کو ختم کیے بغیر مذاکرات ناممکن ہیں۔ کشمیری سیاست دانوں نے اعتراف کیا کہ مقبوضہ کشمیر میں کوئی بھی اب بھارتی قبضے میں رہنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ کشمیری پاکستان کے مطابق تنازع میں اصل فریق ہیں اور ان کی خواہشات اور امنگوں کو کسی بھی مکالمے میں لازمی رکھا جائے۔ دنیا کو معلوم ہے کہ کشمیری ہندوستان کے غاصبانہ قبضے کے سائے تلے زندگی گزارنے کو تیار نہیں۔کشمیری ہندوستان سے نفرت کرتے ہیں۔پاکستان اپنے پڑوس میں قیام امن کیلئے کوشاں ہے۔تنازعہ کے حل اور کشمیریوں کی امنگوں کو پورا کرنے کے لئے پاکستان اقوام متحدہ کی قراردادوں کے ساتھ ہے۔ بھارتی پروپیگنڈا مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے اصولی موقف کو تبدیل نہیں کر سکتا۔بھارتی وزیر اعظم مذاکرات کے ہر راستے کو بند کرنے میں مصروف ہے۔

بھارتی حکمران کشمیریوں کی کوئی بات سننے کو تیار نہیں اور ان کے جذبہ حریت کو دبانے کیلئے آٹھ لاکھ سے زائد فوج کشمیر میں تعینات کر رکھی ہے۔ جو نہتے شہریوں پر بے پناہ مظالم ڈھارہے ہیں۔ ابتک لاکھوں کشمیری نوجوان بڑے بوڑھے عورتیں اور بچے اپنی آزادی کیلئے جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔ ان لوگوں نے اپنے مادر وطن کے حصول کیلئے سروں پر کفن باندھ رکھا ہے اور جب کوئی قوم اپنی جان ہتھیلی پر رکھ لیتی ہے تو پھر زمانے کے حوادث اسکی راہ نہیں روک سکتے۔

ڈاکٹر معید یوسف نے انکشاف کیا کہ بھارت نے پاکستان کو مذاکرات کا پیغام بھیجا ہے۔ بھارت نے ہمیشہ وقت ٹالنے کیلئے مذاکرات کا ڈھونگ رچایا۔اس بار پاکستان نے مسئلہ کشمیر پر بامعنی مذاکرات کے لیے شرائط رکھتے ہوئے کہا کہ اگر مقبوضہ کشمیر پر بامعنی مذاکرات کے لیے بھارت سنجیدہ ہے تو نئی دہلی کو پہلے مقبوضہ کشمیر کے تمام سیاسی قیدیوں کی فوری رہائی کی جائے اور غیر انسانی فوجی محاصرے کو ختم کیا جائے۔ بھارت، مقبوضہ کشمیر میں آبادی کے تناسب کی تبدیلی سے متعلق لاگو قانون کو منسوخ کرے اور ادھر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکے۔


ای پیپر