کورونا کا دو سرا حملہ
16 اکتوبر 2020 (09:44) 2020-10-16

پہلے پہل جب کر و نا کی لہر آ ئی تھی تو با قی دنیا کی طر ح وطنِ عز یز بھی اس کے حملو ں سے محفو ظ نہیں رہ سکا تھا۔ اپر یل مئی جو ن جو لا ئی کے مہینو ں میں ایک دہشت تھی جو ہر خا ص عا م پہ طا ری تھی۔ دن بد ن کیسیز اور اموا ت کی تعدا د میں اضا فہ دیکھنے کو مل رہا تھا۔ یہا ں تک کہ ایک رو ز میں اموا ت کی تعدا د سر کا ری اعدا و شما ر کے مطا بق ایکسو ستا ون تک جا پہنچی تھی۔ تا ہم یہی وہ مقا م تھا جہا ں سے کرونا کی شدت میں کمی وا قع ہو نا شرو ع ہو ئی۔ وجہ کیا تھی؟ اگر کہیں کہ اس کمی کی و جہ پا کستا ن کے جغرا فیا ئی حا لا ت تھے تو یہ مفر و ضہ یو ں غلط ثا بت ہو تا ہے کہ بھا رت اور ایران پا کستا ن کے با لکل بغل میں وا قع ہیں، تو پھر وہا ں کمی کیو ں نہیں آ ئی؟۔ بہرحال سائنسی طور پہ کو ئی کچھ بھی کہے، خو شگوا ر حقیقت یہ تھی کہ کچھ عر صہ پہلے تک ڈیلی کیسیز کی تعدا د کم ہو تے ہو تے تین چا ر سو تک نیچے گر چکی تھی اور ڈ یلی امو ات کی تعدا د صر ف چا ر پا نچ تک رہ گئی تھی۔ لیکن اب پھر سے ڈیلی اموات کی تعد ا د ڈ بل فگر میں د اخل ہو چکی ہے۔ دوسری طر ف کورونا وائرس کا پازیٹویٹی ریٹ یعنی ٹیسٹوں کی مجموعی تعداد میں مصدقہ مریضوں کی تعداد میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے اور قریب چھ ہفتے تک دو فیصد سے کم رہنے کے بعد حالیہ دنوں یہ شرح دو فیصد سے تجاوز کر گئی ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ہمارے ملک میں کورونا وائرس کی کنفرم مریضوں کی تعداد میں ایک بار پھر اضافہ ہورہا ہے۔ چنانچہ آزاد جموں و کشمیر کے بعد کراچی اور اسلام آباد کے مخصوص علاقوں میں بھی سمارٹ لاک ڈاؤن بجا طور پر اس توقع کے ساتھ شروع کیا گیا ہے کہ اس سے وبا پر قابو پانے اور اس کا دائرہ محدود رکھنے میں مدد ملے گی۔ شہری انتظامیہ کی جانب سے یہ بروقت فیصلہ کورونا کے پھیلاؤ کا خطرہ کم کرنے کے لیے ضروری تھا اور یہ واضح ہے کہ نئے کیسز سامنے آنے پر سمارٹ لاک ڈاؤن کا دائرہ دیگر علاقوں تک بڑھایا جاسکتا ہے۔ ان حالات میں حکو مت کی جانب سے عوام سے احتیاطی تدابیر پر عمل کی اپیل مستحسن ہے۔ کورونا وائرس کی موجودہ صورت حال میں سب سے زیادہ خطرات ایسے مقامات سے ہیں جہاں ہجوم معمول سے زیادہ ہوتا ہے اور لوگ ماسک نہیں پہنے 

ہوتے یا دوسری احتیاطی تدابیر اختیار نہیں کرتے۔ ہمارے شہروں میں ایسے مقامات کم نہیں، اس لیے احتیاط کی جانب توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔ یہ واضح ہے کہ عوام ہی اس وبا کا پھیلاؤ روک سکتے ہیں اور اس سے بڑی حقیقت اور کیا ہوگی کہ یہ ان کے اپنے ہی حق میں ہے کہ وہ اس جان لیوا بیماری سے بچے رہیں گے۔ یہ لوگوں کے بس میں ہے کہ سماجی فاصلہ، ماسک اور دیگر ضروری احتیاطیں بروئے کار لاکر وائرس کی زنجیر نہ بننے دیں۔ مگر شادی ہالوں، بسوں اور بازاروں میں جو غیرمحتاط ہجوم ہیں، ایسا لگتا ہے کہ انہیں اس کا کوئی احساس نہیں۔ یہ ایک طرح سے بیماری مول لینے والا معاملہ ہے۔ اس صورت حال میں حکومت کا فرض ہے کہ لوگوں کو ان کی ذمہ داری کا احساس دلایا جائے۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ یہ ذمہ داری احسن طریقے سے پوری کی جارہی ہے۔ حکومت نہ صرف عوام کو بار بار تلقین کررہی ہے کہ ایس او پیز پر عمل کریں بلکہ کورونا کیسز سامنے آنے کے بعد وہ متعلقہ علاقے میں سمارٹ لاک ڈاؤن بھی کرتی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ جب یہ ثابت شدہ ہے کہ ہجوم اور غیرمحتاط رویے کورونا کے پھیلاؤ کا سبب بنتے ہیں تو حکومت وبائی کیسز سامنے آنے کا انتظار کیے بغیر کارروائی کیوں نہیں کرتی؟ ایسے شادی ہال، دکانیں یا دیگر مقامات جہاں عوام کا ہجوم مقررہ حدوں سے تجاوز کرتا ہے وہاں قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔ دیکھنے میں آ رہا ہے کہ عو ام نے اس مو ذی بیما ری کے خطر ے کو ہلکا لینا شر وع کر دیا ہے۔ چنا نچہ ضر ور ت اس امر کی ہے کہ ہم لو گ احتیا ط میں کم از کم اسی سنجید گی کا مظا ہر ہ کر یں جیسا ہم نے اپریل مئی جو ن جو لا ئی کے مہینو ں میں کیا تھا۔ کو شش ہو نی چا ہیے کہ حا لا ت اس نہیج پہ نہ پہنچ پا ئیں کہ پو رے ملک کو مکمل لا ک ڈا ؤ ن کا سا منا کر نا پڑ جا ئے۔ کہنے کی ضر ورت نہیں کہ ہم مہنگا ئی اور بیر و ز گا ری کا مز ید بو جھ بر دا شت کر سکیں۔ضروری ہے کہ ضلعی انتظامیہ اس سلسلے میں کاروباری طبقے کی انجمنوں کو اعتماد میں لے کہ وہ کورونا وبا کی احتیاطی تدابیر پر عمل یقینی بنائیں اور جہاں عمل نہیں کیا جارہا ان کاروباری مراکز کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ کاروباری طبقے کی انجمنوں کو ذمہ داری دی جائے کہ وہ اپنے حلقوں میں ان تدابیر پر عمل کروانے کی ذمہ داری لیں کیونکہ کاروبار کھولنے کی اجازت ایس او پیز پر عمل درآمد سے مشروط تھی۔ بسوں، ویگنوں اور ریل گاڑیوں میں احتیاطی تدابیر کی جو صورتحال ہے وہ بھی وائرس کے پھیلاؤ کے لیے دعوت عام ہے، مگر پبلک ٹرانسپورٹ میں ان احتیاطوں کو نظر انداز کیا جاتا ہے تو اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ حکومتی مشینری اس جانب سے غافل ہے۔ متعلقہ حکام اگر توجہ فرمائیں تو پبلک ٹرانسپورٹ کو کورونا وائرس کی ترسیل کا ذریعہ بنانے سے بچایا جاسکتا ہے۔ ہم سمجھ سکتے ہیں کہ کورونا وائرس ابھی اسی حالت میں موجود ہے جیسے رواں برس کے اوائل میں تھا۔ اس مہلک وبا کے وائرس سے دفاع اور تدارک کا کوئی ذریعہ سوائے احتیاطی تدابیر کے نہیں اور اس جانب سے غفلت کا مظاہرہ کرنے کا نتیجہ خدانخواستہ بڑے پیمانے پر وبا کے پھیلاؤ کی صورت میں سامنے آیا تو حکومت کے پاس سوائے لاک ڈاؤن کے کوئی چارہ نہیں ہوگا۔ چنانچہ کاروباری حلقوں کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے تاکہ کئی ماہ کی بندش کے بعد کھلنے والے کاروبار ایک بار پھر بند کرنے کی نوبت نہ آئے۔ حکومتی عہدیداروں کو چاہیے کہ عوام اور کاروباری حلقوں کو اس حوالے سے یاد دہانی کرواتے رہیں۔ ان احتیاطی تدابیر پر عمل یقینی بنانے کے لیے عوام کو شعوری طور پر بیدار رکھنا ہوگا۔ کورونا وبا کی صورتحال، پھیلاؤ کے خطرات اور اس کے معیشت اور سماجی زندگی پر اثرات سے عوام کو آگاہ رکھنا ہوگا۔ وبا کے بڑے خطرات سے بچاؤ کے لیے ایسا کیا جانا ضروری ہے۔ ملک میں سیاسی ہلچل اور حزب اختلاف کی جانب سے بعض شہروں میں جلسوں کے انعقاد کے اعلان کے بعد کورونا وائرس اور سیاست میں بھی ایک تعلق بنتا نظر آرہا ہے۔ اس دوران جب دنیا کورونا کے خلاف جدوجہد میں نازک مقام پر کھڑی ہے اور حقیقی اجتماعات کی بجائے ورچوئل اکٹھ کیے جانے کا رجحان ہے، سیاسی جلسے جلوس کسی طرح بھی برمحل قرار نہیں دیئے جاسکتے۔ اجتماع کا حق یوں تو شہریوں کو حاصل ہے، مگر اس حق کو بروئے کار لانے کا یہ مناسب موقع محل نہیں۔ اس دوران جب کورونا کیسز میں روزبروز اضافہ ہورہا ہے، ہمیں اس پھیلاؤ کو روکنے کے لیے جن اقدامات کی ضرورت ہے ان میں جلسے جلوس کی کوئی گنجائش پیدا نہیں کی جاسکتی۔


ای پیپر