نئے پاکستان میں عام آدمی کی مشکلات
16 اکتوبر 2020 (09:42) 2020-10-16

روٹی، کپڑا، مکان اور علاج معالجہ انسانوں کی بنیادی سہولیات میں شامل ہیں لیکن ان سب میں سے زندہ رہنے کے لئے غذا بنیادی چیز ہے۔ آج سے تقریباً اڑھائی سال قبل پارلیمانی انتخابات میں کامیاب ہونے والی پی ٹی آئی نے عوام کو اپنی جانب راغب کرنے کے لئے جو سب سے بڑا نعرہ لگایا وہ تھا لوٹی ہوئی دولت واپس لا کر عام آدمی کے مسائل میں کمی لائیں گے۔ لیکن پی ٹی آئی کی حکومت جب سے آئی ہے مہنگائی نے عوام کا جینامحال کر دیا ہے۔ دیگر چیزیں جو مہنگی ہو رہی ہیں وہ اپنی جگہ لیکن روز مرہ استعمال ہونے والی اشیاء مثلاً آٹا، چینی، دال، گھی، سبزیاں وغیرہ بھی عام آدمی کی دسترس سے باہر ہوتے جا رہے ہیں۔ انڈے کے نرخ180 روپے فی درجن تک بڑھ گئے ہیں جو گزشتہ برسوں میں سخت سردیوں کے ایام میں بھی 120 روپے فی درجن سے نہیں بڑھے تھے۔ عوام آج آلو، پیاز 100 روپے کلو خریدنے پر مجبور ہیں اور ٹماٹر ایک بار پھر 300روپے فی کلو کے نرخ پر جا پہنچے ہیں۔ مجھے ایک سرکاری اہلکار نے بتایا آج سے دو سال پہلے جتنے پیسوں میں میرے گھر کا پورا مہینہ گزرتا تھا اتنے میں اب صرف 17دن گزرتے ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ لوگوں کو چیزیں سستی ملنی چاہئیں عوام مہنگائی سے بہت تنگ ہیں اور مہنگائی کی وجہ حکومتی معاشی مینیجرز کی سمجھ سے باہر ہے وہ تذبذب میں ہیں کہ مہنگائی کو کس طرح کنٹرول کریں۔ جب کہ بے لگام مہنگائی سے جاں بہ لب عوام الناس کی حالتِ زار دیکھتے ہوئے وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وہ مہنگائی کنٹرول کر کے دکھائیں گے، جس کے لئے تمام ریاستی وسائل بروئے کار لائے جائیں گے جو گرانی اور اس کے سبب بننے والے عوامل کی بیخ کنی کر سکیں۔ اس حوالے سے وزیرِ اعظم کا پیغام مہنگائی مافیا کے خلاف ایک واضح انتباہ ہے۔ تاہم بعض سرکاری اہلکاروں اور نجی شعبے سے متعلق افراد پر مشتمل ملک میں ایک وسیع نیٹ ورک کام کر رہا ہے جس کا طریقہئ واردات ذخیرہ اندوزی کی شکل میں اشیاء کی طلب اور رسد میں مصنوعی عدم توازن پیدا کرنے اور اسمگلنگ پر مبنی ہے۔ بد قسمتی سے سرکاری اہلکار ہی ان کی سرپرستی کرتے ہیں۔ بلیک مارکیٹنگ اور رشوت و بد عنوانی یہ تمام اسباب مل کر اس وقت ملک میں ایک متوازی غیر قانونی معیشت چلانے کا باعث بن رہے ہیں۔ جس سے ایک طرف غریب، تنخواہ داراور مزدور پیشہ طبقات بری طرح پس رہے ہیں تو دوسری جانب حکومتی خزانے میں جانے والے محاصل ان غریب دشمن عناصر کی جیبوں میں جا رہے ہیں۔ اس صورتحال میں جب مستقبل قریب میں شرح نمو میں اضافے کا بظاہر کوئی امکان نظر نہیں آتا حکومت کے معاشی مینیجرز کے لئے صورتحال کو سنبھالنا کسی بڑے امتحان کم نہیں۔ حکومت معیشت کی بہتری کے لئے جو بھی اقدامات کر رہی ہے اس کے نتائج خاطر خواہ نہیں آ رہے ہیں۔ اس لئے حکومت کو کچھ ایسے اسباب پیدا کرنے کی کوشش کرنی ہو گی جو فنانس کے مسائل کو آسانی سے حل کرنے میں مدد دے سکیں۔

کورونا وائرس جس نے پہلے بھی معیشت کو بہت نقصان پہنچایا اور اب اس کی دوسری لہر کے شدید خطرات موجود ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ موسمِ سرما کے آغاز کے ساتھ دسمبر، جنوری کے مہینے میں کورونا کی ایک نئی لہر متوقع ہے لہٰذا حکومت پر دوہری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ عام آدمی کو بھوک سے بچانے کے لئے مہنگائی کو کنٹرول کرے۔ اس کے لئے مہنگائی کے ذمہ دار عناصر سے مذاکرات یا اپیلیں کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے اب حکومت کو ایسے افراد سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنا چاہئے کیونکہ عوام کو اپنی اور اپنے اہلِ خانہ کے لئے دو وقت کی روٹی سے غرض ہے۔ پی ٹی آئی کی حکومت کو اب تقریباً اڑھائی سال کا عرصہ ہو چلا ہے حالات کی خرابی کی ذمہ داری سابقہ حکومتوں پر نہیں ڈالی جا سکتی ہے۔ اگر پی ٹی آئی کی اس بات کو مان بھی لاے جائے کہ ملک میں پائے جانے والے تمام مسائل کی وجہ سابقہ حکومتوں کی ناقص پالیسیاں ہیں تو پھر بھی اس حکومت کے دورِ اقتدار کا عرصہ مسائل کو سلجھانے کے لئے کافی ہے اور اب تک حالات سدھر جانے چاہئے تھے۔

مہنگائی میں اضافے سے عوام کی قوتِ خرید میں نمایاں کمی ہوئی ہے، اس لئے ہمارے سیاسی قیادت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملک کو اقتصادی طور پر خوشحال بنانے کے لئے مل بیٹھ کر منصوبہ بندی کرے۔ اس سے جہاں پاکستان اقتصادی طور پر مضبوط ہو گا وہاں اس سے جمہوریت کو بھی استحکام حاصل ہو سکتا ہے۔ ورنہ دوسری صورت میں عوام سیاسی قیادت کی کارکردگی پر مایوسی کا اظہار کر سکتے ہیں۔ وطنِ عزیز اس وقت معاشی بقاء کی ایک ایسی ہولناک جنگ لڑ رہا ہے جو اس ملک کے حکمران طبقہ، اشرافیہ اور کاروباری ٹرائیکا کی مفاد پرستی کا شاخسانہ ہے جس نے غریب کے منہ سے نوالہ تک چھننے کی ظالمانہ روش اختیار کر رکھی ہے۔ یہ اندازِ حکمرانی عوام دوستی اور جمہوریت سے کمٹمنٹ کا آئینہ دار نہیں، جب تک معاشی ثمرات کا دھارا عوام کی جھگیوں اور غریب خانوں تک نہیں پہنچائیں گے اس وقت تک جمہوریت محفوظ نہیں رہ سکتی اور نہ آمریت کی قبر پر غائبانہ لاتیں رسید کرنے سے کام چلے گا۔ مہنگائی اور عوام کی معاشی بدحالی سے پیدا شدہ حقائق نوشتہئ 

دیوار بنتے جا رہے ہیں۔ خلقِ خدا کے پیٹ میں روٹی نہیں ہو گی، اسے پیاز، چینی، چائے، دال، سبزی اور ٹماٹر مہنگے داموں ملیں اور غریب آدمی کی قوتِ خرید جواب دے جائے تو کب تک قوم سازش ہو رہی، جمہوریت کو ڈی ریل کرنے والی قوتیں سرگرم ہو گئی ہیں کی وضاحتوں کے لالی پاپ سے بہلتی رہے گی۔ چینی مافیا سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے میں تو حکومت کو دیر نہیں لگانا چاہئے تھی مگر ہر ذمہ دار اپنی ڈفلی بجا رہا ہے، چاروں طرف مفاد پرستانہ تحفظات، افسوسناک تاویلات اور وضاحتوں کا بازار گرم ہے۔ غربت، عدم مساوات اور دولت کی غیر منصفانہ تقسیم نے ایک طرف جمہوریت کے ثمرات سے عوام کو محروم کر رکھا ہے تو دوسری جانب ریاستی اداروں کی شکست و ریخت، قانون کی حکمرانی کے فقدان، روزمرہ اشیاء کی من مانی قیمتوں پر فروخت، مئوثر مانیٹرنگ اور ذخیرہ اندوزوں کی گرفتاری اورا نہیں سزا دلانے پر مامور اداروں اور اہلکاروں کی بے بسی جب کہ بد عنوانی، بے حسی، سنگدلی اور مفاد پرستانہ طرزِ عمل نے عوام اور اپوزیشن رہنماؤں کو بھی مایوس کر دیا ہے۔ 

منڈیوں کے معاملات کو درست کرنے اور سرکاری نرخ نامے پر عمل کر وانے کے لئے ضروری ہے کہ حکومت ملک میں سبزیوں اور اناج کی پیداوار بڑھانے کے منصوبوں پر توجہ دے۔ ہمارے ہاں ایک عام آدمی کا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے کہ اس کے وسائلِ آمدنی پر خوراک کے اخراجات کا بوجھ تیزی سے بڑھتا جا رہا ہے۔ ان سارے معاملات کو پیشِ نظر رکھ کر حکومت کو مہنگائی پر قابو پانے کے لئے تمام تر اختیارات اور دستیاب وسائل کو بروئے کار لانے چاہئیں۔ کوئی ایسا لائحہ عمل وضع کرنا چاہئے کہ ایک بار یہ مسئلہ حل ہو جائے تو پھر معاملات معمول کے مطابق خودکار نظام کے تحت آگے بڑھتے رہیں۔ اگر محنت مزدوری کی کمائی سے کوئی غریب پیٹ بھر کر خود اور بیوی بچوں کو دو وقت کی روٹی نہیں کھلا سکتا ہے تو اس بات کی صراحت کی ضرورت نہیں کہ وہ کیونکر زندگی کی دوسری احتیاجات پوری کرے گا۔ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق آڑھتیوں، ذخیرہ اندوزوں اور منافع خوروں نے آٹے اور چینی کے بحران میں اضافی 200 ارب کمائے ہیں۔ منافع خور مافیا کا کام ذخیرہ اندوزی کے ذریعے اشیائے صرف کی مصنوعی قلت پیدا کر کے منڈی میں قیمتیں بڑھانا ہوتا ہے۔ اسمگلنگ مہنگائی کا ایک عام سبب ہے نیز ملکی ضروریات کو پورا کئے بغیر اشیائے صرف کی برآمد بھی اس کی قلت اور نتیجتاً مہنگائی کا باعث بنتی ہے۔ آٹے چینی کے بحران کی شکل میں یہ سب کچھ ہمارے سامنے آ چکا ہے۔


ای پیپر