عالمی برادری انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کرانے کیلئے بھارت پر دباؤ ڈالے: پاکستان
16 اکتوبر 2020 (09:42) 2020-10-16

نیویارک: پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں بند کرانے کے لئے بھارت پر دباؤ ڈالے۔

یہ بات اقوام متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب عامر خان نے نیویارک میں جنرل اسمبلی کی تیسری کمیٹی میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر مچل بیچلٹ کے ساتھ مباحثے میں حصہ لیتے ہوئے کہی۔ انہوں نے بھارت سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کمشنر کی دو رپورٹوں میں شامل سفارشات پر عمل درآمد کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان غیر ملکی مقبوضہ علاقوں کے لئے تحقیقاتی مشن اور حقائق جاننے کے لئے کمیشن کے قیام کی بھرپور حمایت کرتا ہے تاکہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے ذمہ داروں کی جوابدہی یقینی بنانے کے لئے تحقیقات کی جائیں اور شواہد کو محفوظ بنایا جا سکے۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز دفتر خارجہ کے ترجمان زاہد چودھری نے کہا تھا کہ بامقصد مذاکرات اس وقت ممکن ہونگے جب بھارت اس مقصد کے لئے سازگار ماحول پیدا کرے۔ انہوں نے جمعرات کے روز اسلام آباد میں اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ایک سوال کے جواب میں یہ بھی واضح کیا کہ کشمیریوں کی فعال شرکت یقینی بنائے بغیر بھارت کے ساتھ مذاکرات ممکن نہیں ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ بھارت کو غیرقانونی طور پر بھارت کے زیرقبضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی جاری خلاف ورزیاں ختم کرنا ہونگی۔

انہوں نے پاکستان اور چین کی دیرینہ دوستی کیخلاف بھارت کے شرانگیزپروپیگنڈے کی بھی مذمت کی۔ جعلی مقابلوں میں ماورائے عدالت ہلاکتوں، نام نہاد تلاشی اور محاصرے کی کارروائیاں کرنا ہونگی اور کشمیری قیادت کو بھی رہا کرنا ہو گا۔ بھارت کے غیرقانونی زیرقبضہ جموں و کشمیر میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کی سازشوں کو بھی فوری طور پر روکنے کی ضرورت ہے۔

ترجمان نے بھارت کی اعلیٰ قیادت کی طرف سے غیر ذمہ دارانہ اور بلاجواز بیانات مسترد کرتے ہوئے ان کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ ایسے بیانات پاکستان کیلئے بھارت کی منفی سوچ اور ناقابل علاج جنونی کیفیت کے عکاس ہیں۔ ترجمان نے پاکستان اور چین کی دیرینہ اور قریبی دوستی کے خلاف بھارت کے شرانگیز پراپیگنڈے کی بھی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کو اپنے جارحانہ عزائم ترک کرکے اپنا رویہ درست کرنا چاہیے اور ہمسایہ ملکوں کے ساتھ تنازعات پرامن طور پر حل کرنے چاہئیں۔


ای پیپر