کارڈ ختم ہونے لگے
16 اکتوبر 2020 (08:50) 2020-10-16

غداری کارڈ جل چکا ، کرپشن کارڈ پھٹ چکا ، جج کارڈ بھی بہت جلد ناکارہ ہو جائے گا ، تمام اپوزیشن جماعتوں کو بیک وقت نشانہ بنانے کا منصوبہ الٹا گلے پڑ گیا ، آج عالم یہ ہے کہ کھیل وزیر اعظم عمران خان اور انکی حکومت کی بساط سے مکمل طور پر باہر ہے ، طاقت کی مستی نے یہ دن بہر حال دکھانا ہی دکھانا تھا ، کیا تماشہ تھا کہ جب چاہا کسی کو غدار قرار دے دیا ، کسی کو کرپٹ بنا ڈالا ، کسی کو کٹھ پتلی ججوں کے ذریعے تہ و تیغ کردیا گیا ، شاید سوچ یہ تھی کہ “ مطالعہ پاکستان “ کی لت میں مبتلا قوم کبھی ہوش میں آ ہی نہیں سکتی ،آج بھی سارا زور اسی بات پر دیا جارہا ہے کہ صرف مثبت خبریں دیں ،ایسے اعلیٰ دماغوں کو “ سلام “ جو اب تک یہ سوچ رہے ہیں کہ زمینی حقائق کچھ بھی ہوں عوام کو باتوں سے بہلایا پھسلایا جاسکتا ہے ، حالانکہ موجودہ حکمران گروہ کو خود اس بات کا تجربہ بھی ہوچکا تھا کہ پراپیگنڈہ وار بھی اسی وقت اثر دکھاتی ہے جو گراﺅنڈ پر اسکے موافق صورتحال ہو، ویران صحرا میں بھوک اور پیاس کی شدت سے نڈھال کسی شخص کو لاکھ کہا جائے کہ تم جہاں کھڑے ہو یہاں کھانا بھی ہے اور ٹھنڈا پانی بھی اور تمہارے چاروں طرف سکون ہی سکون ہے ، کیا وہ مان لے گا ؟ میڈیا کو زیر کرکے سیاستدانوں کے خلاف کونسا الزام نہیں لگایا گیا ، سرکاری خرچ پر دنیا کا سب سے بڑا سوشل میڈیا سیل بنا کر کیا غضب نہیں ڈھائے گئے ،کیا نیب کوبری طرح سے استعمال نہیں کیا گیا، ثاقب نثار جیسے ججوں کے ذریعے غیر منصفانہ فیصلے نہیں کرائے گئے ، سرکاری اداروں کا گھٹیا استعمال اس سطح پر رہا کہ سیاسی مخالفین پر زبردستی ہیروئین ڈالنے کے لیے اینٹی نارکوٹکس کے حاضر سروس سربراہ تک کو استعمال کیا گیا ، دوسری جانب یہ عالم ہے کہ جنرل (ر)عاصم باجوہ ہوں یا علیمہ خان کوئی پوچھنے والا نہیں ، دو جمع دو چار کے سادہ سوال کی طرح نااہل کرنے کی بجائے فیصل ووڈا کا کیس لٹکتا ہی جارہا ہے ، تخمینے سے تین زیادہ لاگت پر بنی بی آر ٹی بند پڑی ہے ، نیویارک میں ڈیڑھ ارب ڈالر کا روزویلٹ ہوٹل ٹھکانے لگانے کا عمل ڈنکے کی چوٹ پر جاری ہے کوئی ازخود نوٹس لینے والا نہیں ، آٹا ، چینی ، ادویات تک میں اربوں کی دیہاڑیاں لگ رہی ہیں ، کسی کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی ، اب تو خود پی ٹی آئی کے اپنے لوگ کہنے لگے ہیں ملکی تاریخ میں اس سے زیادہ کرپٹ حکومت پہلے کبھی نہیں آئی ، ایسے میں یہ کہنا کہ ہم کسی کو این آر او نہیں دیں گے بھونڈے مذاق سے کے سوا کچھ نہیں ، ویسے بھی این آر او کوئی احسان نہیں ہوتا بلکہ طاقتور اور زیر عتاب فریقین میں جب لڑائی اس موڑ پر پہنچ جائے کہ طاقتور خطرہ محسوس کرنے لگے تو وہ زر عتاب فریق کو خود پیشکش کرتا ہے ،بینظیر بھٹو شہید اور جنرل مشرف والا این آر او بھی اس وقت ہوا جب فوجی آمر مجبور ہوگیا تھا ، سنا ہے اپوزیشن جماعتوں کو پیشکشیں اب بھی کی جارہی ہیں ، مولانا فضل الرحمن سے فاصلہ اختیار کرنے کی صورت میں ن لیگ اور پیپلز پارٹی کو ریلیف دینے کی باتیں ہورہی ہیں لیکن اب دیر ہوچکی ، مفاہمت کے نام پر اتنی بار دھوکہ دیا جاچکا ہے کہ کوئی اعتبار کرنے کو تو کجا، آسانی کے ساتھ بات کرنے پر بھی تیار ہوتا نظر نہیں آرہا ،لڑائی ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی جارہی ہے ، حکومت کس تک کنفیوژ ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پوری سوچ وبچار کے باوجود یہ فیصلہ نہیں کیا جاسکا کہ اپوزیشن کو گوجرنوالہ کا جلسہ کرنے کی اجازت دینی ہے یا 

روکنا ہے ، جب صورتحال قابو سے باہر ہوتی نظر آئی تو وفاقی کابینہ کا اعلان آگیا کہ جلسوں کی اجازت دی جاتی ہے ،لیکن یو ٹرن کی روایت برقرار رکھتے ہوئے اب سر توڑ کوشش کی جارہی ہے کہ کسی طرح جلسے کے شرکا کی تعداد کو محدود کیا جاسکے، ابھی تک مرکزی سٹیج کے لیے مقام کی منظوری نہیں دی گئی ، گرفتاریوں کے لیے فہرستیں بن رہی ہیں ، راستے بند کرنے کے لیے کنٹینر پکڑے جارہے ہیں ، مسلح اہلکار چھاپے مارتے پھر رہے ہیں، جاتی امرا حکمران ٹولے کے لیے ڈراﺅنا خواب بن چکا ، مولانا فضل الرحمن نے گوجرانوالہ کے جلسے کے لیے لاہور سے ریلی نکالنے کا اعلان کرکے لزرہ طاری کردیا ، بلاول بھٹو لالہ موسی سے ریلی لے کر جلسہ گاہ پہنچیں گے حکمرانوں کے لیے بہت تکلیف دہ منظر ہوگا ، عمران خان کو گیارہ جماعتی مضبوط اپوزیشن کا احسان مند ہونا چاہیے کہ وہ جلسوں کے لیے انتظامیہ کو درخواستیں دے رہے ہیں ، 2014 کے سپانسرڈ دھرنوں کے دوران اور بعد میں پی ٹی آئی نے اجازت تو دور کی بات کی قاعدے قانون کی پابندی نہیں کی ، بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ جوتے کی نوک پر رکھا ، اس وقت عمران خان کی جانب سے سول نافرمانی کی پرزور کال ہوا میں اڑ گئی تھی ، آج جب ہر کوئی تنگ ہے ، ایسے میں اپوزیشن اتحاد نے سول نافرمانی کی کال دے دی تو لگ پتہ جائے گا، پی ڈی ایم کی تحریک شروع ہونے سے پہلے ہی جنرل ( ر) عاصم باجوہ نے وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے اطلاعات کے عہدے سے استعفی دے دیا ہے ، یہ استعفی پچھلے ماہ “ پاپا جونز پیزا “ سکینڈل منظر عام پر آنے کے بعد بھی دیا گیا تھا ، اس وقت وزیر اعظم نے قبول کرنے سے انکار کردیا تھا ، اب ایسا کیا ہوگیا کہ قبول کرنا پڑ گیا ؟اپوزیشن اتحاد کا مطالبہ اس سے بڑھ کر ہے وہ باجوہ فیملی کی امریکہ سمیت چار بیرونی ممالک میں اربوں کی جائیدادوں کی منی ٹریل مانگ رہے ہیں ، یہ معاملہ صرف ایک عہدے سے استعفے سے ٹل گیا تو معجزہ ہوگا ، امریکہ میں بھاری کاروباری مفادات اور اولاد رکھنے والی شخصیت کو سی پیک اتھارٹی کے چئرمین کی حیثیت سے کام جاری رکھنے کا موقع دیا گیا تو انگلیاں بدستور اٹھتی رہیں گی ، سرکاری خرچ پر انصاف لائرز فورم کی تقریب میں شرکت پر سپریم کورٹ نے وزیر اعظم سے جواب طلب کرلیا ہے ، عدالتی کاروائی کے بعد دوڑیں لگیں تو پتہ چلا کنونشن سنٹر میں تقریب بھی مفت منعقد کی گئی تھی ، تین دن بعد مجبوراً فیس جمع کرانا پڑی ، اس تقریب میں سب سے دلچسپ بات ایس ایم ظفر کے صاحبزادے علی ظفر ایڈووکیٹ کی جانب سے عمران خان کو قائد اعظم قرار دینا تھا ، دلچسپ اس لیے کہ ایس ایم ظفر خود جنرل ایوب ، جنرل ضیا اور جنرل مشرف کو قائد مانتے رہے ہیں ، تقریب کا ایک افسوسناک پہلو بھی تھا جب وزیر اعظم نے یہ کہا کہ آئی ایس آئی کو پتہ ہے میں زندگی کیسے گزارتا ہوں تو تالیاں بجائی گئیں ، اس غیر آئینی اور غیر قانونی کریڈٹ لینے پر شرکا اعتراض کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھے تو بہتر ہوتا کہ خاموشی ہی اختیار کرلیتے ، تیزی کے ساتھ گرم ہوتے سیاسی میدان جنگ میں بات اس حد تک آگے بڑھ سکتی ہے کہ ان کا ذکر بھی سرعام ہونا شروع ہو جائے جو عموماً پردے کے پیچھے بیٹھ کر ڈوریاں ہلاتے ہیں ، اداروں کے خلاف ہونے کی بات سرے سے غلط اور بے بنیاد ہے ، پاکستان میں شاید ہی کوئی ایسا شہری ہو جسے اداروں کی اہمیت کا احساس نہ ہو ، ادارے ویسے بھی ہمارا قومی اثاثہ ہیں ، یہ چند افراد ہوتے ہیں جو اپنے معاملات کو ادارے کے نام پر گڈ مڈ کرنے کی کوشش کرتے ہیں ، ادارے تو اپنا اصل کام کرتے ہیں جو پوری قوم کے لیے ضروری نہیں لازم ہیں ، افراد کے معاملات کو اداروں سے ملانے کی یہ روایت بھی اب جلد تحلیل ہوتی نظر آرہی ہے , اپوزیشن جماعتوں کا اتحاد پورے ملک کی نمائندگی کررہا ہے ، مگر حکومت کو سب سے زیادہ خوف مولانا فضل الرحمن سے ہے ، وزراءچیخ رہے ہیں کہ مدرسوں کے طلبہ کو استعمال کیا جائے گا ، یہ احمقانہ اور خلاف حقیت ہے ، جے یو آئی نے پچھلے سال جو دھرنا دیا تھا اس وقت کوئی ایک بھی دینی مدرسہ بند نہیں ہوا ،جے یو آئی کے کارکن بہت بڑی سٹریٹ پاور ہیں ، اس کے علاوہ بھی حالات اس نہج پر جارہے ہیں کہ کئی غیر سیاسی طبقات بھی احتجاجی تحریک میں شامل ہوسکتے ہیں ، کریک ڈائون الٹا پڑے گا ، خوفزدہ حکومت نے کنٹینر لگا کر سخت حماقت کی ، مشتعل مظاہرین نے راستے خود کھولنے شروع کردئیے تو بات اقتدار کے ایوانوں تک جائے گی ، ویسے بھی فائنل رائونڈ شروع ہوچکا ،کورونا کا ذکر اس حکومت کو زیب نہیں دیتا ، ہاں رہ گئی دہشت گردی کی بات تو وہ بھی زیادہ خوفزدہ نہیں کرسکتی ، دہشت گردی سے یاد آیا جس روز ترجمان اعلی شیخ رشید نے یہ تینوں وارننگ جاری کیں ، اسی شام کراچی میں معررف عالم دین مولانا ڈاکٹر عادل خان کو ڈرائیور سمیت سرعام شھید کردیا گیا ، اب پیپلز پارٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ اس کیس میں شیخ رشید کو شامل تفتیش کیا جائے ، اس پر اعتراض کی کوئی گنجائش ہے کیا ؟۔


ای پیپر