گزشتہ سال دنیا بھر میں ایک کروڑ افراد تپ دق کا شکار ہوئے، ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ
16 اکتوبر 2020 (08:11) 2020-10-16

جنیوا: عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ گزشتہ برس دنیا بھر میں ایک کروڑ افراد تپ دق یا ٹی بی کا شکار ہوئے، ان میں سے تقریباً 14 لاکھ موت کے منہ میں چلے گئے۔

اپنی ايک تازہ رپورٹ میں ڈبلیو ایچ او نے خبردار کیا ہے کہ ٹی بی کے خلاف حالیہ برسوں میں قابل قدر اقدامات کے باوجود اب خطرہ ہے کہ کورونا کی وبا ان کوششوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے کیونکہ زیادہ تر ممالک اور ماہرین کی توجہ کووڈ 19 پر ہی لگی ہوئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق خدشہ ہے کہ تپ دق کا شکار ہونے والے بہت سے لوگوں کی تشخیص ہی نہ ہو پائے اور نہ ہی انہیں علاج معالجے کی سہولت مل پائے۔

تپ دق ایک مرض ہے جو جرثومہ کی وجہ سے ہوتا ہے۔ جرثومے ایک چھوٹے سے غیر مرئی اجسام ہوتے ہیں جو ہر جگہ بشمول انسان کے جسم کے اندر بھی پائے جاتے ہیں۔ زیادہ تر جرثومے غیر مضرت رساں اور یہاں تک کہ مفید ہوتے ہیں لیکن کچھ جرثومے مضرت رساں ہوتے ہیں اور ایسے امراض کا باعث ہو سکتے ہیں جنہیں ہم انفیکشن کہتے ہیں۔ ٹی بی کا سبب بننے والے جرثومے اسی قسم کے جرثومے ہوتے ہیں۔ اگر یہ جرثومہ خود کو جسم کے اندر کسی حصے سے منسلک کر لیتا ہے اور بڑھتا جاتا ہے اور جسم بذات خود اس کی مدافعت کا انتظام نہیں کر پاتا تو، آپ کو ٹی بی کا مرض الحق ہو سکتا ہے۔ پھیپھڑوں میں ٹی بی ہو جانا سب سے عام ہے لیکن یہ آپ کے جسم کے دیگر اجزا میں بھی ہو سکتا ہے۔

ٹی بی کے جرثومے سے متاثر ہونے والے افراد لازمی طور پر بیمار نہیں پڑتے ہیں۔ اندازہ یہ ہے کہ دنیا کی قریب ایک اعشاریہ تین آبادی اپنے جسموں میں ٹی بی کے جرثومے لیے پھرتی ہے لیکن صرف بعض افراد میں یہ مرض فروغ پاتا ہے۔ انفیکشن کی زد میں آنے والے بعض افراد کے بیمار پڑنے کی وجہ یہ ہے کہ ان کی مامونیت میں کمی آگئی ہوتی ہے۔ یہ تخفیف شدہ مامونیت دیگر امراض، تناؤ، موسم کی تبدیلی، ناقص تغذیہ، خوراک کی تبدیلی یا دیگر وجوہات کے چلتے ہو سکتی ہے۔ کسی فرد کے اس انفیکشن کی زد میں آنے کے بعد اس مرض کے پھوٹ پڑنے میں سالوں کا وقفہ لگ سکتا ہے۔

تپ دق ٹیوبر کلوسس بیکٹیریا مائکوبیکٹیریم ٹیوبر کلوسس کے ذریعہ پیدا ہونے والی ایک بیماری ہے۔ اعلی آمدنی والے ممالک کے مقابلہ میں کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں ٹی بی زیادہ رائج ہے۔ ٹی بی دنیا کے ہر حصے میں موجود ہے۔ تاہم، 2014ء میں ٹی بی کے معاملات کی سب سے بڑی تعداد جنوب مشرقی ایشیا اور افریقہ میں موجود تھی۔ فعال تپ دق کے انفیکشن کی علامات میں کئی ہفتوں تک رہنے والی کھانسی، لعاب دار یا خون والی کھانسی (بلغم)، بخار، رات کو پسینہ آنا، بخار، اور سینہ میں درد شامل ہیں۔ کچھ لوگ علامات کے ظاہر ہوئے بغیر تپ دق سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ اسے پوشیدہ تپ دق کہا جاتا ہے۔ پوشیدہ تپ دق فعال بیماری کا باعث بن سکتا ہے۔ پوشیدہ تپ دق سے متاثر کچھ لوگ کبھی بیمار نہیں پڑتے ہیں۔

تپ دق کے بیکٹیریا متاثرہ سانس کے قطروں کے ذریعے پھیلتے ہیں، جیسے کہ وہ بیماری میں مبتلا لوگوں کے کھانسنے یا چھینکنے، یا یہاں تک کہ بات کرنے پر پیدا ہوتے ہیں۔ ایک غیر متاثر شخص متاثرہ بوندوں کو سونگھر کر اپنے پھیپھڑوں میں لے سکتا ہے۔ پوشیدہ تپ دق کے انفیکشنز سے متاثر لوگ اپنے آس پاس موجود لوگوں میں تپ دق کے بیکٹیریا نہیں پھیلاتے ہیں۔


ای پیپر