آزادی مارچ اور دھرنے کے جواز
16 اکتوبر 2019 2019-10-16

جب تحریک انصاف نے 2014 ء میں اسلام آباد میں دھرنا دیا تو اس کی بنیاد صرف ایک مطالبہ تھا کہ 2013 ء کے انتخابات میں بدترین دھاندلی ہوئی ہے۔ تحریک انصاف کے اس دھرنے کی مخالفت تمام سیاسی جماعتوں نے کی اور صرف جناب طاہر القادری بغضِ نواز شریف میں عمران خان کے ساتھ اس دھرنے میں شامل ہوئے ۔یہ بھی حقیقت ہے کہ دھرنے کوافرادی قوت طاہر القادری کی تنظیم نے ہی فراہم کی تھی ورنہ تحریک انصاف کی عددی قوت کا بھرم تو لاہور کی حدوود سے باہر نکلتے ہی کھل گیا تھا۔ آج جب جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ کے مولانا فضل الرحمٰن نے آزادی مارچ اور دھرنے کا اعلان کیا ہے تو اس کے پس منظر میںانتخابات میں دھاندلی تو ایک طرف رہ گئی سیاسی، معاشی صورتحال اور آئینی و قانونی حقوق کی بدحالی کی ایک طویل فہرست بھی ہے اور حزب اختلاف کی تمام سیاسی جماعتیں آزادی مارچ کی حمایت بھی کررہی ہیں ۔دلچسپ بات یہ ہے کہ مولانافضل الرحمٰن کے آزادی مارچ کو تقویت اور شہرت جمعیت کی بجائے حکومتی اقدامات سے زیادہ ملی ہے۔ تحریک انصاف حکومت کے وزراء اور ترجمان جس انداز سے آزادی مارچ کی مخالفت کررہے ہیں اور روکنے کے لیے اقدامات کا ذکر کررہے ہیں اس کو دیکھ کر یہی کہا بنتا ہے کہ :

تھا زندگی میں بھی مرگ کا کھٹکا لگا ہوا

اڑنے سے پیشتر بھی میرا رنگ زرد تھا

مولانا کے آزادی مارچ کا پہلا جواز وہی ہے جو نواز شریف ایک عرصے سے پیش کررہے ہیں۔ اقتدار سے برطرفی کے بعد ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کا نعرہ ہی ان کے خطبات کا محور رہا ہے۔ نواز شریف مُصر ہیں کہ وہ اقتدار کی سیاست کی بجائے اقدار کی سیاست کر یں گے ۔ منتخب حکومتوں کو سازشوں کے ذریعے ختم کرکے پاکستان کے ووٹروں کے حق کی جو تذلیل کی جاتی رہی ہے وہ اس سلسلے کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنا چاہتے ہیں۔اس کے لیے انہوں نے مزاحمت کا راستہ اختیار کیا ہے اور یقیناََ وہ اس کے مضمرات سے بھی آگاہ تھے اوراس حقیقت سے بھی آگاہ تھے کہ یہ راستہ انھیں پسِ دیوارِ زنداں لے جائے گا لیکن وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ عوام کی عدالت اور تاریخ میںانھیں سرخرو بھی یہی راستہ کرے گا۔

دوسرا بنیادی جواز آزادی رائے کے اظہار پر پابندی اور بدعنوانی کے الزامات پر صرف حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے عہدیداران کو گرفتار کرنا ہے۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر بدترین عتاب ہے۔۔حکومت مخالف تقاریر، پریس کانفرنس اور جلسے نشر کرنے پر پابندی ہے۔ اخبارات میں شائع ہونے والے کالموں پر سخت سنسر شپ عائد ہے۔

مولانا فضل الرحمٰن کی پریس کانفرنس اور جلسے نہ دکھانے پر حکومت کیا جواز پیش کرے گی؟ انتقامی سیاست کی تازہ مثال قید نواز شریف کو دوبارہ گرفتار کرنا ہے۔ اگر پہلے ہی پابند سلاسل نواز شریف کو دوبارہ گرفتار کرکے نیب کی تحویل میں نہ لیا جاتا تو کون سا آسمان گر پڑنا تھا۔ ان سے جو بھی معلومات درکار تھیں وہ ان سے جیل میں جاکر یا پھر جیل سے بلا کر بھی پوچھی جاسکتی تھیں۔

تیسرا اہم جواز معیشت کی دن بہ دن بگڑتی صورتحال ہے۔ تحریک انصاف جس نے اپنی انتخابی مہم میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ وہ ملک میں ایک کروڑ نوکریاں پیدا کرے گی، نوکریاں تو پیدا نہ ہوسکیں مگر آج ملک کا کوئی صنعتی ، تجارتی اور صحافتی شعبہ ایسا نہیں ہے جس نے ملازمین کی تعداد میں بڑے پیمانے پر کمی نہ کی ہو۔ مہنگائی اور بے روزگاری کا نہ رکنے والا سلسلہ ہنوز جاری ہے ۔ اس پر مستزاد یہ کہ وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنا لوجی فواد چوہدری نے تازہ درفطنی یہ چھوڑی ہے کہ عوام سرکاری ملازمتوں کے حصول کے بارے سوچنا بند کردیں ، حکومت تو چار سو محکمے بند کررہی ہے۔ موصوف نے یہ بھی فرمایا کہ زیادہ نوکریاں پرائیوٹ سیکٹر میں ہوتی ہیں حکومت اس کے لیے صرف سازگار ماحول فراہم کرتی ہے۔ لیکن کیا اس کا جواب اثبات میں ہے ؟۔

حکومت کے ہراقدام سے معیشت پر کاری ضرب پڑی ہے۔ اسٹیٹ بنک، ایف بی آر اور وزارت اقتصادیات نے اپنے اپنے طور پر ملک کی معیشت کی بہتری کے حوالے سے اعداد و شمار سے ثابت کرنے کی کوشش کی ہے لیکن ابھی تک کوئی عملی صورت سامنے نہیں آسکی ہے۔ ٹیکس کا ایسا پیچیدہ نظام متعارف کروایا گیا ہے کہ وہ ممالک جہاں شرح خواندگی سوفیصد ہے، ان کے لیے بھی سمجھنا مشکل ہے۔وفاقی کابینہ کے حالیہ اجلاس میں وزیراعظم نے مہنگائی کا نوٹس لے لیا ہے اور اس کے لیے سخت اقدامات کی ہدایات جاری فرمائی ہیں اور ضمن میں چاروں وزرائے اعلیٰ کو بھی طلب کیا ہے۔ لیکن عالمی اور خطے کے تنازعات کے حل کے لیے دن رات کوشاں رہنے اور اس دبائو کے بوجھ کے سبب شاید یہ پہلو وزیراعظم سے اوجھل ہوگیا کہ مہنگائی کی بنیادی وجہ تیل، گیس، بجلی، ادویات کی روز بروز بڑھتی قیمتیں اور ٹیکسوں کی بلند شرح ہے۔ ادارہ شماریات نے ستمبر میں مہنگائی کی شرح 11.40 فیصدبتائی ہے جب کہ عالمی مالیاتی اداروں کے مطابق رواں سال میں مہنگائی کی شرح 13 فیصد تک ہوسکتی ہے۔

آزادی مارچ کی مقبولیت کی ایک بڑی وجہ حکومت کا خارجی محاذ پر بھی ناکام ہونا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں کرفیو اور لاک ڈائون کو 73 روز ہوچکے ہیں اور ہمارا حال یہ کہ ہر جمعہ کو ہم سرکاری اسکول کے بچوں کو بلا کر ان سے تالیاں بجوا کر کشمیر کے مظلوم شہریوں کے غم کی تلافی کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ وزیراعظم نے دو دن قبل ایران کا دورہ کیا ہے جس کا مقصد سعودی ایران تنازعات کے لیے مصالحت کی کوشش بتایا گیا ہے۔ کیا اس دورے میں انھوں نے ایران سے اس بات کا مطالبہ بھی کیا ہے کہ وہ بھارتی تعاون سے تیار ہونے والی بندرگاہ چاہ بہار سمیت دیگر تجارتی معاہدوں پر بھارتی مفادات کو کشمیر میں ہونے والے بھارتی مظالم کے ساتھ منسلک کرے ؟، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں میں ہندوستانی شہریوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے کیا سعودیہ اور دیگر عرب ممالک سے یہ درخواست کی گئی ہے کہ وہ بھارتی شہریوں کو سعودیہ سے بے دخل کرے جب تک بھارت کشمیر کو آزاد نہیں تو کم از کم وہاں مظالم بند نہیں کرتا؟۔ ہم اگر ثالثی کی جان توڑ کوشش کررہے ہیں تو ان ممالک سے بھی ہم خارجی سطح پر غیر معمولی تعاون کی امید کرسکتے ہیں۔ یا ہم اپنی خدمات کے عوض ایک آدھ ارب ڈالر کی امداد تک ہی محدود رہیں گے؟۔


ای پیپر